Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکا فنکار

Updated: April 03, 2026, 5:00 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

معروف جرمن ادیب فرانز کافکا کی شہرہ آفاق کہانی’’اے ہنگر آرٹسٹ ‘‘ A Hunger Artist کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک زمانہ تھا جب لوگوں کے پاس ٹھہر کر دیکھنے کا وقت تھا۔ وہ محض تماشائی نہیں بلکہ ٹھہرنے اور مشاہدہ کرنے والے لوگ تھے، اور شاید اسی لئے وہ ایسی چیزوں میں دلچسپی لیتے تھے جن میں فوری سنسنی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ کھلنے والا راز ہوتا تھا۔ اسی زمانے میں انسانی برداشت، خاص طور پر بھوک کی برداشت، ایک عجیب اور پرکشش فن کے طور پر ابھری۔ یہ فن نہ صرف جسم کے خلاف ایک خاموش بغاوت تھا بلکہ دیکھنے والوں کیلئے ایک ایسا معمہ بھی تھا جسے وہ سمجھنا چاہتے تھے مگر کبھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتے تھے۔ 
لوگ اس فن کو دیکھنے کیلئے دور دور سے آتے تھے۔ ان کے چہروں پر تجسس ہوتا، آنکھوں میں سوالات، اور قدموں میں ایک غیر ارادی ٹھہراؤ۔ وہ کسی شور یا حرکت کے انتظار میں نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک ساکت منظر کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتے۔ اسی منظر کے مرکز میں ایک آدمی تھا، خاموش، کمزور، اور بظاہر بے حرکت، مگر اسی خاموشی میں اس کا پورا فن چھپا ہوتا تھا۔ یہی وہ شخص تھا جسے سب ’’بھوکا فنکار‘‘ کہتے تھے۔ 
اس کا فن کسی عام اسٹیج پر پیش نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک پنجرے کے اندر محدود ہوتا تھا۔ یہ پنجرہ نہ تو کسی قید کی علامت تھا اور نہ ہی کسی سزا کا اظہار، بلکہ یہ ایک ایسا فریم تھا جس کے اندر اس کا پورا وجود ایک نمائش بن جاتا تھا۔ لوہے کی سلاخوں سے بنا ہوا یہ پنجرہ چاروں طرف سے کھلا ہوتا تاکہ دیکھنے والوں کی نظر اس پر ہر زاویے سے پڑ سکے۔ پنجرے کے اندر کوئی آرائش نہ ہوتی، نہ کوئی سہولت، صرف ایک کمزور سی چارپائی اور ایک گھڑی جس پر اس کے بھوکے رہنے کے دن گنے جاتے تھے۔ لوگ اس گھڑی کو بھی اسی توجہ سے دیکھتے تھے جس توجہ سے وہ خود فنکار کو دیکھتے تھے۔ 
ابتداء میں مجمع بہت بڑا ہوتا تھا۔ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر اس پنجرے کے قریب آتے، کچھ دیر رکتے، اور پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھ جاتے۔ بچوں کی آنکھوں میں حیرت ہوتی، وہ سلاخوں کے قریب آ کر جھانکتے، جیسے وہ اس آدمی کے اندر کوئی راز تلاش کر رہے ہوں۔ بعض بچے اپنی انگلیاں سلاخوں کے درمیان سے اندر ڈالنے کی کوشش کرتے۔ عورتیں عموماً خاموشی سے اسے دیکھتیں، ان کے چہروں پر ایک ہلکی سی اداسی ہوتی، جیسے وہ اس کے اندر کسی ایسی تکلیف کو محسوس کر رہی ہوں جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتیں۔ مرد زیادہ تر شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کرتے، اور اکثر یہی کہتے کہ یہ سب دکھاوا ہے، کوئی نہ کوئی چال ضرور ہے، کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی انسان واقعی اتنے دن بغیر کھائے زندہ رہ سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: اوور کوٹ

اسی شک نے اس فن کو ایک عجیب طرح کی مقبولیت بھی دی تھی اور اسی نے اسے مسلسل امتحان میں بھی رکھا تھا۔ لوگوں کے اسی شک کو ختم کرنے کیلئے بھوکے فنکار کے ساتھ ہمیشہ نگران مقرر کئے جاتے تھے۔ یہ دن رات پنجرے کے پاس بیٹھے رہتے، ان کی نظریں مسلسل اس پر جمی رہتیں، اور وہ اس کی ہر حرکت کو نوٹ کرتے۔ ان کا کام صرف یہ تھا کہ وہ دنیا کو یقین دلا سکیں کہ یہ فنکار واقعی اپنے دعوے پر قائم ہے، کہ وہ واقعی کچھ نہیں کھا رہا۔ مگر یہی نگرانی اس کیلئے سب سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس کے فن پر شک کیا جا رہا ہے، جیسے اس کی سچائی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر ڈال دی گئی ہو۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے، مگر اس سچ کو بار بار دوسروں کے سامنے ثابت کرنا اسے اندر سے تھکا دیتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ اس کے فن کو دیکھ کر خود یقین کر لیں، مگر دنیا کو یقین کرنے کیلئے ہمیشہ ثبوت چاہئے ہوتا ہے۔ 
وہ اکثر سیدھا بیٹھا رہتا، اس کی آنکھیں نیم بند ہوتیں، جیسے وہ کسی گہرے خیال میں ڈوبا ہوا ہو۔ بعض اوقات وہ اپنی نگاہیں مجمع پر ڈالتا، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی درخواست نہیں ہوتی تھی، نہ کوئی شکایت۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، اس کے جسم میں تبدیلیاں آنے لگیں۔ اس کے گال اندر کی طرف دھنسنے لگے، اس کے ہاتھوں کی ہڈیاں نمایاں ہونے لگیں، اور اس کی جلد پر ایک عجیب سی زردی چھا گئی مگر ان سب کے باوجود اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون برقرار رہتا تھا۔ یہ سکون دکھاوا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کیفیت کا اظہار تھا جسے عام انسان سمجھ نہیں سکتے تھے۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے جسم کی قید سے آہستہ آہستہ آزاد ہو رہا ہے کہ اس کی بھوک اب صرف جسمانی نہیں رہی بلکہ ایک روحانی تجربہ بن چکی ہے۔ یہی وہ خاموش فرق تھا جو آہستہ آہستہ اس فنکار کو دنیا سے الگ کر رہا تھا، ایک ایسے راستے پر لے جا رہا تھا جہاں اس کا فن تو باقی تھا، مگر اس کے دیکھنے والے آہستہ آہستہ کم ہوتے جا رہے تھے۔ 
اسی دوران چالیس دن کی حد اس کے سامنے ایک دیوار کی طرح کھڑی رہتی تھی۔ یہ حد صرف وقت کی پابندی نہیں تھی بلکہ اس کے فن پر ایک زبردستی کی لگام تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس حد سے آگے جا سکتا ہے کہ اس کے اندر ابھی وہ قوت باقی ہے جو اسے مزید دنوں تک بھوکا رہنے کی اجازت دیتی ہے۔ مگر اسے روکا جاتا تھا، جیسے کسی دوڑنے والے کو اس وقت روک دیا جائے جب وہ اپنی رفتار کے عروج پر ہو۔ اس کے اور اس کے منتظم کے درمیان یہی سب سے بڑا اختلاف تھا۔ منتظم کیلئے یہ ایک تماشہ تھا جس کی ایک حد ہونی چاہئے تھی، کیونکہ مجمع کی برداشت بھی محدود تھی۔ لوگ چالیس دن تک تو اس فن کو دلچسپی سے دیکھ سکتے تھے، مگر اس کے بعد وہ تھک جاتے تھے، ان کی دلچسپی ختم ہونے لگتی تھی۔ اس لئے اس نے یہ حد مقرر کی تھی، ایک ایسی حد جو فنکار کی صلاحیت پر نہیں بلکہ مجمع کی برداشت پر مبنی تھی۔ مگر بھوکا فنکار اس منطق کو قبول نہیں کر پاتا تھا۔ وہ اکثر سوچتا کہ اگر اسے اپنی حد تک جانے دیا جائے، اگر اسے روکا نہ جائے، تو وہ لوگوں کو کچھ ایسا دکھا سکتا ہے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مگر اسے ہمیشہ اسی مقام پر روک دیا جاتا تھا جہاں سے اس کا اصل سفر شروع ہوتا تھا۔ 
چالیسویں دن کا منظر ہمیشہ ایک جیسا ہوتا تھا۔ مجمع جمع ہوتا، جیسے کسی جشن کیلئے آیا ہو۔ موسیقی بجتی، روشنی بڑھائی جاتی، اور پھر ایک ڈاکٹر آتا جو اس کا معائنہ کرتا۔ ور پھر اعلان کرتا کہ اب اسے کھلایا جائے گا۔ اس لمحے میں ایک عجیب تضاد ہوتا تھا۔ مجمع کیلئے یہ ایک کامیابی کا لمحہ ہوتا تھا، جیسے انہوں نے کسی امتحان کو مکمل ہوتے دیکھا ہو۔ مگر بھوکے فنکار کیلئے یہ شکست کا لمحہ ہوتا تھا۔ اسے پنجرے سے باہر نکالا جاتا، اور وہ اس قدر کمزور ہوتا کہ اپنے قدموں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ دو آدمی اسے سہارا دیتے، اور وہ اپنے جسم کے بوجھ کو سنبھالنے کی کوشش کرتا، مگر اس کی ٹانگیں اکثر اس کا ساتھ نہیں دیتیں۔ 
جب اسے کھانا دیا جاتا، تو وہ اسے ایک فنکار کی طرح نہیں بلکہ ایک مجبور انسان کی طرح قبول کرتا۔ وہ بمشکل ایک لقمہ لیتا، اور یہی وہ لمحہ ہوتا تھا جب مجمع تالیاں بجاتا۔ مگر یہ تالیاں اس کیلئے خالی ہوتی تھیں، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کے فن کی تعریف نہیں بلکہ اس کے ختم ہونے کا اعلان ہیں۔ وہ اندر ہی اندر اس لمحے سے نفرت کرتا تھا، کیونکہ یہ وہ لمحہ تھا جب اسے زبردستی اس دنیا میں واپس لایا جاتا تھا جس سے وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر

پھر اس فن کی مقبولیت کم ہونے لگی۔ پہلے لوگ کم ہوئے، پھر رکنے کا وقت کم ہوا، اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ محض ایک گزرتا ہوا منظر بن کر رہ گیا۔ وہی پنجرہ، وہی چارپائی، وہی گھڑی، مگر اب اس کے سامنے کھڑے ہونے والے چہروں میں وہ ٹھہراؤ نہیں رہا تھا جو کبھی اس کے فن کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ لوگ آتے، ایک نظر ڈالتے، اور آگے بڑھ جاتے، جیسے وہ کسی ایسی چیز کو دیکھ رہے ہوں جس کی اہمیت وہ بھول چکے ہوں۔ اسی لئے بھوکے فنکار کو ایک سرکس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کا پنجرہ جانوروں کے درمیان رکھا گیا۔ ایک طرف ایک شیر تھا جو اپنی طاقت کے مظاہرے سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا، دوسری طرف ایک ریچھ تھا جو اپنی حرکتوں سے لوگوں کو ہنساتا تھا، اور ان دونوں کے درمیان وہ خود تھا، خاموش، ساکت، اور بظاہر بے اثر۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا۔ تماشائی جانوروں کے پنجروں کے پاس رک جاتے، ان کی حرکات کو دیکھتے، ان کی آوازوں پر ردِعمل دیتے، اور پھر آگے بڑھ جاتے۔ بھوکے فنکار کے پنجرے کے سامنے سے وہ اکثر بغیر رکے گزر جاتے۔ 
آہستہ آہستہ اس کا جسم کمزور ہوتا گیا۔ اس کی ہڈیاں زیادہ نمایاں ہو گئیں، اس کی جلد اور پتلی ہو گئی، اور اس کی آنکھیں اندر کی طرف دھنس گئیں۔ مگر اب یہ سب کسی کی نظر میں نہیں آتا تھا۔ وہ اپنے پنجرے میں لیٹا رہتا، کبھی آنکھیں بند کئے، کبھی نیم وا کئے، اور کبھی چھت کی طرف دیکھتا جیسے وہاں کوئی جواب چھپا ہو۔ اس کے اندر اب کوئی بے چینی نہیں رہی تھی، نہ کوئی شکایت، نہ کوئی خواہش۔ وہ اس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں بھوک بھی ایک عادت بن جاتی ہے۔ 
ایک دن سرکس کے ایک ملازم نے اس پنجرے کی طرف نظر ڈالی۔ اس نے دیکھا کہ پنجرے کے اندر ایک کمزور سا جسم تقریباً بے حرکت پڑا ہے۔ وہ قریب آیا۔ پہلے اسے یقین نہیں آیا کہ یہ وہی بھوکا فنکار ہے جو کبھی لوگوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس آدمی کی سانس ابھی باقی ہے، بہت مدھم، مگر موجود۔ اس نے اسے پکارا، آدمی نے آہستہ سے پلکیں کھولیں۔ 
ملازم نے سوال کیا، ’’تم اب بھی بھوکے کیوں ہو؟‘‘ بھوکے فنکار نے کچھ لمحوں تک اسے دیکھا، پھر اس کے ہونٹ ہلے۔ 
’’میں ... اس لئے بھوکا رہا...‘‘ وہ رُکا۔ ’’کیونکہ مجھے کبھی ایسا کھانا نہیں ملا... جو مجھے پسند ہو۔ ‘‘ یہ الفاظ سادہ تھے، مگر ان کے اندر ایک پوری زندگی کا خلاصہ چھپا ہوا تھا۔ یہ کوئی صفائی نہیں تھی، نہ کوئی دلیل، بلکہ ایک اعتراف تھا، ایک ایسا اعتراف جس میں نہ غرور تھا نہ ندامت، صرف ایک خاموش سچ تھا۔ 
اور پھر بھوکا فنکار ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا۔ 
اس کی لاش پنجرے سے ہٹا دی گئی۔ کوئی تقریب نہ ہوئی، کوئی اعلان نہ کیا گیا۔ جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ اس کا پنجرہ صاف کیا گیا۔ اور پھر اس میں ایک چیتا رکھ دیا گیا۔ وہ چیتا زندہ تھا، بھرپور، طاقت سے لبریز۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، اس کی حرکات میں تیزی، اور اس کے اندر ایک ایسی توانائی تھی جو فوراً محسوس کی جا سکتی تھی۔ وہ کھاتا تھا، حرکت کرتا تھا، اور اپنے وجود کا اظہار کرتا تھا۔ لوگ اس کے پنجرے کے سامنے رکنے لگے۔ وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے، اس کی حرکتوں کو دیکھتے، اور اس میں ایک فوری کشش محسوس کرتے۔ وہاں کوئی خاموشی نہیں تھی جسے سمجھنا پڑے، کوئی انتظار نہیں تھا جسے برداشت کرنا پڑے۔ وہاں صرف زندگی تھی، واضح، تیز، اور فوری۔ اور اسی زندگی نے اس خاموش فن کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 
مگر شاید اس کی کہانی کا اصل مطلب اس کے ختم ہونے میں ہی تھا۔ کیونکہ کچھ لوگ دنیا کے مطابق نہیں ہوتے۔ وہ اپنی سچائی کے ساتھ جیتے ہیں، مگر وہ سچائی دنیا کیلئے قابلِ فہم نہیں ہوتی۔ بھوکا فنکار بھی ایسا ہی تھا۔ وہ عظیم نہیں تھا کیونکہ وہ بھوکا رہ سکتا تھا۔ وہ بھوکا تھا کیونکہ وہ دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ اور شاید یہی اس کا اصل فن تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK