Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سخی درخت

Updated: June 26, 2026, 7:34 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

امریکہ کے معروف مصنف اور کارٹون نگار شیل سلور اسٹین کی شہرہ آفاق کہانی’’دی گیونگ ٹری‘‘ The Giving Treeکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

جنگل کے کنارے ایک سرسبز میدان تھا جہاں موسموں کی آمد و رفت اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ محسوس کی جا سکتی تھی۔ بہار میں وہاں رنگ برنگے پھول کھلتے، گرمیوں میں گھاس پر سنہری دھوپ بکھر جاتی، خزاں میں پتوں کا رنگ بدل جاتا اور سردیوں میں ہر شے پر ایک خاموش اداسی چھا جاتی۔ اسی میدان میں ایک بڑا اور تناور سیب کا درخت تھا جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں، پتے گھنے اور سبز تھے اور ہر سال اس پر بے شمار سیب لگتے تھے۔ دور سے دیکھنے والے کیلئے وہ ایک عام درخت تھا، مگر اس کے دل میں محبت تھی جس نے اسے دوسروں سے مختلف بنا دیا تھا۔ 
اسی گاؤں میں ایک چھوٹا سا لڑکا رہتا تھا۔ وہ روزانہ کھیلتے کھیلتے میدان تک آ جاتا اور سیدھا اس درخت کے پاس پہنچ جاتا۔ شروع شروع میں شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ درخت کی طرف کیوں کھنچا چلا آتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان ایسی دوستی قائم ہو گئی جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئی۔ لڑکا درخت کی نچلی شاخوں پر چڑھ جاتا، پتوں کے درمیان چھپ کر کھیلتا، کبھی اس کے تنے کے گرد دوڑتا اور کبھی اس کے سیب توڑ کر کھاتا۔ جب تھک جاتا تو درخت کے سائے میں لیٹ جاتا اور آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے سو جاتا۔ ان لمحوں میں درخت کو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی۔ اسے لگتا جیسے اس کی شاخیں اسی مقصد کیلئے پھیلی ہیں، اس کے پتے اسی لئے سرسبز ہیں اور اس کے پھل اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اس بچے کی خوشی کا سبب بن سکیں۔ بچے کی عمر زیادہ نہ تھی۔ اس کی دنیا چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور معصوم خوابوں سے بھری ہوئی تھی۔ اسے نہ دولت کی فکر تھی نہ مستقبل کی۔ اس کیلئے سب سے اہم چیز کھیلنا، ہنسنا اور دن بھر دوڑتے رہنا تھا۔ درخت بھی اسی دنیا کا حصہ بن گیا تھا۔ جب لڑکا آتا تو وہ اپنی شاخیں ہلکی ہلکی ہلاتا، ہوا اس کے پتوں میں سرگوشیاں کرتی اور پورا منظر یوں لگتا جیسے درخت اپنے دوست کا استقبال کر رہا ہو۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے گئے۔ دونوں کی دوستی ویسی ہی رہی۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس لڑکے کو درخت پر چڑھا دیکھتے اور مسکرا کر گزر جاتے۔ انہیں یہ ایک عام سی بات لگتی تھی، مگر درخت کیلئے یہ لمحے اس کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ تھے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردوترجمہ: سپاہی اور رقاصہ

ایک دن درخت نے محسوس کیا کہ لڑکا کئی دنوں سے نہیں آیا۔ پہلے اسے لگا کہ شاید وہ کسی کام میں مصروف ہوگا، لیکن جب مزید دن گزر گئے تو اسے بے چینی ہونے لگی۔ وہ ہر صبح سورج نکلنے کے بعد دور تک پھیلے راستے کی طرف دیکھتا اور ہر شام مایوسی کے ساتھ رات کا استقبال کرتا۔ موسم بدلنے لگا، مگر لڑکا نہ آیا۔ کافی عرصے بعد ایک دن اسے وہ مانوس قدموں کی آہٹ سنائی دی جسے وہ کبھی بھول نہیں سکتا تھا۔ لڑکا واپس آ گیا تھا۔ لیکن اب وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ اس کا قد بڑھ گیا تھا، چہرے پر بچپن کی معصومیت کی جگہ سنجیدگی آ گئی تھی اور اس کی آنکھوں میں وہ بے فکری نہیں رہی تھی جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا درخت کے قریب آیا۔ 
درخت خوشی سے جھوم اٹھا۔ ’’آؤ، ‘‘ اس نے دل ہی دل میں کہا، ’’میری شاخوں پر چڑھو، میرے سیب کھاؤ، میرے سائے میں آرام کرو اور پہلے کی طرح خوش ہو جاؤ۔ ‘‘ مگر نوجوان ہوتے ہوئے لڑکے نے سر اٹھا کر درخت کو دیکھا اور دھیرے سے کہا ’’مَیں اب اتنا چھوٹا نہیں رہا کہ درختوں پر چڑھ کر کھیلوں۔ ‘‘ یہ الفاظ سن کر درخت کو پہلی بار احساس ہوا کہ وقت واقعی بدل چکا ہے۔ 
لڑکا کچھ دیر خاموش کھڑا رہا، پھر اس نے کہا، ’’مجھے اب کھلونوں اور کھیلوں سے زیادہ چیزوں کی ضرورت ہے۔ میرے دوستوں کے پاس اچھی اچھی چیزیں ہیں۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور میں بھی کچھ خریدنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ درخت خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس سکے یا خزانے نہیں ہیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے اپنے پھلوں سے لدی شاخوں کی طرف دیکھا اور محبت بھرے اطمینان کے ساتھ کہا کہ ’’میرے پاس پیسے تو نہیں، لیکن میرے پاس سیب ہیں۔ تم میرے سیب توڑ لو، انہیں بازار میں بیچ دو اور جو رقم ملے اس سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لینا۔ ‘‘
نوجوان کے چہرے پر پہلی بار خوشی نمودار ہوئی۔ اس نے درخت کی شاخوں پر چڑھ کر سیب توڑنا شروع کر دیئے۔ ایک ایک کر کے اس نے تقریباً تمام پھل جمع کر لئے۔ پھر انہیں ایک تھیلے میں بھر کر اپنے کندھے پر رکھا اور واپس چل دیا۔ درخت اسے جاتے دیکھتا رہا۔ 
اس دن اس کے تمام سیب ختم ہو گئے تھے، مگر اسے اس کا کوئی افسوس نہیں تھا۔ اس کے دل میں صرف یہ خوشی تھی کہ وہ اپنے دوست کے کام آ سکا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: تیر انداز

نوجوان کے جانے کے بعد میدان ایک بار پھر خاموش ہو گیا۔ درخت نے سوچا محبت میں حساب کتاب کیسا۔ دن گزرتے گئے، پھر ہفتے اور مہینے بیتنے لگے۔ بہار آئی اور چلی گئی۔ گرمیوں کی دھوپ میدان پر پھیلتی رہی۔ خزاں میں درخت کے پتے زرد ہو کر زمین پر گرتے رہے، لیکن جن قدموں کی آہٹ کا وہ منتظر تھا، وہ آہٹ سنائی نہ دی۔ ہر گزرتے موسم کے ساتھ درخت کی نگاہیں مزید دور تک اس راستے کو دیکھنے لگتیں جہاں سے کبھی ایک چھوٹا سا لڑکا دوڑتا ہوا آیا کرتا تھا۔ 
وقت کے ساتھ اس نے ایک حقیقت کو سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ بچپن کی دوستیوں میں جو بے فکری ہوتی ہے، وہ جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر بدل جاتی ہے۔ انسان کے دل میں خواہشیں جنم لینے لگتی ہیں، ضروریات بڑھ جاتی ہیں اور وہ چیزیں جو کبھی پوری دنیا محسوس ہوتی تھیں، آہستہ آہستہ یادوں کا حصہ بننے لگتی ہیں۔ کئی سال گزر گئے۔ 
ایک دن دوپہر کے وقت درخت نے دور راستے پر ایک مانوس سایہ دیکھا۔ وہ شخص آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے جیسے وہ قریب آتا گیا، درخت اسے پہچان گیا۔ وہی لڑکا تھا، مگر اب وہ ایک مکمل جوان آدمی بن چکا تھا۔ اس کے چہرے پر بلوغت کی سنجیدگی تھی، آنکھوں میں فکر کی لکیریں نمایاں تھیں اور اس کے قدموں میں وہ بے فکری نہیں تھی جو کبھی اس کی شناخت تھی۔ درخت خوشی سے جھوم اٹھا۔ اسے لگا جیسے برسوں کی تنہائی ایک لمحے میں ختم ہو گئی ہو۔ 
’’آؤ!‘‘ اس نے محبت سے پکارا، ’’میرے پاس آؤ۔ میرے سائے میں بیٹھو۔ مجھ سے باتیں کرو۔ میں نے تمہیں بہت یاد کیا ہے۔ ‘‘ مگر نوجوان نے سر اٹھا کر درخت کو دیکھا اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔ ’’میرے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں ہے، ‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’میں اب بچہ نہیں رہا۔ میری اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ مَیں ایک مکان بنانا چاہتا ہوں۔ مَیں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں اپنے خاندان کیلئے ایک اچھی زندگی چاہتا ہوں۔ لیکن میرے پاس مکان بنانے کیلئے وسائل نہیں ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دادا شام

درخت چند لمحوں تک خاموش رہا۔ اس کے پاس گھر تھا نہ دولت، اور نہ کوئی خزانہ۔ مگر اس کے پاس اپنی شاخیں تھیں، وہ شاخیں جن پر کبھی ایک بچہ جھولا جھولا کرتا تھا، جن پر چڑھ کر وہ آسمان کو چھونے کی کوشش کرتا تھا۔ کچھ دیر بعد درخت نے نرمی سے کہا ’’’اگر تمہیں گھر بنانا ہے تو میری شاخیں کاٹ لو۔ ان سے لکڑی حاصل کر لینا۔ وہ لکڑی تمہارے گھر کی دیواریں اور چھت بن جائے گی۔ ‘‘ جوان آدمی نے حیرت سے درخت کی طرف دیکھا۔ شاید اسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ پھر اس کے چہرے پر خوشی کی جھلک نمودار ہوئی۔ 
اس نے فوراً کلہاڑی منگوائی اور درخت کی شاخیں کاٹنا شروع کر دیں۔ ایک ایک کر کے وہ تمام مضبوط شاخیں جن پر کبھی پرندے گھونسلے بناتے تھے، جن کے سائے میں مسافر آرام کرتے تھے اور جن کے درمیان سے ہوا سرگوشیاں کیا کرتی تھی، زمین پر گرنے لگیں۔ درخت کو درد ضرور محسوس ہوا، لیکن اس درد کے پیچھے ایک عجیب سی خوشی بھی تھی۔ ہر گرتی ہوئی شاخ کے ساتھ وہ یہی سوچتا رہا کہ اس کا دوست اپنا گھر بنا سکے گا۔ جب کام ختم ہوا تو اس کے پاس صرف تنا باقی رہ گیا تھا۔ نہ پھیلی ہوئی شاخیں تھیں، نہ گھنا سایہ۔ 
جوان آدمی لکڑی کا ڈھیر لے کر واپس چلا گیا۔ اس نے شکریہ ادا کیا یا نہیں، درخت کو یاد نہ رہا۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ وہ خوش دکھائی دے رہا تھا۔ اور یہی بات درخت کیلئے کافی تھی۔ پھر ایک بار خاموشی چھا گئی۔ اب میدان پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ وہ تناور درخت جو کبھی دور سے نظر آتا تھا، اب ایک کٹا پھٹا وجود بن چکا تھا۔ پرندے کم آنے لگے تھے۔ بچے اس کے گرد کم کھیلتے تھے۔ لیکن درخت کو ان باتوں کی پروا نہیں تھی۔ وہ اب بھی ہر روز اسی راستے کو دیکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ایک دن اس کا دوست دوبارہ آئے گا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: مخملی خرگوش

سال گزرتے گئے۔ وقت نے اس کے تنے پر مزید نشان چھوڑ دیئے۔ بارشیں آتیں اور چلی جاتیں۔ سردیاں گزرتیں اور بہاریں لوٹتیں۔ مگر ایک دن وہ انتظار پھر ختم ہوا۔ دور راستے پر ایک بار پھر وہی مانوس چہرہ دکھائی دیا۔ اب وہ شخص درمیانی عمر میں داخل ہو چکا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، آنکھوں میں بے چینی تھی اور قدموں میں ایک عجیب سی جلدی۔ درخت نے اسے دیکھتے ہی خوشی محسوس کی۔ وقت نے اس شخص کے چہرے پر اپنے نقوش ثبت کر دیئے تھے۔ برسوں کا انتظار ایک بار پھر ختم ہوا تھا۔ 
’’میرے دوست!‘‘ درخت نے محبت سے سوچا، ’’تم واپس آ گئے۔ کاش تم کچھ دیر میرے پاس بیٹھو، مجھ سے باتیں کرو اور مجھے بتاؤ کہ زندگی نے تمہارے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے۔ ‘‘ لیکن آدمی کے دل میں اس وقت کسی اور ہی قسم کی بے چینی تھی۔ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا، ’’زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ مَیں مسلسل کام کر رہا ہوں، ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں، مگر دل کو سکون نہیں ملتا۔ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مَیں سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں۔ مَیں سمندر پار جانا چاہتا ہوں، نئی جگہیں دیکھنا چاہتا ہوں، شاید وہ سکون مل جائے جس کی مجھے تلاش ہے۔ لیکن میرے پاس کشتی نہیں ہے۔ ‘‘ درخت خاموش ہو گیا۔ 
اس کے پاس اب نہ پھل تھے اور نہ شاخیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنی بہت سی چیزیں پہلے ہی دے دی ہیں۔ مگر جب اس نے اپنے دوست کے چہرے پر تھکن اور بے چینی دیکھی تو اس کے دل میں پھر وہی پرانی محبت جاگ اٹھی۔ کچھ دیر بعد اس نے نرمی سے کہا، ’’اگر تمہیں کشتی چاہئے تو میرا تنا کاٹ لو۔ اس سے ایک مضبوط کشتی بن سکتی ہے۔ تم اس پر سوار ہو کر دور سمندروں کی طرف جا سکتے ہو۔ ‘‘ یہ سن کر آدمی کی آنکھوں میں امید کی چمک پیدا ہوئی۔ 
اس نے ایک لمحے کیلئے درخت کی طرف دیکھا، پھر کلہاڑی اٹھائی اور اس کے تنے کو کاٹنا شروع کر دیا۔ ہر ضرب کے ساتھ لکڑی کے ریزے فضا میں بکھرتے رہے۔ وہ تنہ جس نے برسوں دھوپ، بارش، آندھی اور طوفان کا سامنا کیا تھا، آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگا۔ کبھی یہی تنہ درخت کی طاقت کی علامت تھا۔ اسی کے سہارے اس کی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی تھیں مگر آج وہ خاموشی سے اپنے دوست کی ضرورت پوری کرنے کیلئے خود کو قربان کر رہا تھا۔ 
آخرکار تنہ گر گیا۔ آدمی نے لکڑی سے کشتی بنائی اور اسے لے کر روانہ ہو گیا۔ درخت نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس بار اس کے پاس الوداع کیلئے ہاتھ ہلانے کیلئے شاخیں نہیں تھیں، سایہ دینے کیلئے پتے نہیں تھے اور پھل پیش کرنے کیلئے سیب نہیں تھے۔ اس کے پاس صرف خاموشی تھی۔ اور انتظار۔ 
اس کے بعد بہت طویل عرصہ گزر گیا۔ اتنا طویل کہ درخت کو موسموں کی گنتی بھی یاد نہ رہی۔ بہاریں آئیں اور چلی گئیں۔ خزاں نے بار بار زمین کو زرد پتوں سے بھر دیا۔ سردیوں نے میدان کو اپنی خاموش سفیدی میں لپیٹ لیا۔ مگر آدمی واپس نہ آیا۔ 
اب درخت درخت کم اور زمین سے ابھری ہوئی ایک بوڑھی سی ٹھونٹھ زیادہ دکھائی دیتی تھی۔ جو لوگ اس کے پاس سے گزرتے، انہیں شاید اندازہ بھی نہ ہوتا کہ کبھی یہاں ایک سرسبز اور تناور درخت کھڑا تھا۔ وقت نے اس کے وجود کو بدل دیا تھا، لیکن اس کے دل میں موجود محبت کو نہیں۔ پھر ایک شام، جب سورج ڈھلنے کے قریب تھا اور سنہری روشنی میدان پر بکھری ہوئی تھی، اسے دور سے کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز سنائی دی۔ قدموں میں اب جوانی کی طاقت نہیں تھی۔ رفتار سست تھی۔ سانسوں میں تھکن تھی۔ جب وہ شخص قریب آیا تو درخت نے فوراً اسے پہچان لیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی

وہی لڑکا تھا۔ مگر اب وہ لڑکا نہیں رہا تھا۔ وہ ایک بوڑھا آدمی بن چکا تھا۔ اس کے بال سفید تھے، کمر جھکی ہوئی تھی اور چہرے پر زندگی بھر کے تجربات اور جدوجہد کے آثار نمایاں تھے۔ درخت کا دل خوشی سے بھر گیا۔ برسوں بعد اس کا دوست دوبارہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ لیکن اس بار منظر مختلف تھا۔ 
درخت کے پاس نہ سیب تھے، نہ شاخیں اور نہ تنہ۔ اور بوڑھے آدمی کے پاس نہ جوانی تھی، نہ طاقت، نہ بڑے خواب۔ دونوں وقت کے ہاتھوں بدل چکے تھے۔ ’’میرے دوست، ‘‘ درخت نے کہا، ’’کاش میرے پاس اب بھی تمہیں دینے کیلئے کچھ ہوتا۔ ‘‘
بوڑھے آدمی نے مسکرا کر جواب دیا، ’’اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ نہ مجھے سیب چاہئیں، نہ گھر، نہ کشتی۔ میں زندگی کا بہت لمبا سفر طے کر چکا ہوں۔ اب مَیں تھک گیا ہوں۔ ‘‘
یہ سن کر درخت کو پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید اب اس کے پاس واقعی کچھ ہے جو وہ دے سکتا ہے۔ اس نے آہستہ سے کہا، ’’ایک بوڑھے درخت کی ٹھونٹھ بیٹھنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے۔ آؤ، میرے پاس بیٹھ جاؤ اور کچھ دیر آرام کرو۔ ‘‘ بوڑھا آدمی خاموشی سے آگے بڑھا اور درخت کی ٹھونٹھ پر بیٹھ گیا۔ 
اس نے ایک گہری سانس لی۔ شاید برسوں بعد اسے سکون کا کوئی لمحہ نصیب ہوا تھا۔ اور درخت بہت خوش تھا کیونکہ اپنی پوری زندگی میں اس نے جو کچھ بھی تھا، سب دے دیا تھا۔ اور آخر میں جب اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا تھا، تب بھی وہ اپنے دوست کیلئے آرام کی ایک جگہ بن سکا تھا۔ 
یہ ایک سادہ سی کہانی ہے، لیکن اس کے اندر محبت کا ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو لینے اور دینے کے حساب سے نہیں چلتے۔ وہ صرف محبت کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں۔ درخت نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی خوشی کیلئے صرف کر دی، اور شاید اسی میں اس کی خوشی بھی پوشیدہ تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK