• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آئرش جادو

Updated: February 27, 2026, 6:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

Tristan and Iseult (ٹرسٹن اور ایسولٹ) کے کردار پر لکھی گئی کورنیش اور آئرش کہانی جسے مختلف مصنفین نے اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اس کہانی کا پہلا حصہ تعلیمی انقلاب میں شائع ہوا ہے۔

دوسرا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے


جس رات ٹرسٹن پیدا ہوا، سمندر میں طغیانی تھی۔ لہریں چاندکو چھونے کیلئے پوری طاقت سے اٹھتیں اور چٹانوں پر دم توڑ دیتیں۔ بلانش فور کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔ وہ اپنے نومولود بیٹے کو دیکھنے کی پوری کوشش کررہی تھی مگر کوئی ان دیکھی طاقت اس کی بصارت چھیننے کی کوشش کررہی تھی۔ اسی درمیان اس کی زبان سے ریوالن کا نام نکلا۔ ریوالن ، بلانش فور کا شوہر تھا جو تین دن پہلے غیر ملکی سرزمین پر اپنی سلطنت کا دفاع کرتے ہوئے مرگیا تھا۔ بلانش فور کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ دائی نے ٹرسٹن کو بلانش فور کو دکھانا چاہا لیکن آنسوؤں میں ڈوبی اس کی آنکھیں دھندلا گئیں، بند کھڑکی سے باہر بپھرے سمندر کی جانب اٹھیں اور پھر ساکت ہوگئیں۔
سورج کی پہلی کرن کے کھڑکی تک پہنچنے سے پہلے روہالٹ وہاں پہنچ گیا۔ وہ خاموشی سے ساکت پڑی بلانش فور کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ روہالٹ آسانی سے رونے والا آدمی نہیں تھا لیکن اسے ٹرسٹن کی قسمت پر رونا آگیا۔ وہ کم عمری ہی سے ریوالن کے شانہ بشانہ لڑتا رہا تھا۔ اب نہ ریوالن تھا، نہ بلانش فور۔ بس ان کی نشانی ٹرسٹن تھا۔ 
ٹرسٹن کی پیدائش سے چند گھنٹوں قبل بلانش فور نے روہالٹ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر لڑکا پیدا ہوگا تو اس کا نام ٹرسٹن رکھنا،جس کا معنی ہےغم، اداسی، مایوسی۔
روہالٹ کو معلوم تھا کہ اگر حریف بادشاہ کو ریوالن کے بیٹے کے بارے میں معلوم ہوگیا تو وہ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا لہٰذا اس نے بچے کو دنیا سے چھپانے کا فیصلہ کیا۔ روہالٹ ٹرسٹن کو لئے جنگل کی طرف نکل گیا۔ وہ بلانش فور کے بھائی مارک کے ملک کارنوال میں پناہ لے سکتا تھا لیکن خطرہ اتنا زیادہ تھا کہ روہالٹ نے ٹرسٹن کے بارے میں کسی کو بھی نہ بتانے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کارمیلا

جنگل میں ٹرسٹن کی پرورش شروع ہوئی۔ سال گزرنے لگے۔ ٹرسٹن خاموش طبیعت کا نوجوان تھا لیکن تجسس اس کی رگوں میں تھا۔ جہاں ضروری ہوتا روہالٹ سے سوال پوچھتا ورنہ خاموشی سے جنگوں اور حکمرانی کے اصول سیکھتا رہتا۔ روہالٹ نے غور کیا کہ ٹرسٹن کے اندر تکبر ہے نہ غلبے کی بھوک ۔ روہالٹ نے اسے کبھی نہیں بتایا کہ اس کی رگوں میں شاہی خون دوڑ رہا ہے۔جب ٹرسٹن چودہ برس کا ہوا تو روہالٹ نے کارنوال میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کئی ہفتوں کے سفر کے بعد جب وہاں پہنچا تو بازار سے بادشاہ مارک کی سواری گزرنے کا اعلان ہورہاتھا۔ لوگ ہاتھ باندھے، گردن جھکائے کھڑے تھے۔ تبھی مارک کی نظر اس لڑکے پر پڑی جس کی نظریں اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ پورے ہجوم میں وہ واحد لڑکا تھا جس کی آنکھیں اٹھی ہوئی تھیں۔
بادشاہ نے سپاہیوں کو اشارہ کیا اور کچھ دیر بعد ٹرسٹن اور روہالٹ، مارک کے دربار میں کھڑے تھے۔ ٹرسٹن کی نظریں اب بھی مارک پر جمی تھیں۔ مارک نے روہالٹ سے سختی سے سوال کیا، ’’یہ لڑکا کون ہے؟‘‘   
’’میرے آقا! یہ ٹرسٹن ہے۔‘‘ روہالٹ کی نظریں اب بھی جھکی تھیں۔’’کس کا بیٹا؟‘‘ مارک اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ روہالٹ نے کہا، ’’بلانش فور!‘‘ دربار میں سناٹا چھا گیا۔ مارک تخت سے اٹھا اور تیزی سے ٹرسٹن کی طرف آیا۔’’مَیں یہ آنکھیں کیسے بھول سکتا ہوں۔‘‘ اس نے ٹرسٹن کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، ’’یہ میری بہن کی آنکھیں ہیں۔‘‘ مارک کی اولاد نہیں تھی۔ ٹرسٹن کی آمد نے سبھی کے دل میں امید جگا دی کہ شاید تخت کا وارث یہ ہو۔ مارک اسے اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگا۔ چند دنوں بعد آئرلینڈ کی طاقتور فوج نے کارنوال میں قدم رکھا۔ یہ ظالم تھے جو کمزور سلطنتوں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اس مرتبہ آئرلینڈ کی ملکہ کا وحشی بھائی مورہولٹ آیا تھا جس کے نیزے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ہر وقت زہر میں بجھا رہتا ہے۔ وہ شہر کے بڑے میدان کے عین درمیان غرور سے کھڑا تھا۔ اس نے کہاں، ’’اگر ٹیکس ادا کرتے کرتے تھک گئے ہو تو خون دو۔ اپنے کمزور بادشاہ کو مقابلے کیلئے بھیجو۔ اگر وہ بچ گیا تو آئرلینڈ تم سے کبھی ٹیکس وصول نہیں کرے گا، اور اگروہ مرگیا تو یہاں میری بہن کی حکومت قائم ہوگی۔‘‘ اپنی بات ختم کرکے مورہولٹ تمسخرانہ انداز میں مسکرایا۔ 
کارنوال گزشتہ کئی برسوں سے ٹیکس ادا کررہا تھا۔ ہر سال ٹیکس کے نام پر یہاں کی بہترین چیزیں چھین لی جاتیں۔ ہر سال قیمت بڑھتی جاتی۔ مورہولٹ نے کہا، ’’ہے کوئی جو مجھ سے مقابلہ کرے؟‘‘ سب کی نظریں جھک گئیں۔ اس نے حقارت سے زمین پر تھوک دیا۔ 
تبھی آواز گونجی، ’’مَیں اس سے مقابلہ کروں گا۔‘‘ 
مارک نے تیزی سے کہا، ’’نہیں، ٹرسٹن! تم مرسکتے ہو۔‘‘ ٹرسٹن نے سر جھکا لیا، ’’میں جانتا ہوں۔‘‘
’’پھر کیوں؟‘‘ مارک نے سوال پوچھا۔ 
’’کچھ کیوں کے جواب نہیں ہوتے۔‘‘ ٹرسٹن نے سادگی سے کہا۔ مارک پیچھے ہٹ گیا۔ مورہولٹ مسکرایا۔
ٹرسٹن نے مختلف طریقوں سے وحشی مورہولٹ سے مقابلہ کیا۔ وہ جلدی میں نہیں تھا۔ وہ مورہولٹ کے داؤ پیچ دیکھ رہا تھا اورجلد ہی بھانپ لیا کہ اسے کیسے شکست دی جاسکتی ہے۔ موقع ملتے ہی اس نے اپنی تلوار مورہولٹ کے سینے میں اتار دی۔ مگر یہ کیا؟

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک احمق کا خواب

مورہولٹ بھی منجھا ہوا کھلاڑی تھا۔ اس کے نیزے کا ہلکا سا وار ٹرسٹن کے دل سے چند انچ دور اپنی خراش چھوڑ گیا۔ ٹرسٹن نے فوراً جلن محسوس کی۔ زہر نے اپنا کام کردیا تھا۔ لیکن مورہولٹ کے گرتے ہی ہجوم خوشی سے چیخ اٹھا۔ ٹرسٹن دل پر ہاتھ رکھے مورہولٹ کی لاش کے قریب کھڑا رہا۔ وہ جیت گیا تھا مگر اب مررہا تھا۔ 
مارک کے حکم پر اسے فوراً محل لایا گیا جہاں درجنوں طبیب اس کی جان بچانے میں جٹ گئے۔ انہوں نے سب کچھ آزمایا۔ جڑی بوٹیاں، مختلف قسم کی مٹی اور دعائیں لیکن زہر اس کی رگوں میں پھیلتا رہا، جلد سیاہ پڑ رہی تھی، اور سانس کی رفتار مدھم ہورہی تھی۔ روہالٹ بے بسی سے اس نوجوان کو مرتے دیکھ رہا تھا جسے اس نے چودہ سال چھپا کر پالا تھا۔ ’’ایک موقع ہے،‘‘ روہالٹ نے کہا۔ ’’آئرش جادو۔‘‘ ’’اس حالت میں ٹرسٹن سفر نہیں کرسکتا۔‘‘ مارک پریشان تھا۔
’’وہ یہیں مرجائےگا۔‘‘ روہالٹ نے جواب دیا۔
’’اگر وہ جان گئے کہ ٹرسٹن کون ہے تو اسے وہیں ختم کردیں گے۔‘‘ مارک تشویش میں مبتلا تھا۔ 
’’کوشش کرنے میں حرج نہیں۔‘‘ روہالٹ پُرامید تھا۔ ایک چھوٹی سی کشتی میں روہالٹ ٹرسٹن کو لئے آئرلینڈ روانہ ہوا۔ لیکن شاید سمندر ٹرسٹن کو مزید آزمانا چاہتا تھا۔ چند دنوں بعد طوفان نے ان کی کشتی کو گھیر لیا جو دیر تک بپھری لہروں کا مقابلہ نہ کرسکی اور اُلٹ گئی۔ اس طوفان میں روہالٹ ڈوب گیا۔
علی الصباح آئرلینڈ کے شاہی ماہی گیروں نے دیکھا کہ ساحل پر ایک ٹوٹی ہوئی کشتی کے قریب ایک نوجوان اوندھا پڑا ہے۔ وہ بمشکل سانس لے رہا تھا۔ ماہی گیر اسے ملکہ کے پاس لے آئے۔ جب محل میں واقع طب خانے کے دروازے کھلے تو اِیسولٹ جڑی بوٹیاں پیس رہی تھی۔ کمرے میں پسے ہوئے پتوں اور دھوئیں کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ یہ ایک شفا دینے والے کا کمرہ تھا نہ کہ شہزادی کا۔
 ’’ایک اور مریض؟‘‘ ایسولٹ کی ماں نے سکون سے پوچھا۔
 ’’ہاں، ملکہ عالیہ،‘‘ ایک مچھیرے نے جواب دیا۔ ’’یہ سمندر سے آیا ہے۔ ‘‘ 
اجنبی، لاعلاج بیماریوں کیلئے آئرلینڈ آتے رہتے تھے اس لئے ملکہ یا ایسولٹ کو حیرت نہیں ہوئی۔ 
جیسے ہی ٹرسٹن کو میز پر رکھا گیا، اس نے فوراً کہا، ’’زہر۔‘‘ آنکھوں ہی آنکھوں میں ماں سے کچھ باتیں ہوئیں۔ ملکہ نے سبھی کو کمرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔
’’یہ مورہولٹ کا کام ہے۔‘‘ ایسولٹ نے آہستگی سے کہا۔ اپنے ماموں کے نیزے پر بدنام زمانہ زہر ایسولٹ ہی نے لگایا تھا۔ اس کا توڑ تریاق اور آئرش جادو تھا جس کے بارے میں صرف ایسولٹ جانتی تھی۔ 
’’کیا ہم اسے بچا سکتے ہیں؟‘‘ ماں نے زخم کو بغور دیکھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سیاہ راہب

’’شاید۔‘‘ ایسولٹ نے کہا۔
ماں نے ٹرسٹن کو یونہی چھوڑ دینے کا اشارہ کیا تاکہ وہ مرجائے لیکن ایسولٹ نے کہا، ’’مَیں دنیا بھر میں لاعلاج بیماریوں کا علاج کرنے والی کہلاتی ہوں، اور اپنے مطب سے کسی مریض کو مردہ حالت میں لوٹانے کی روادار نہیں ہوں۔‘‘ اس نے جلدی سے ٹرسٹن کی مرہم پٹی کی۔ پھر چند پتے اور جڑی بوٹیاں لے کر انہیں پیسنے لگی۔ایسولٹ کو چاند نکلنے کا انتظار تھا تاکہ چاندنی تلے منتر پڑھ کر تریاق تیار کرسکے۔ چاند نکلتے ہی اس نے مرہم پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور ٹرسٹن کے زخموں پر رکھ دیا۔ کچھ دیر بعد ٹرسٹن کے ہونٹوں کی گلابی رنگت لوٹنے لگی۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ ٹرسٹن خطرے سے باہر ہے تو تھک کر اس کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گئی۔ 
وہ ٹرسٹن کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر معصومیت تھی۔ وہ ایک رحمدل انسان نظر آتا تھا جبکہ اس کے ماموں کا چہرہ دیکھ کر بچے ڈر جاتے تھے۔
کچھ دیر بعد درد اور گرمی کے سبب ٹرسٹن بیدار ہوا۔ سب سے پہلی چیز جو اس نے دیکھی وہ ایسولٹ تھی۔ اس قدر خوبصورت کہ ٹرسٹن کو لگا کہیں اس کی موت تو نہیں ہوگئی اور وہ جنت میں تو نہیں پہنچ گیا ہے! 
ٹرسٹن نے بولنے کی کوشش کی مگر حلق نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ ’’نہیں،‘‘ ایسولٹ جلدی سے آگے بڑھی، ’’ابھی نہیں۔‘‘ اس نے پانی کا گلاس اٹھایا اور ٹرسٹن کی ٹھوڑی پکڑ کر اسے پلایا۔ 
’’میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے سوال کیا۔ 
’’آئرلینڈ۔‘‘ ایسولٹ نے آہستہ سے کہا۔
پھر وہ اس وقت تک ٹرسٹن کی خدمت کرتی رہی جب تک وہ صحت یاب نہیں ہوگیا۔ دونوں بہت کم بات کرتے تھے۔ ٹرسٹن خاموشی سے لیٹا، اسے کام کرتے، اور دوائیں بناتا دیکھتا رہتا۔ ایسولٹ نے بلاضرورت اسے بستر سے نہ اٹھنے کی ہدایت دی تھی۔ ایک دن ٹرسٹن کو احساس ہوا کہ اس کے گلے پر کوئی ٹھنڈی اور دھار دار چیز رکھی گئی ہے۔ آنکھیں کھولیں تو ایسولٹ اپنے ماموں کا وہی نیزہ اس کی گردن پر رکھے کھڑی تھی جس نے ٹرسٹن کو اس کے شفا خانے تک پہنچایا تھا۔ ’’یہ کام تم مجھے نہ بچا کر بھی کرسکتی تھی۔‘‘ ٹرسٹن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میرے شفا خانے میں ایک مریض لایا گیا تھا جسے بچانا میرا فرض تھا۔ اب تم صحت یاب ہو، اپنا دفاع کرسکتے ہو اس لئے انتقام لے رہی ہوں۔‘‘ 
کچھ دیر وہ نیزہ گردن پر رکھی کھڑی رہی اور پھر اسے ہٹا لیا، ’’تم زندہ رہو گے اس لئے نہیں کہ اس کے مستحق ہو بلکہ اس لئے کہ مَیںوہ بننے سے انکار کرتی ہوں جس سے مجھے نفرت ہے۔ مَیں قاتل نہیں بن سکتی۔‘‘

دوسرا حصہ

اسی وقت ٹرسٹن کے دل میں ایسولٹ کیلئے عقیدت اور احترام بڑھ گیا۔ اسی لمحے ان دونوں کے درمیان بہت کچھ بدل گیا۔
جب ٹرسٹن صحت یاب ہو کر کارنوال پہنچا تو ملکہ آئرلینڈ کا خاص سفیر ساتھ تھا جس نے مارک کو ایک خط تھما دیا۔ ملک بھر میں ٹرسٹن کی واپسی کا جشن منایا گیا۔ چند دنوں بعد جب مارک نے خط کھولا تو اس کا مضمون کچھ یوں تھا:
مارک!
مَیں جانتی ہوں ہم برسوں سے تم پر ظلم کررہے ہیں۔ مورہولٹ کے چلے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ اب ہمیں یہ دشمنی ختم کرکے دوستی کرلینی چاہئے۔ تمہیں وارث کی ضرورت ہے، اور مَیں اپنی بیٹی ایسولٹ کی شادی کا پیغام بھیجنا چاہتی ہوں۔ تمہارا جواب اپنے سفیر کے ہاتھوں روانہ کردینا۔
مارک نے جب اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے اسے بہترین سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے شادی کا پیغام قبول کرلینے کی صلاح دی۔ مارک نے ٹرسٹن کو بلا بھیجا۔ ایسولٹ کے متعلق اس سے چند سوالات کئے، اور کہا، ’’تم آئرلینڈ دوبارہ جاؤگے۔ میرے خاص سفیر بن کر، ایسولٹ کے ساتھ میری شادی کا پیغام لے کر۔ اسی طرح دونوں طرف امن بحال ہوگا۔‘‘
’’یقیناً!‘‘ ٹرسٹن نے جھک کر سلام کیا۔ 
اس بار آئرلینڈ نے ٹرسٹن کا شاندار انداز میں استقبال کیا۔ ایسولٹ محل کے دربار میں باوقار انداز میں اپنی ماں کے ساتھ کھڑی تھی۔ جب ٹرسٹن اور ایسولٹ کی نگاہیں ملیں تو ان کے درمیان شناسائی اور قربت کی ایک لہر گزری۔ مارک کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ ملکہ نے بیٹی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ایسولٹ کی ایک نگاہ ٹرسٹن کی طرف اٹھی اور پھر اس نے کہا، ’’مجھے یہ رشتہ قبول ہے۔‘‘ 
دربار مبارک سلامت کے شور سے گونج اٹھا مگر ٹرسٹن کو لگا کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ 
رات کے کھانے کے بعد جب ایسولٹ اور ٹرسٹن کو تنہائی میسر آئی تو ایسولٹ نے کہا، ’’آپ کو نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘ 
’’آپ کو یہ رشتہ قبول نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘ ٹرسٹن نے جواب دیا۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ 
’’آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ ایسولٹ نے سوال کیا۔
’’ہاں۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘  
پھر گہری خاموشی۔ ٹرسٹن ایک سپاہی تھا۔ اپنے بادشاہ کا وفادار، وہ ایسولٹ سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے لے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن

اس رات دونوں میں سے کوئی نہیں سویا۔
اگلی صبح جب وہ کارنوال روانہ ہوئے تو سمندر پُرسکون تھا۔ ایسولٹ جہاز کے آخری حصے پر کھڑی افق کو دیکھتی رہتی جبکہ ٹرسٹن ہونے والی ملکہ کے قریب سر جھکائے مودب انداز میں کھڑا رہتا۔ اس کا فرض تھا کہ وہ ایسولٹ کی حفاظت کرے۔ 
تیسرے دن موسم اتنا گرم ہوگیا کہ جہاز پر سبھی پیاس کی شدت سے بلبلا اٹھے۔ ایسولٹ اور ٹرسٹن بھی پیاسے تھے۔ ٹرسٹن نے اپنے خاص ملازم کو باورچی خانے سے پانی لانے کا حکم دیا۔
وہاں پانی ختم ہوچکا تھا۔ ملازم پانی کی تلاش میں ایسولٹ کے کمرے میں جا پہنچا، جہاں کپڑے میں بندھی ایک بوتل تھی۔ وہ تیزی سے عرشے پر آیا اور بوتل ٹرسٹن کے حوالے کردی۔ ایسولٹ نے جلدی سے پانی پیا، اور پھر وہی بوتل ٹرسٹن کی جانب بڑھا دی۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے بوتل لی اور پانی پی لیا۔ اس کا ذائقہ میٹھا تھا، بہت میٹھا۔
’’یہ عجیب بات ہے۔‘‘ ایسولٹ نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔ 
چند لمحوں بعد دونوں کو عجیب سا محسوس ہوا۔ انہیں لگا کہ وہ ایک دوسرے کی دھڑکنیں فاصلے سے بھی سن سکتے ہیں۔ ٹرسٹن نے ایسولٹ اور ایسولٹ نے ٹرسٹن سے بیک وقت ایک ہی سوال کیا، ’’ہم نے کیا پیا؟‘‘
’’اوہ! میری ماں نے ...‘‘ ایسولٹ نے اپنا سر تھام لیا۔’’میری ماں نے مارک اور میرے لئے کچھ دوائیاں رکھی تھیں، ان میں یہ مشروب تھا۔ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوجانے کا مشروب!‘‘
ٹرسٹن گم صم کھڑا تھا۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ سمندر کی لہریں ان کے گرد بے حسی سے گھوم رہی تھیں۔ 
’’یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ ایسولٹ نے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ 
ٹرسٹن کے آنکھوں میں غصے سے آنسو آگئے۔ مگر اب دونوں ہی کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ مشروب نے اپنا اثر دکھا دیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے مگر ایک دوسرے کے سامنے اپنی محبت کو قبول نہیں کرسکتے تھے۔ 
کارنوال میں مارک اور ایسولٹ کی شادی دھوم دھام سے ہوئی۔ ٹرسٹن ملکہ ایسولٹ سے دور رہنے کی پوری کوشش کرتا۔ جب ان دونوں کا سامنا ہوتا تو دونوں ہی نگاہیں پھیر لیتے۔ ایسولٹ اپنے شوہر کی وفادار تھی۔ اور ٹرسٹن اپنے بادشاہ کا وفادار۔ کچھ عرصے میں مارک نے ایسولٹ اور ٹرسٹن کے درمیان یہ تناؤ محسوس کرلیا۔ محل کے دیگر لوگوں نے بھی اسے محسوس کیا لیکن وہ سمجھ نہ سکے کہ معاملہ کیا ہے۔ 
ایسولٹ نے مارک کی نظریں بھانپ لی، اور پھر ایک شام اس نے ٹرسٹن کو پیغام بھیجا کہ وہ اس سے ملنا چاہتی ہے۔ محل کے عقبی باغ میں ایسولٹ نے ٹرسٹن سے کہا کہ وہ اس طرح ایک ہی محل میں ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے نہیں رہ سکتے، خاص طور پر اس وقت جب ٹرسٹن، مارک کیلئے سب سے اہم ہو۔ 
’’مَیں بادشاہ سے اجازت لے کر کسی اور علاقے کی حفاظت کا کام مانگ لوں گا۔‘‘ ٹرسٹن نے تھوڑی دیر بعد جواب دیا۔ 
’’کیا ہم یہ کرسکیں گے؟ ہم یہ راز کب تک چھپا سکیں گے؟‘‘ ایسولٹ نے سوال کیا، اور ٹھیک اسی وقت پاس کے ایک درخت کے قریب پہنچے مارک نے یہ بات سن لی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

اگلی صبح مارک کے کمرے میں ٹرسٹن سر جھکائے کھڑا تھا۔ 
’’یہ کب سے چل رہا ہے؟‘‘ مارک نے نرمی سے سوال کیا۔ 
ٹرسٹن نے جھوٹ نہیں بولا، ’’سفر کے دوران جب گرمی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔‘‘ 
مارک نے آنکھیں بند کر لیں،’’کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ٹرسٹن نے جھوٹ نہیں بولا۔ 
’’میں نے تم پر بھروسہ کیا، اور تم نے مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیا؟‘‘ مارک پر صدمہ طاری تھا۔ 
’’مجھے معاف کردیجئے۔ میرے دل پر میرا اختیار نہیں ہے۔‘‘ اس نے ندامت سے نظریں جھکالیں۔
’’میں تمہاری جان نہیں لے سکتا،‘‘ مارک نے کہا۔ ’’آج شام تک سلطنت سے نکل جاؤ۔‘‘ 
ٹرسٹن نے سر جھکا لیا، ’’جیسا آپ کا حکم !‘‘
مارک کی آواز آخر کار ڈگمگا گئی۔ ’’اور اگر تم لوٹ آئے تو مَیں تم پر رحم نہیں کر سکوں گا۔‘‘
ٹرسٹن نے شام سے پہلے ملک چھوڑ دیا۔ 
جب ٹرسٹن محل سے نکلا تو اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسے ضرورت ہی نہیں تھی۔ ہر چیز جو اہم تھی وہ پہلے ہی اس کے دل پر نقش ہو چکی تھی۔ جلاوطنی نے اسے آزاد نہیں کیا۔ اس نے تڑپ کو بڑھا دیا۔
مارک ایک اچھا اور رحمدل بادشاہ تھا اور ایسولٹ ایک بہترین ملکہ۔ ٹرسٹن کے آگے صحرا تھا۔ مگر ٹرسٹن اور ایسولٹ کے درمیان محبت ختم نہیں ہوئی۔ صرف جدائی آگئی تھی۔ 
جلاوطنی سکھاتی ہے کہ آکسیجن کے بغیر سانس کیسے لی جاتی ہے۔ ٹرسٹن نے یہ بات آہستہ آہستہ، دردناک طریقے سے، دیارِ غیر میں سیکھی۔ وہ ملکوں ملکوں بھٹکتا رہا۔ جہاں بھی گیا، اس کی قدر کی گئی۔ لیکن وہ جہاں بھی گیا، ہمیشہ ادھورا رہا۔ ایسولٹ اس میں اس طرح موجود تھی جس طرح دل میں دھڑکنیں۔
برسوں بعد بروٹنی کے بادشاہ کیلئے لڑتے ہوئے میدانِ جنگ میں وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔ جس شخص کی تلوار نے اسے زخمی کیا تھا، اس میں وہی زہر بجھا تھا جو مورہولٹ کی تلوار میں تھا۔ ٹرسٹن ایک بار پھر بری طرح تڑپ رہا تھا۔ اسے شاہی مطب لے جایا گیا، مگر وہ جانتا تھا کہ کس کے ہاتھ اسے شفا دے سکتے ہیں۔ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس نے کہا، ’’کارنوال! وہاں علاج ہے۔‘‘
بروٹنی کے بادشاہ ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر قافلہ کارنوال روانہ کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح

ٹرسٹن کی جلاوطنی کو برسوں بیت چکے تھے۔ جب قاصد نے مارک کو پیغام دیا تو اس نے اِیسولٹ کو بلایا اور سادگی سے کہا، ’’ٹرسٹن مررہا ہے۔‘‘ ایسولٹ نے آنکھیں موند لیں۔ 
’’صرف ایک امید ہے،‘‘ مارک نے اپنی بات جاری رکھی، ’’تم۔‘‘ 
’’مَیں وہاں جاؤں گی۔‘‘ مارک نے کہا، ’’اگر تم جاؤ تو شاید واپس نہ آؤ۔ تم جانتی ہو مَیں تمہیں قبول کرنے سے انکار کردوں گا۔‘‘
’’میں جانتی ہوں۔‘‘
’’اور تم اب بھی اسے منتخب کرتی ہو؟‘‘ 
’’ہاں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ مارک نے سر ہلایا۔ 
ٹرسٹن ایک چیمبر میں پڑا تھا جہاں سے سمندر نظر آتا تھا۔ وہ گزرتے جہازوں کو دیکھتا رہتا اور پھر آنکھیں موند لیتا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ ایسولٹ سفید پرچم والے جہاز سے آرہی ہے۔ جب بھی کوئی اس کے چیمبر میں آتا، وہ بےتابی سے پوچھتا ، ’’کیا وہ آگئی؟‘‘ اسے ہر بار منفی جواب ملتا۔ اور وہ مایوسی سے سمندر کی طرف دیکھنے لگتا۔ 
دریں اثناء، ایسولٹ کا جہاز طوفان میں پھنس گیا، جس کے سبب اسے ٹرسٹن کے پاس پہنچنے میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا تھا۔ 
مقررہ دن جب وہ چند منٹ تاخیر سے ٹرسٹن کے چیمبر میں داخل ہوئی تو وہ بمشکل سانس لے رہا تھا۔ 
’’بتاؤ۔‘‘ ٹرسٹن نے سرگوشی کی۔ ’’کیا وہ آگئی ہے؟‘‘ 
ایسولٹ نے ٹرسٹن کا سر اپنی گود میں رکھا اور کہا، ’’ہاں!‘‘
اور پھر زہر نے اپنا آخری وار کردیا۔ ٹرسٹن نے گہری سانس لی، اور ایسولٹ کی گود میں اس کا دم نکل گیا۔
ایسولٹ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
’’ٹرسٹن!‘‘ اس نے روہانسی آواز میں پکارا۔ مگر جواب نہیں ملا۔ 
’’ٹرسٹن؟‘‘ اس نے دوبارہ آواز دی۔ وہ جانتی تھی کہ ٹرسٹن اب زندہ نہیں ہے لیکن وہ کسی امید کے تحت آواز دیئے جارہی تھی۔
 پھر اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
’’مَیں تمہارے پاس ہمیشہ کیلئے آگئی،‘‘ اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔ مگر مردہ ٹرسٹن نے جواب نہیں دیا۔ 
’’مَیں دنیا پار کرکے تم تک پہنچی ہوں، اٹھو، ٹرسٹن!‘‘ ایسولٹ نے روتے ہوئے کہا۔
کمرے میں خاموش کھڑے سپاہی اور بروٹنی کا بادشاہ آبدیدہ نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ 
’’میں تمہارے پاس ہوں۔ آنکھیں کھولو۔‘‘ شفا دینے والی ایسولٹ مردہ ٹرسٹن کا چہرہ ہاتھ میں لئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ 
وہ اس قدر غمزدہ تھی کہ اس کی دھڑکنوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا، یا، پھر یہ اس جادوئی مشروب کا اثر تھا جس نے پہلے ٹرسٹن اور پھر ایسولٹ کے دل کو بھی زندگی سے خالی کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دیوار کا مسافر

دونوں کی لاشیں کارنوال لائی گئیں۔ مارک نے شاہی قبرستان کے ایک کونے میں ٹرسٹن اور دوسرے کونے میں ایسولٹ کو دفن کرنے کا حکم دیا۔ گویا جدائی اب بھی مقدر تھی۔ مارک قبرستان میں خاموشی سے بیٹھا تھا۔ وہ ایک انصاف پسند بادشاہ تھا مگر شاید ٹرسٹن اور ایسولٹ کے ساتھ انصاف نہ کرسکا۔ لیکن وقت اور قدرت نے ان کے ساتھ انصاف کیا۔
موسم بہار آیا۔ 
ٹرسٹن کی قبر سے پھولوں کی ایک بیل نکلی۔ 
ایسولٹ کی قبر سے پھولوں کی ایک بیل نکلی۔
زمین پر رینگتے ہوئے یہ دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگیں۔ یوں جیسے جلد سے جلد ایک دوسرے کے قریب پہنچنا چاہتی ہوں۔ اور پھر انہوں نے ایک دوسرے کو تھام لیا۔ 
باغبانوں نے انہیں کاٹ کر الگ کردیا۔
وہ پھر بڑھ گئیں، اور ایک دوسرے کو تھام لیا۔ 
انہیں جتنی بار کاٹا جاتا، وہ اتنی مضبوطی سے ایک دوسرے سے جڑ جاتیں۔
مارک نے انہیں جڑ سے ختم کردینے کا حکم دیا۔
کلہاڑیوں نے زور دکھایا، اور بیلیں جڑ سے نکال دی گئیں۔
لیکن ہر موسم بہار میں وہ واپس آتیں۔ ایک دوسرے کی طرف بڑھ جاتیں اور ایک دوسرے کو تھام لیتیں۔ انہیں الگ کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوجاتی۔ وقت گزرتا گیا، بیلیں اکھاڑی جاتی رہیں، اور پھر ایک دن مارک دنیا سے رخصت ہوگیا۔ 
اور اس طرح یہ کہانی تاریخ سے افسانہ میں منتقل ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیلیں اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکی ہیں جو اب مضبوطی سے کھڑا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب محبت قربان ہوجائے تو وہ ختم نہیں ہوتی، صرف شکل بدلتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK