ملئے امسال نوبیل انعام حاصل کرنے والی ۱۳؍ شخصیات سے

Updated: October 15, 2021, 7:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

سال ۲۰۲۰میں اِن سائنسدانوں ، ماہرین معاشیات، امن کےپیامبروں اور شہ سوار ِادب نے اپنی اپنی تخلیق سے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے اور انسانیت کو فیض پہنچانے کی کوشش کی۔

The first Nobel Prize ceremony. Photo: Nobel Prize.com
نوبیل انعام کی پہلی تقریب۔ تصویر: نوبیل پرائز ڈاٹ کام

 نوبیل انعام پانے والی شخصیات کے ناموں کا اعلان ستمبر کے آخری یا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کیا جاتا ہے۔ امسال ۴؍ اکتوبر تا ۱۱؍ اکتوبر ان شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔
 نوبیل انعام کے بانی الفریڈ نوبیل تھے۔ انہوں نے ڈائنامائٹ کے علاوہ کئی دیگر چیزیں بھی ایجاد کی تھیں ۔موت سے قبل انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کی دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران کیمیا، طبیعیات، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔اس وصیت کے تحت ایک فنڈ قائم کیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبیل انعام کے حقداروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔۱۹۶۸ء میں نوبیل انعام کے ۵؍ شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کیا گیا۔ اس طرح اب ۶؍ شعبوں میں نوبیل انعام دیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ نوبیل فنڈ کے بورڈ کے ۶؍ ڈائریکٹر ہوتے جنہیں دو سال کیلئے منتخب کیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق سویڈن یا ناروے سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ کسی اور ملک سے ڈائریکٹرز کی تقرری نہیں کی جاتی۔ 
 نوبیل فنڈ میں ہر سال منافع میں اضافے کے ساتھ انعام کی رقم بھی بڑھ رہی ہے۔ ۱۹۴۸ء میں انعام یافتگان کو فی کس ۳۲؍ ہزار ڈالر ملے تھےجبکہ ۱۹۹۷ء میں یہ رقم بڑھ کر ۱۰؍ لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
 نوبیل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ نوبیل کی ۵؍ ویں برسی یعنی۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے لے کر اب تک یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو منعقد کی جاتی ہے۔ امن کا نوبیل انعام اوسلو، ناروے میں منعقد ہونے والی تقریب میں دیا جاتا ہے جبکہ دیگر ۵؍ شعبوں کے انعام اسٹاک ہوم، سویڈن میں تفویض کئے جاتے ہیں ۔
 نوبیل انعام میں ایک نوبیل میڈل، ایک نوبیل ڈپلوما اور۱۰؍ ملین سویڈش کرونا(سویڈن کی کرنسی) دیئے جاتے ہیں ۔ بطور طالب علم آپ کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سال نوبیل انعام پانے والی ان ۱۳؍ شخصیات نے کون سا کارنامہ انجام دیا کہ وہ اس اعزاز کے حقدار قرار پائے۔
فزیولوجی یا میڈیسن ،طب
اعلان کب کیا گیا: ۴؍ اکتوبر
آردیم پاتوپوتیان
ڈیوڈ جولیس
 گرمی ، سردی اور چھونے کو سمجھنے کی ہماری صلاحیت بقا کیلئےضروری ہے۔اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہم ان احساسات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، لیکن اعصابی تسلسل کیسے شروع کئے جاتے ہیں تاکہ درجہ حرارت اور دباؤ کو سمجھا جا سکے۔ یہ سوال اس سال کے نوبیل انعام یافتہ افراد نے حل کیا ہے۔
 یونیورسٹی آف کیلیفورنیا،سان فرانسسکو کے ڈاکٹر ڈیوڈ جولیس اور اسکرپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کیلیفورنیا کے ڈاکٹر آردیم پاتوپوتیان کو جسمانی درجہ حرارت اور احساسات کو دریافت کرنے پر طب کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔ دونوں ماہرین نے دریافت کیا کہ کس طرح انسانی جسم سورج کو تپش کو محسوس کرتا ہے اور انسان جب ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں تو ان کے جسم میں کس طرح کے احساسات پیدا ہوتے ہیں ۔
 فزکس، طبیعیات
اعلان کب کیا گیا: ۵؍ اکتوبر
کلاؤس ہاسلمین
جیورجیو پاریسی
سیوکورومنابی
 پیچیدہ نظام، بے ترتیبی اور خرابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں ۔ انہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس سال کا انعام اس نظام کو بیان کرنے اور ان کے طویل المیعاد رویے کی پیش گوئی کرنے کے نئے طریقے دریافت کرنے والے سائنسدانوں کو دیا جارہا ہے۔
 نوبیل کمیٹی نے ان سائنسدانوں کے متعلق لکھا ہے کہ ان کی کاوشوں کی بدولت ماحولیاتی آلودگی اور اس کے انسانی جسم و زندگی پر اثرات کے معاملات حل ہوئے ہیں ۔ جاپانی اور جرمن ماہر کی دریافتوں سے زمینی آب و ہوا میں تبدیلی اور اس کے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے اثرات جبکہ اٹلی کے ماہر کی جانب سے ایٹمی مواد کے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کی دریافت نے دنیا میں حیران کن تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں ۔
کیمسٹری،کیمیا
اعلان کب کیا گیا: ۶؍ اکتوبر
بنجامن لسٹ
ڈیوڈ میک میلان
 متعدد تحقیقی شعبے اور صنعتیں کیمیا دانوں کی دریافتوں اور ایجادات پر منحصر ہوتی ہیں ۔ کیمسٹری میں مالیکیولز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کے ذریعے ادویات تیار کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں ان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔  
 ان دونوں کیمیا دانوں کو ڈیولپمنٹ آف اسیمیٹرک آرگیانو کیٹالس(ایک قسم کا کیمیائی عمل) پر نوبیل انعام دیا گیا ہے۔ دونوں سائنسدانوں نے علاحدہ علاحدہ اس کیمیائی عمل کا نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔ انہوں نے مالیکیولس یعنی کسی شے کے سب سے چھوٹے حصے جو بالکل ایک دوسرے کی طرح نظر آتے ہیں ، کی تیاری سے متعلق کام کیا ہے۔ ان کے کیمیکل ٹول کٹ کو نئی ادویات کا پتہ لگانے اور مالیکیولس بنانے کیلئےاستعمال کیا گیا ہے۔ 
لٹریچر ،ادب
اعلان کب کیا گیا: ۷؍ اکتوبر
عبدالرزاق گرناہ
 نوبیل انعام کی جیوری کے مطابق ’’ ایک ناول نگار کے طور پر ۷۲؍ سالہ گرناہ کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تصانیف میں بڑے ہمدردانہ انداز میں اور کسی بھی مصلحت پسندی سے کام لئے بغیر نوآبادیاتی نظام کے اثرات اور ایک مہاجر کی قسمت انتہائی متاثر کن انداز میں یکجا ہو جاتے ہیں ۔‘‘
 عبدالرزاق گرناہ کا تعلق تنزانیہ سے ہیں لیکن وہ برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ ۱۴؍ سال میں اس اعزاز کیلئے منتخب ہونے والے وہ پہلے افریقی ادیب ہیں ۔ انہوں نے لیکچرر کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں ۔ لیکن اس دوران انہوں نے اپناادبی کام بھی جاری رکھا تھا۔ ان کی مادری زبان سواحلی ہے لیکن انہوں نے انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دی۔ ۲۰؍ سال کی عمر میں انہوں نے بے وطنی یا بے گھری کے عذاب پر ڈائری لکھنا شروع کی تھی۔
پیس ،امن
اعلان کب کیا گیا: ۸؍ اکتوبر
دمتری موراتوف
ماریا ریسا
 دونوں ہی صحافیوں کو آزادیٴ اظہار کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کوششوں کے صلے میں مشترکہ طور پر امن کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔نوبیل کمیٹی کے مطابق مذکورہ دونوں صحافی ان تمام صحافیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جو مشکل حالات میں جمہوریت اور میڈیا کی آزادی کیلئے آواز بلند کرتے ہیں ۔ ماریا ریسا نے اپنے دیگر ساتھی صحافیوں کے ساتھ مل کر ۲۰۱۲ء میں ’’ریپلر‘‘ نامی ویب سائٹ کی بنیاد رکھی تھی جس پر فلپائن کے سابق صدر روڈریگو دیوترتے کے متنازع انسدادِ منشیات مہم پر تنقیدی مواد شائع ہوتا تھا۔ 
 دمتری موراتوف روس کے مقبول ترین اخبار ’’نووایا گیزیٹ‘‘ کے بانی ہیں جنہوں نے اس کی بنیاد ۱۹۹۳ء میں رکھی تھی۔یہ روس میں اس وقت ایک آزاد اخبار ہے جو بنیادی طور پر مقتدر حلقوں کا ناقد ہے۔
اکنامکس ،معاشیات
اعلان کب کیا گیا: ۱۱؍ اکتوبر
گائیڈو امبینز
ڈیوڈ کارڈ
جوشوا اینگریسٹ
 سماجی علوم میں متعدد اہم سوالات وجہ اور اثر سے متعلق ہیں ۔ ہجرت، تنخواہ اور روزگار کی سطح کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ طویل عرصہ تک تعلیم حاصل کرتے رہنا کسی کی مستقبل کی آمدنی کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ ان سوالات کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ ہمارے پاس موازنہ کے طور پر استعمال کرنے کیلئےکچھ نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اگر نقل مکانی ہوتی ہے یا کوئی شخص اگر عرصہ تک تعلیم حاصل کرتا رہتا ہےتو کیا ہوتا ہے۔ نوبیل انعام کی ویب سائٹ کے مطابق ایوارڈ کا نصف حصہ لینے والے کینیڈین ماہر اقتصادیات ڈیوڈ کارڈ کو لیبر اکنامکس میں خدمات سر انجام دینے جبکہ دیگر دونوں ماہرین کو کاروباری معاملات میں موازنے کا طریقہ کار متعارف کرائے جانے پر دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK