جانئے کیا ہے نالج سوسائٹی، نالج اِکنامی اور نالج ڈیموکریسی

Updated: April 09, 2021, 7:33 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ان تینوں کا تعلق نالج یعنی معلومات سے ہے، بحیثیت طالب علم آپ کا ان تینوں اصطلاحات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو موجودہ دور میں کثرت سے استعمال کی جارہی ہیں۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

نالج سوسائٹی
نالج سوسائٹی میں معاشرے کے تمام لوگوں کیلئے معلومات کےحصول اور اس کے اشتراک میں آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں ۔ ان کے ذریعے انسانی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہوتا ہے جس میں علم کی حصولیابی، اس کا اشتراک اور اس کا صحیح استعمال اہم عناصر ہوتے ہیں ۔ایسے معاشرے میں ، علمی اثاثے مجموعی دولت کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، جو زمین کی اہمیت ، مزدوری کے حجم اور جسمانی یا مالی سرمایے کو کم کرتے ہیں ۔ نالج سوسائٹی یکساں دلچسپیاں رکھنے والے افراد کی ایک باضابطہ تنظیم ہوتی ہے جو اپنے مفادات کے شعبوں اور اس عمل کے بارے میں اپنے مشترکہ علم کا موثر استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔نالج سوسائٹی کا معاشرتی نظریہ یہ بتاتا ہے کہ جدید معاشرے کی سیاست ، معاشیات اور ثقافت کیلئے علم کس طرح بنیادی عنصر ہے۔علم، معاشی خوشحالی کیلئے تجارت کی جانے والی ایک شے ہے۔ اس سوسائٹی میں ، افراد ، برادری اور تنظیمیں معلومات سے کام لیتے ہیں ۔آج کے علم سے وابستہ ماحول میں ، معلومات معلومات کو جنم دیتی ہیں ، جن سے نئی قابلیت پیدا ہوتی ہے ، اور اس کا نتیجہ بہتر نتیجہ نکلتا ہے۔خیال رہے کہ جب ایک معاشرے میں تمام لوگ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ، اور یہ تمام لوگ مل جل کر اپنی قابلیت کی مدد سے کسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں تو وہ اس میں ۱۰۰؍ فیصد کامیاب ہوتے ہیں ۔ یہ معاشرہ انسانی حقوق کو فروغ دیتا ہے اور تمام لوگوں تک مساوی اور جامع معلومات تک رسائی کی پیشکش کرتا ہے۔ ذیل میں دیئے گئے چار اصولوں پر عمل کرنے والا معاشرہ ’’نالج سوسائٹی‘‘ کہلاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق نالج سوسائٹی کی تشکیل میں مدد دینے والے ۴؍ اصول یہ ہیں : ثقافتی تنوع، تعلیم تک مساوی رسائی، معلومات تک ہر شخص کی رسائی، اور اظہار رائے کی آزادی۔
نالج اِکنامی
نالج اکنامی کھپت اور پیداوار کا ایک ایسا نظام ہے جو فکری سرمایے پر مبنی ہے۔ یہ خاص طور پر سائنسی دریافتوں اور بنیادی اور اطلاق شدہ تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نظام دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تمام معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ نالج اکنامی میں ، کسی چیز کی قدر ایک اہم جز ہے جیسے اس معیشت میں موجود افراد کی معلومات جس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو۔ ایک کم ترقی پذیر ملک کی معیشت زراعت اور مینوفیکچرنگ پر مبنی ہوتی ہے۔ایک ترقی پذیر ملک کی معیشت مینوفیکچرنگ اورخدمات پر مبنی ہوتی ہے ، اور ایک ترقی یافتہ ممالک کی معیشت خدمات پر مبنی ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے ، آر اینڈ ڈی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کی کمپنیاں ، اعداد و شمار کیلئے نئے سافٹ ویئر اور سرچ انجن تیار کرنے والے پروگرامر اور علاج معالجے میں بہتری لانے کیلئے ڈجیٹل ڈیٹا استعمال کرنے والے صحت کے کارکنان نالج سوسائٹی کے اہم عناصر ہیں ۔ معیشت کے یہ افراد روایتی شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں تک اپنی معلومات اور خدمات پہنچاتے ہیں ، جیسے ایسے کاشتکار جو اپنی فصلوں کو بہتر انداز میں منظم کرنے کیلئےسافٹ ویئر، اپلی کیشنز اور ڈجیٹل حل کا سہارا لیتے ہیں ، ایسےروبوٹ جو سرجری وغیرہ میں ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہیں یا اسکول کو وہ طلبہ جو ڈجیٹل اسٹڈی کرتے ہیں ۔عالمی بینک نے نالج اکنامی کے ۴؍ اہم ستون یہ بتائے ہیں :ایسے ادارے جو انٹرپرینورشپ اور معلومات تک رسائی کیلئے مراعات فراہم کرتے ہیں ، ہنر مند مزدوری کی فراہمی اور بہترین نظام تعلیم، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی تک رسائی، اور ایک ایسا اختراعی نظام جہاں تک سب کی رسائی ممکن ہو۔

نالج ڈیمو کریسی
نالج ڈیموکریسی معلومات کا ایسا حصول اور پھیلاؤ ہے جو ملک کے صرف امیر طبقے یا ماہرین تک محدود نہیں ہے بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد اس سے استفادہ کرتی ہے، یعنی معلومات صرف کچھ لوگوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ عوام کا ایک بڑا طبقہ اس سے فیضیاب ہوتا ہے۔ اس کی آسان ترین مثال کتب خانے (خاص طور پر عوامی لائبریری) ہیں ۔ اس کی دوسری آسان مثال انٹرنیٹ ہے جو آج سب کی ضرورت بن گیا ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس کی مدد سے مفت معلومات حاصل کرتی ہے۔ انٹرنیٹ تک ہر شخص کی رسائی ہے اور یہ سب کیلئے کھلا ہوا ہے۔ گزشتہ چند صدیوں کے دوران معلومات کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس عمل کا آغاز پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد ہوا تھا جس کا مقصد عوام میں یکساں طور پر معلومات پھیلانا تھا۔ اس کے بعد کتب خانے قائم کئے گئے، اور پھر آج کی ڈجیٹائزڈ دنیا میں معلومات مفت دستیاب ہیں حتیٰ کہ پرنٹنگ پریس سے شائع ہونے والی کتابیں ، رسالے، جرائد اور جرنلز بھی آن لائن موجود ہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اب کسی بھی مضمون کی معلومات حاصل کرنے کیلئے طالب علم کو کسی ماہر کا انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ انٹرنیٹ پر اس کے متعلق تلاش کرنا ہوتا ہے اور چند منٹ میں وہ اپنی دلچسپی کی مناسبت سے مطالعہ کرسکتا ہے۔ اس کی ایک آسان مثال وکی پیڈیا ہے۔ آج کے ڈجیٹل دور میں کسی بھی کانسپٹ کو سمجھنے کیلئے وکی پیڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے، اس پر اپ لوڈیڈ مشمولات کو دنیا میں بیٹھا ہوا کوئی بھی شخص مزید بہتر بناسکتا ہے، بشرطیکہ اسے کانسپٹ کے متعلق اچھی معلومات ہو۔ معلومات کی فراہمی کو اسی لئے آسان بنایا گیا ہے کہ لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK