لاک ڈاؤن اور رمضان، یہ ۹؍ اہم باتیں ضرور سیکھنا چاہئے

Updated: May 23, 2020, 5:57 AM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

کورونا وائرس کے سبب ملک بھر میں تقریباً ۲؍ مہینے سے لاک ڈاؤن ہے۔ اسی دوران رمضان المبارک کی تشریف آوری ہوئی اور ہم نے اس مہینے کو لاک ڈاؤن میں انتہائی صبر اور سادگی سے گزارا۔ یہ رمضان گزشتہ تمام رمضان سے کئی اعتبار سے الگ تھا۔ دراصل امسال کے رمضان سے طلبہ کو بہت کچھ سیکھنا چاہئے۔

For Representation Purpose Only. Photo PTI
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

گزشتہ رمضان تک کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ۲۰۲۰ء میں ماہ مبارک لاک ڈاؤن میں گزرے گا اور لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں گے۔ فی الحال پوری دنیا میں کورونا وائرس (کووڈ ۱۹) کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام ممالک نے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے۔ ہندوستان میں تقریباً ۲؍ مہینے سے لاک ڈاؤن ہے جس کے سبب بلا ضرورت کسی کو بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ لوگ اپنی حفاظت کی غرض سے بھی گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں ۔ اسی دوران ماہ صیام آگیا اور اس سال مسلمانوں نے لاک ڈاؤن کے درمیان ہی رمضان گزارا۔ لاک ڈاؤن میں گزرنے والے اس رمضان سے لوگوں کو، خاص طور پر طلبہ کو کیا سیکھنا چاہئے ، جانئے اس مضمون میں ۔
 آزادی
آج ہمارے گھروں کے دروازے مقفل نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہم باہر نہیں نکل رہے ہیں ۔ ہم نے کورونا وائرس سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنے آپ کو گھروں تک محدود کرلیا ہے۔ ہم حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر عمل کررہے ہیں ۔ خیال رہے کہ ہمارا مذہب بھی ہم پر پابندیاں عائد کرتا ہے جو بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے حد ضروری ہیں ۔ ان پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک بہتر اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں ۔
صبر
رمضان ہمیں صبر کرنا سکھاتا ہے کہ ہمیں سحری سے لے کر افطار تک کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔ ہمیں صبر کرنا ہے۔ اسی طرح لاک ڈاؤن میں آنے والے رمضان نے ہمیں مزید صابر بنادیا ہے۔ اب ہم میں یہ صبر آگیا ہے کہ فلاں کام کرنے یا فلاں چیز خریدنے کیلئے لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کا انتظار کررہے ہیں ۔ اگر ہم اپنے صبر کو مزید مستحکم کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ جو کام لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے نہیں کئے، وہ ضروری بھی نہیں ہیں اور ہم ان چیزوں کے بغیر بھی گزارا کرسکتے ہیں ۔
نرم رویہ
لاک ڈاؤن میں انسان کا رویہ نرم ہوگیا ہے۔ جب ہم فون پر بات کر رہے ہوتے ہیں یا بازار میں کسی ضروری کام سے جاتے ہیں تو لوگوں سے نرمی سے بات کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کا ہر شخص پریشان ہے اور ہمیں دوسروں کی پریشانیوں کا سمجھنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے شاید اسی لئے ہمارا رویہ نرم ہوگیا ہے اور ہم لوگوں کو سمجھنے لگے ہیں اور رمضان میں ہم ویسے بھی غصہ سے بچتے ہیں ۔
کفایت شعاری
لاک ڈاؤن نے لوگوں کو کفایت شعار بنادیا ہے۔ اب لوگ فضول خرچی سے پرہیز کررہے ہیں ۔ اس سے قبل رمضان المبارک میں مسلمان بے دریغ روپے خرچ کرتے تھے یعنی انہیں جن چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی وہ بھی خرید لیتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔ چونکہ لاک ڈاؤن کے سبب بازار بند ہیں اس لئے رمضان یا عید کی خریداری کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ لوگوں کو اب یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ وہ کم میں بھی آسانی سے گزارا سکتے ہیں اس کیلئے زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس دوران انہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ زندگی گزارنے کیلئے کون سی چیزیں ضروری ہیں اور کون سی چیزیں ایسی ہیں جن پر خرچ نہ کرکے روپے بچائے جاسکتے ہیں ۔
مدد کا جذبہ
رمضان المبارک میں تمام ذی حیثیت مسلمان غریبوں کی مدد کیلئے ہمیشہ آگے رہتے تھے۔ مگر اس مرتبہ بڑوں کے ساتھ بچے بھی اس بات کو محسوس کر رہے ہیں اور وہ بھی غریبوں ، مسکینوں اور مستحقین کی مدد کرنے میں پیش پیش ہیں ۔ اس مرتبہ تمام مسلمانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عید کی خریداری نہیں کریں گے بلکہ اس رقم کو ایسے لوگوں میں تقسیم کریں گے جو ضرورت مند ہیں اور یہ تہوار منانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہم غربا و مساکین کو عید کی خوشیوں میں شریک کریں ۔
بے جا ضد سے پرہیز
اس دوران یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بچے اپنے والدین سے بے جا ضد نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کو اس بات کا احساس ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب تمام افراد گھروں ہی میں ہیں اس لئے کسی بھی قسم کی ضد کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں اب احساس محرومی نہیں ہے، خاص طور پر بچوں نے تھوڑے میں خوش رہنا سیکھ لیا ہے۔ انہیں اب کسی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آرہی ہے اس لئے وہ مطمئن ہیں ۔
صحت کی نعمت اور دولت
لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے ختم ہونے کے بعد، انسانوں میں جو سب سے بڑی تبدیلی آئے گی وہ صحت کے متعلق ہوگی۔ کورونا وائرس سے قبل لوگ اپنی صحت پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے لیکن اب وہ اپنی صحت کے متعلق اتنے سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ بغیر ہاتھ دھوئے کوئی کام نہیں کرتے، باقاعدہ سینیٹائزر استعمال کرتے ہیں ، ماسک لگاتے ہیں اور بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے بچتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی کو نارمل سردی ہو جاتی ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاتا کہ اپنے سے ٹھیک ہو جائے گی بلکہ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں ہم اپنی صحت کا مزید خیال رکھ رہے ہیں ۔ ایسی غذاؤں کا استعمال کر رہے ہیں جن سے مدافعتی نظام مستحکم ہوتا ہے۔ بد پرہیزی سے بچ رہے ہیں اور ایسی غذائیں نہیں کھارہے ہیں جن سے کسی قسم کی کوئی بیماری ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
غذا کو ضائع ہونے سے بچانا
امسال رمضان میں سب سے خوش آئند کام یہ ہوا ہے کہ غذائیں ضائع نہیں ہورہی ہیں ۔ گھر کے بچے ہوں یا بڑے ہر کوئی کوشش کررہا ہے کہ غذا ضائع نہ ہو۔ ملک میں مزدوروں اور غرباء کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہر شخص کو اندازہ ہوگیا ہے کہ غذا کتنی اہم ہے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ لوگ اپنے گھروں میں زیادہ کھانا پکارہے ہیں تاکہ اضافی کھانے کو ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاسکے۔ اس طرح لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں اور دوسروں کے دکھ اور درد کو سمجھ بھی رہے ہیں ۔
رشتوں کی قدر
لاک ڈاؤن سے قبل لوگ اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے کنبہ کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے تھے۔ مگر اب لوگ اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ معیاری وقت گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے رشتے مضبوط ہو رہے ہیں اور بچے ہوں یا بڑے، تمام لوگ ایک دوسرے کا احترام کررہے ہیں ۔

ramadan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK