EPAPER
Updated: January 30, 2026, 3:29 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
روس کے معروف ادیب انتون چیخوف کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی بلیک مونک‘‘ The Black Monkکا اردو ترجمہ۔
آندرے وسیلیچ کوورِن ایک غیر معمولی ذہن رکھنے والا نوجوان تھا۔ اس کی زندگی کا بیشتر حصہ مطالعے، غور و فکر اور ذہنی مشقت میں گزرتا تھا۔ فلسفہ، نفسیات اور ادب اس کے محبوب موضوعات تھے۔ وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو عام گفتگو سے زیادہ اپنی خاموشی میں جیتے ہیں، اور جن کے اندر سوالات کی ایک نہ ختم ہونے والی دنیا آباد ہوتی ہے۔ مگر یہی ذہنی شدت آہستہ آہستہ اس کے جسم اور اعصاب پر بھاری پڑنے لگی۔
اسے نیند نہیں آتی تھی۔ دل بے وجہ دھڑکنے لگتا، خیالات بکھر جاتے، اور کبھی کبھی اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے اندر کوئی طاقت مسلسل حرکت میں ہے، جو اسے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ یہ محض تھکن نہیں بلکہ اعصابی کمزوری اور ذہنی اضطراب ہے۔ صاف کہا گیا کہ اگر اس نے شہر، مطالعہ اور فکری دباؤ سے کچھ عرصہ کیلئے کنارہ نہ کیا تو اس کی حالت خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن
یوں کوورِن نے دیہات کا رخ کیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ وقت اپنے بچپن کے سرپرست اور سابق استاد، یِگور سیمیونوچ پیسوٹسکی، کے ہاں گزارے گا۔ پیسوٹسکی ایک نامور باغبان تھا۔ اس کا باغ صرف ایک زرعی زمین نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کا نچوڑ تھا۔ وہ باغ اس کیلئے عبادت گاہ کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں ہر درخت، ہر پودا اس کی محنت، نظم اور ضبط کا گواہ تھا۔
کوورِن جب وہاں پہنچا تو موسم گرما اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ باغ میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی ٹھنڈک اور ترتیب کا احساس ہوتا تھا۔ لمبے سیدھے راستے، قطار در قطار درخت، اور ہر سمت پھیلا سبزہ زار آنکھوں کو سکون دیتا تھا۔ پیسوٹسکی اسے باغ دکھاتے ہوئے یوں بات کر رہا تھا جیسے کوئی فنکار اپنے شاہکار کی تفصیل بیان کر رہا ہو۔
ابتدا میں کوورِن واقعی بہتر محسوس کرنے لگا۔ صبح سویرے باغ میں ٹہلنا، پرندوں کی آوازیں سننا، دوپہر کو درختوں کے سائے میں کتاب پڑھنا اور شام کو پیسوٹسکی اور اس کی بیٹی تانیہ کیساتھ گفتگو،یہ سب اس کے اعصاب کیلئے کسی دوا سے کم نہ تھے۔ تانیہ خاموش طبیعت کی لڑکی تھی۔ اس کے چہرے پر بلا کی چمک نہیں تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو دل کو چھو لیتی تھی۔ وہ زیادہ بولتی نہیں تھی، مگر جو کچھ کہتی تھی، ٹھہراؤ کے ساتھ کہتی تھی۔ کوورِن اس کی طرف غیر محسوس انداز میں مائل ہونے لگا، جیسے اس سکون میں بھی کسی گہرے ربط کی تلاش ہو۔ لیکن جیسے جیسے جسمانی سکون بڑھا، ویسے ویسے ذہنی سرگرمی اور زیادہ گہری ہو گئی۔ کوورِن کے خیالات میں ایک عجیب سا احساس جنم لینے لگا،احساسِ برتری۔ وہ خود کو عام انسانوں سے الگ سمجھنے لگا۔ اسے لگنے لگا کہ وہ کسی خاص مقصد کیلئے پیدا ہوا ہے، کہ اس کی ذہانت محض ذاتی کامیابی کیلئے نہیں بلکہ انسانیت کیلئے ہے۔ ایک شام، جب وہ باغ کے قریب کھلے میدان میں تنہا ٹہل رہا تھا، ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سینڈ مین
آسمان پر ہلکی سی سرخی تھی، ہوا میں نمی تھی، اور فضا میں خاموشی۔ اچانک اس کی نظر افق پر پڑی۔ وہاں، جیسے ہوا میں تیرتی ہوئی، ایک سیاہ پوش شخصیت نمودار ہوئی۔ وہ ایک راہب تھا،سیاہ لباس میں ملبوس، خاموش، سنجیدہ، اور غیر فانی سا۔ وہ زمین پر نہیں چل رہا تھا بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فضا میں معلق ہو۔ کوورِن رک گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، مگر خوف نہیں تھا۔ اس کے بجائے ایک عجیب سی مسرت، ایک سرشاری، اس کے وجود میں پھیل گئی۔ راہب اس کے قریب آیا اور رکا۔ اس کی آنکھوں میں سکون تھا، ایسا سکون جو عام انسانی سکون سے ماورا تھا۔ اس نے کوورِن سے بات کی۔ کہا کہ وہ ایک افسانوی وجود ہے، ایک ایسی کہانی کا حصہ جو صدیوں سے دہرائی جاتی رہی ہے، اور وہ صرف اُن لوگوں کو دکھائی دیتا ہے جو غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں۔
راہب نے کہا کہ عظمت ہمیشہ تکلیف کے ساتھ آتی ہے۔ عام لوگ سکون چاہتے ہیں، مگر غیر معمولی لوگ بےچینی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ کوورِن کو لگا جیسے اس کے دل کی آواز کو کسی نے زبان دے دی ہو۔ اسی لمحے اسے یقین ہو گیا کہ وہ واقعی خاص ہے۔ اس کے بعد سیاہ راہب بار بار اس پر ظاہر ہونے لگا،کبھی باغ میں، کبھی کمرے میں، کبھی رات کی خاموشی میں۔ ہر بار وہ کوورِن کے احساسِ عظمت کو مزید مضبوط کرتا۔ کوورِن کی گفتگو بدلنے لگی۔ اس میں یقین تھا، غرور تھا، اور ایک ایسا لہجہ جو خود کو انسانیت کیلئے ناگزیر سمجھتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا
تانیہ نے یہ تبدیلی محسوس کی۔ وہ کوورِن سے محبت کرنے لگی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اب ایک عجیب سی دوری نظر آنے لگی تھی۔ پیسوٹسکی بھی فکرمند تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی بیٹی کی شادی کوورِن سے کر دے، مگر جس تیزی سے کوورِن بدل رہا تھا، اس نے اس کے دل میں خوف پیدا کر دیا۔ اسے لگنے لگا کہ یہ ذہانت اب قابو میں نہیں رہی۔ اس کے باوجود شادی ہو گئی۔ ابتدا میں سب کچھ خوشگوار لگا، مگر جلد ہی اختلافات ابھرنے لگے۔ کوورِن باغ کو معمولی چیز سمجھنے لگا۔ پیسوٹسکی کی زندگی بھر کی محنت اسے بے معنی لگنے لگی۔ یہ بات پیسوٹسکی کیلئے ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ بات بات پر الجھ پڑتا، اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کیلئے توجیہات پیش کرتا۔
بالآخر تانیہ نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔ تشخیص واضح تھی: کوورِن فریبِ نظر میں مبتلا تھا۔ یوں اس کا علاج شروع ہوا۔ادویات، پرہیز، اور سخت نظم و ضبط۔ اور پھر سیاہ راہب رفتہ رفتہ اس کی زندگی سے غائب ہو گیا۔ اب کوورِن پرسکون تھا۔ متوازن تھا۔ مگر اندر سے خالی تھا۔ کوورِن کیلئے سب سے اذیت ناک چیز یہ نہ تھی کہ سیاہ راہب غائب ہو گیا تھا بلکہ یہ تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں کوئی خلا بھی باقی نہ رہا تھا۔ وہ خلا جسے پہلے اضطراب بھرتا تھا، پھر سرشاری، اب محض ایک سادہ خاموشی بن چکا تھا،ایسی خاموشی جس میں کوئی سوال نہیں تھا، کوئی ضد نہیں تھی، کوئی بے قراری نہیں تھی۔ یہ خاموشی سکون نہیں، ایک طرح کی بے رنگی تھی۔
وہ اب صبح جلدی جاگتا، وقت پر کھانا کھاتا، اور باقاعدگی سے سیر کرتا۔ دل کی دھڑکن متوازن تھی، نیند پوری ہونے لگی تھی، مگر اسے یوں لگتا جیسے اس کے اندر کوئی چراغ بجھا دیا گیا ہو،ایسا چراغ جو جلاتا ضرور تھا، مگر روشنی بھی دیتا تھا۔ وہ کتابیں کھولتا، فلسفیوں کے جملے پڑھتا، مگر اب وہ سوال پیدا نہیں کرتے تھے۔ اس نے ایک دن خود سے پوچھا:کیا یہی صحت ہے؟
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں
اور اس سوال کے جواب میں اس کے اندر سے کوئی آواز نہیں اٹھی۔ وہ اب خاموش رہنے لگا تھا۔ اپنے آپ کو برتر اور عظیم سمجھنے والا شخص اب خاموشی سے ایک ہی جگہ پر کئی گھنٹے بیٹھا رہتا۔ کبھی مسکرا دیتا، اور اگلے ہی لمحے یوں سنجیدہ ہوجاتا جیسے اس کے ہونٹوں نے مسکرانے کیلئے صدیوں سے جنبش نہ کی ہو۔
تانیہ کا دل بے چین اور افسردہ تھا کہ وہ کوورِن کو ویسا نہیں بناسکی جیسا چاہتی تھی۔ وہ جب دیہات آیا تھا، تب سلجھا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس کی ذہنی حالت آہستہ آہستہ بگڑی تھی۔ علاج کے بعد ذہنی حالت میں بہتری ضرور آئی مگر اب اسے یوں لگتا کہ کوورِن پہلے کی طرح فعال نہیں ہے۔ وہ ہمہ وقت منجمد نظر آتا۔
پیسوٹسکی کے سامنے سب کچھ تھا۔ وہ ایک جہاں دیدہ شخص تھا لیکن بیٹی کی محبت کے آگے خاموش تھا، ورنہ وہ کوورِن کو اسی وقت جانے کیلئے کہہ دیتا جب اس نے پیسوٹسکی کے باغ کا مذاق اڑایا تھا۔
کچھ عرصے بعد پیسوٹسکی کا انتقال ہو گیا۔ اس کے باغ کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ کوورِن ہر وقت گم صم رہتا اور تانیہ اس کا خیال رکھنے میں مصروف ہوتی۔ سر سبز اور شاداب باغ آہستہ آہستہ اجڑنے لگا۔ جو باغ کبھی نظم اور جنون کی علامت تھا، اب زوال کی تصویر بن چکا تھا۔ ہر طرف اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ تانیہ اور کوورِن کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ہینسل اور گریٹل
اب تانیہ صرف بنیادی اور ضروری کاموں ہی میں کوورِن کی مدد کرتی تھی اور ہر وقت اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔ کوورِن اپنے کمرے کی کھڑکی سے اجڑے باغ کو دیکھتا رہتا تھا۔ موسم بہار ہو، موسم سرما ہو یا موسم گرما، اب ہر موسم آتا اور گزر جاتا۔ دونوں ہی کو کسی بھی موسم میں رنگینیاں محسوس نہیں ہوتی تھیں۔
اسی دوران کوورِن کی صحت ایک بار پھر بگڑنے لگی، لیکن اس بار جسمانی طور پر۔ ایک رات، بخار میں، نیم تاریکی میں، اس نے اپنے قریب ایک مانوس موجودگی محسوس کی۔ آنکھیں کھولی تو سیاہ راہب وہیں تھا۔
اس بار نہ دعویٰ تھا، نہ عظمت کا اعلان۔ وہ محض یاد تھا۔ اس نے کہا کہ انسان ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کی قربانی دیتا ہے،سوال صرف یہ ہے کہ وہ کس چیز کو زیادہ قیمتی سمجھتا ہے۔ کوورِن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی،ادراک کی، فخر کی نہیں۔ اتنے عرصے میں اس نے سمجھ لیا تھا کہ خود کو برتر سمجھنے والا کمزور اور بے وقوف ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: برف کی ملکہ
پھر اس کی سانس بھاری ہونے لگی۔ کہیں دور سے اسے تانیہ کی آواز آ رہی تھی۔ غالباً یہ کوورِن کا آخری لمحہ تھا جس میں اسے کوئی خوف نہیں تھا۔ وہ حقیقت کو گلے لگا رہا تھا۔ اسے قبول کررہا تھا۔ سیاہ راہب نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔ کوورِن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اور آنکھوں میں نمی۔ اور اسی لمحے اس کا دل رُک گیا۔