EPAPER
Updated: March 07, 2026, 3:19 PM IST | Mumbai
ریونوسوکا آکوتاگاوا کی شہرہ آفاق کہانی ’’راشومون‘‘ Rashomon کا اردو ترجمہ
شام ڈھل چکی تھی، مگر اندھیرا ابھی مکمل طور پر نہیں اترا تھا۔ آسمان پر بادل اس طرح پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی نے راکھ کو پانی میں گھول کر فضا پر چھڑک دیا ہو۔
بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بوندیں مسلسل گر رہی تھیں ؛ بے حس، یکساں ترتیب سے اور انتہائی سرد۔
جاپان کا شہر کیوٹو، جو کبھی شاہی جلال کا مظہر تھا، اب زوال کی تصویر بن چکا تھا۔
قحط، بیماری اور بدامنی نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ گلیوں میں بدبو تھی۔ کئی مکان خالی پڑے تھے۔ اور جو آباد تھے، ان میں بھی زندگی کی روشنی مدھم ہو چکی تھی۔
شہر کے جنوبی کنارے پر ’’راشومون‘‘ نامی ایک عظیم الشان دروازہ کھڑا تھا۔
کسی زمانے میں یہ دروازہ شاہی طاقت کی علامت تھا۔ آج یہ ٹوٹے ہوئے ستونوں، جھڑتی ہوئی چھت اور کائی جمی دیواروں کے ساتھ ایک ویران یادگار تھا۔ اوپر کی منزل میں لاشیں رکھی جاتی تھیں۔ ایسے لوگوں کی لاشیں جنہیں دفنانے والا کوئی نہیں تھا۔
اسی دروازے کے نیچے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے بھیگ چکے تھے۔ بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں بے یقینی اور تھکن تھی۔
وہ کبھی ایک معزز گھرانے میں نوکر تھا۔ اس کا آقا امیر نہیں تو کم از کم باوقار ضرور تھا۔ مگر قحط نے امارت اور وقار دونوں نگل لیا۔ خرچ کم کرنے کیلئے سب سے پہلے نوکر نکالا گیا۔
’’اب تمہاری ضرورت نہیں رہی۔ ‘‘
یہ الفاظ اس کے کانوں میں اب تک گونج رہے تھے۔
اس کے ذہن میں ایک ہی لفظ تھا، ضرورت؟ کیا انسان کی قیمت صرف ضرورت تک محدود ہے؟
بارش تیز ہوگئی۔ اس نے دروازے کے ستون کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ سامنے کیچڑ سے بھری سڑک خالی پڑی تھی۔ کوئی مسافر نہیں، کوئی رکشہ نہیں، کوئی آواز نہیں۔ صرف بارش اور خاموشی سے گرتی بوندوں کی آوازیں۔
اسے بھوک لگی تھی۔ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا لیکن اس وقت اسے بھوک سے زیادہ خوف ستا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شہر میں اب کام نہیں ملے گا۔ لوگ خود بھوکے ہیں، وہ کسی کو کیا کام دیں گے؟ کیا وہ چوری کرے؟ ڈاکہ ڈالے؟ یا بھوک سے مر جائے؟
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
’’اگر میں چوری کروں تو کیا میرا شمار برے انسانوں میں ہوگا؟یا بھوک خود سب سے بڑا گناہ ہے؟‘‘
اس کے اندر دو آوازیں لڑ رہی تھیں۔
ایک کہتی تھی، صبر کرو۔
دوسری کہتی تھی، زندہ رہنا فرض ہے۔
بارش کچھ کم ہوئی تو اس نے اوپر دیکھا۔ دروازے کی سیڑھیاں نیم تاریکی میں گم تھیں۔ اسے یاد آیا کہ لوگ کہتے ہیں وہاں لاشیں رکھی جاتی ہیں۔ اس نے سوچا شاید کوئی پرانا کپڑا، کوئی چیز مل جائے جو بیچ کر کھانا خریدا جا سکے۔ یہ خیال پہلے اسے مکروہ لگا۔ مردوں کے درمیان جانا اور ان کی چیزیں چرانا، اسے گوارا نہیں تھا مگر پھر بھوک نے دلیل دی، مردے کیا ہی کر لیں گے؟
بھوک کے ہاتھوں مجبور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ لکڑی چرچراتی۔ اوپر پہنچ کر ایک بدبو نے اس کا استقبال کیا، لاشوں کے سڑنے اور نمی کی ملی جلی بو۔ اندر اندھیرا تھا۔ چھت کے سوراخوں سے ہلکی سی روشنی آرہی تھی۔ اس روشنی میں اسے چند لاشیں نظر آئیں، بے ترتیب پڑی ہوئی، کچھ کے چہرے ڈھکے ہوئے، کچھ کے کھلے۔
اس کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑک اٹھا۔ وہ پلٹ جانا چاہتا تھا۔ مگر تبھی اسے ایک ہلکی سی حرکت دکھائی دی۔ ایک کونے میں ایک بوڑھی عورت جھکی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ کسی لاش کے سر میں الجھے ہوئے تھے۔ وہ اس کے بال نوچ رہی تھی، ایک ایک کر کے سارے بال۔
نوجوان پر غصہ غالب آگیا۔
’’یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور بوڑھی عورت کا بازو پکڑ لیا۔
’’تم مردوں کی بے حرمتی کرتی ہو؟‘‘
بوڑھی عورت نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھیں چھوٹی مگر تیز تھیں۔
چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا۔
لمحے بھر کیلئے اس کے چہرے پر خوف آیا، پھر غائب ہوگیا۔ ’’میرا ہاتھ چھوڑو۔ ‘‘
’’جواب دو!‘‘ نوجوان کی آواز کانپ رہی تھی، غصے سے یا خوف سے، وہ خود نہیں جانتا تھا۔ بوڑھی عورت نے آہ بھری۔
’’مَیں ان کے بال نکال کروِگ بنانے والوں کو بیچ دیتی ہوں۔ اس سے مجھے چند سکے مل جاتے ہیں۔ ‘‘
’’تمہیں شرم نہیں آتی؟‘‘
بوڑھی عورت نے لاش کی طرف دیکھا، پھر نوجوان کی طرف۔
’’شرم؟‘‘ اس نے آہستگی سے کہا، ’’شرم زندہ لوگوں کیلئے ہوتی ہے۔ یہ مر چکے ہیں۔ انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ نوجوان نے اس کا بازو مزید سختی سے پکڑا۔
’’یہ گناہ ہے!‘‘
بوڑھی عورت ہنس دی، ایک خشک، بے آواز ہنسی۔ ’’گناہ؟کیا تم جانتے ہو یہ عورت کون تھی؟‘‘نوجوان خاموش ہوگیا۔
بوڑھی عورت نے لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ لاش کے سر پر برائے نام ہی بال بچے تھے۔ نوجوان نے منہ پھیرلیا۔
’’یہ سانپ کا گوشت بیچتی تھی اور لوگوں کو بتاتی تھی کہ یہ مچھلی ہے۔ اس نے دھوکہ دے کر پیسے کمائے۔ کیا وہ گناہ نہیں تھا؟‘‘
نوجوان کے پاس جواب نہیں تھا۔
بوڑھی عورت نے اپنا بازو چھڑایا۔
’’میں زندہ ہوں۔ مجھے کھانا چاہئے۔ اگر میں ان کے بال بیچ کر زندہ رہ سکتی ہوں تو یہ میرا حق ہے۔ ‘‘
وہ رک کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
’’اور تم؟ تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
یہ سوال اس کے دل پر تیر کی طرح لگا۔
نوجوان نے نظریں چرا لیں۔ وہ کیا کہتا؟ کیا وہ سچ کہتا کہ وہ بھی کچھ ڈھونڈنے آیا تھا؟
خاموشی چھا گئی۔
بارش کی آواز اوپر سے آ رہی تھی۔
بوڑھی عورت نے لاش کی طرف دوبارہ ہاتھ بڑھایا۔ ’’ہم سب وہی کرتے ہیں جو ہمیں زندہ رکھے۔ ‘‘
یہ جملہ فضا میں معلق ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آئرش جادو
نوجوان کے اندر کچھ بدلنے لگا۔
اگر بقا سب سے بڑی دلیل ہے، تو پھر اخلاق کیا ہے؟ اگر یہ عورت اپنے عمل کو جائز سمجھ سکتی ہے، تو کیا وہ خود کو روکنے کا پابند ہے؟ اس نے اپنے بھیگے ہوئے کپڑوں کی طرف دیکھا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔
اس کے سامنے ایک بوڑھی عورت تھی، کمزور اور تنہا۔ بھوک نے پھر سر اٹھایا۔
وہ اچانک آگے بڑھا اور بوڑھی عورت کو زور سے دھکا دیا۔ وہ گر پڑی۔
’’تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ اس کی آواز میں اب خوف تھا۔ نوجوان نے اس کا چغہ پکڑ لیا۔
’’اگر تم زندہ رہنے کیلئے مردوں کے بال چرا سکتی ہو تو میں بھی زندہ رہنے کیلئے تم سے تمہارا لباس چھین سکتا ہوں۔ ‘‘ بوڑھی عورت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’یہ ظلم ہے!‘‘ نوجوان ٹھہر گیا۔
ظلم؟ کیا وہ ظالم بن رہا تھا؟
مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے دل کو سخت کر لیا۔ ’’یہ بقا ہے۔ ‘‘
اس نے بوڑھی عورت کا چغہ کھینچ لیا اور سیڑھیوں کی طرف دوڑ پڑا۔
پیچھے بوڑھی عورت کی آواز گونجی، مگر وہ رکا نہیں۔ وہ نیچے آیا۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی۔ مگر اسے اب سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
وہ دروازے سے باہر نکل گیا، اور چند لمحوں میں اندھیرے میں گم ہوگیا۔
راشومون کا وہ دروازہ جس نے صدیاں دیکھیں، پھر خاموش کھڑا رہ گیا۔ اوپر لاشیں تھیں اور ایک بوڑھی عورت۔ نیچے بارش تھی۔ اور شہر میں ایک اور انسان تھا جو اب زندہ رہنے کیلئے کچھ بھی کر سکتا تھا۔
صبح ہوئی تو بارش تھم چکی تھی۔ دروازے کے پاس کیچڑ میں پاؤں کے نشانات تھے، دور جاتے ہوئے۔ بوڑھی عورت آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اتری۔ اس کے چہرے پر زخم کا نشان تھا۔ اس نے باہر دیکھا۔
نوجوان کہیں نہیں تھا۔ وہ بڑبڑائی’’ہم سب وہی کرتے ہیں جو ہمیں زندہ رکھے۔ ‘‘
مگر اس بار اس کی آواز میں یقین کم تھا۔
شہر پر بدستور زوال چھایا ہوا تھا۔
لوگ اب بھی بھوکے تھے۔
اخلاق اب بھی بحث کا موضوع تھے۔ مگر راشومون کے دروازے کے نیچے ایک سوال قائم تھا، ’’کیا انسان برا پیدا ہوتا ہے یا حالات اسے برا بنا دیتے ہیں ؟‘‘
کہتے ہیں اس نوجوان کو پھر کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ کچھ کہتے ہیں وہ چور بن گیا۔ کچھ کہتے ہیں وہ سپاہی بنا اور جنگ میں مارا گیا۔ کچھ کہتے ہیں وہ کسی اور شہر جا کر ایک عام آدمی کی طرح جینے لگا۔ مگر یہ سب قیاس ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اس رات بارش کے نیچے، راشومون کے دروازے پر، ایک فیصلہ ہوا تھا۔ ایک دل نے خود کو قائل کیا تھا کہ بقا، اخلاق سے بڑی ہے۔ اور شاید یہی انسانی کمزوری کی سب سے سادہ تعریف ہے۔
موسم بدلتے رہے۔ دروازہ مزید بوسیدہ ہوتا گیا۔ شہر آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا۔ مگر کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ وہ دروازوں، دیواروں اور یادوں میں چپک جاتے ہیں۔
راشومون بھی ایک ایسا ہی دروازہ تھا، جو اینٹوں اور لکڑی سے نہیں، انسانی کمزوریوں سے بنا تھا۔ اور جب بھی بارش ہوتی، ایسا لگتا جیسے آسمان اب بھی وہی سوال دہرا رہا ہو، ’’اگر بھوک تمہیں چور بنا دے، تو قصور بھوک کا ہے یا تمہارا؟‘‘ بارش گرتی رہتی۔ دروازہ اپنی جگہ پر کھڑا رہتا۔ اور انسان، وہ ہمیشہ اپنے فیصلوں کے ساتھ اکیلا رہتا ہے۔