EPAPER
Updated: February 23, 2026, 4:02 PM IST | London
لندن میں رمضان المبارک کے دوران بہرے یا قوت سماعت سے محروم افراد کے لیے خصوصی تراویح کا اہتمام کیا گیا، جہاں اشاروں کی زبان میں قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔ اس منفرد اقدام نے نہ صرف مذہبی شمولیت کو فروغ دیا بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ قرآن کو مختلف طریقوں سے محفوظ اور منتقل کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں رمضان کے دوران بہرے اور سماعت سے محروم افراد کے لیے خصوصی تراویح کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر قرآن کریم کی تلاوت اشاروں کی زبان میں کی گئی، جس نے کمیونٹی میں ایک نئی مثال قائم کی۔ منتظمین کے مطابق، کچھ افراد نے پورا قرآن اشاروں کی زبان میں یاد کر رکھا ہے، جو ایک غیر معمولی اور متاثر کن کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔
Deaf Taraweeh in London.
— آل معلم (@Aal_Moalim) February 22, 2026
It’s amazing how there’s people who’ve memorised the whole Quran in sign language.
A truly preserved book! pic.twitter.com/wAnYPrxf3h
مذہبی شمولیت کی مثال
یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی رسومات کو ہر فرد کے لیے قابل رسائی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں مساجد اور اسلامی مراکز حالیہ برسوں میں معذور افراد کے لیے سہولیات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، جن میں اشاروں کی زبان کے مترجمین اور خصوصی انتظامات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اشاروں کی زبان کے ذریعے قرآن کی تعلیم دینا نہ صرف مذہبی تعلیم کو عام کرتا ہے بلکہ سماعت سے محروم افراد کو عبادات میں مکمل شرکت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تیونس میں بازار سے کیلے غائب! فی کلو قیمت ۷؍امریکی ڈالر پہنچی!
قرآن کی حفاظت اور ترسیل
علماء کے مطابق قرآن کریم کی حفاظت صرف تحریری شکل تک محدود نہیں بلکہ زبانی یادداشت اور مختلف زبانوں اور طریقوں کے ذریعے بھی جاری ہے۔ اشاروں کی زبان میں قرآن کا حفظ اسی تسلسل کی ایک جدید مثال ہے۔ مقامی کمیونٹی کے افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ روحانی اور سماجی طور پر حوصلہ افزا لمحہ تھا، جس نے اتحاد اور شمولیت کے پیغام کو تقویت دی۔