نئی تعلیمی پالیسی(این ای پی): طلبہ کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟

Updated: July 31, 2020, 7:10 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے ملک کے تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس کا ایک اہم مقصد طلبہ کی بہترین ذہنی نشوونما اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دنیا کے تمام ممالک تعلیمی پالیسی پر زور دیتے ہیں ۔ تعلیمی پالیسیوں کے نتائج اور سماجی اور معاشی ترقی پر ان کے اثرات پر توجہ دینے کیلئے عالمی سطح پر دنیا بھر کی حکومتوں کو غور کرنے کیلئے کہا جاتا ہے۔ تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کیلئے برسوں محنت کی جاتی ہے جس میں کئی باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے تاکہ ایک بہترین تعلیمی پالیسی تیار ہو جس کا فائدہ طلبہ کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی ہو۔ ہر تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنا ہوتا ہے۔ہندوستان میں ۱۹۸۶ءکے بعد سے تعلیمی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی ہے البتہ ۱۹۹۲ء میں اس میں چند ترامیم کی گئی تھیں ۔ تاہم، ۲۹؍ جولائی ۲۰۲۰ء کو مرکزی کابینہ نے نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کے عمل میں آتے ہی ملک کے تعلیمی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں ہوں گی۔ چونکہ آپ طالب علم ہیں اس لئے نئی تعلیمی پالیسی کے تعلق سے آپ کیلئے چند باتیں جاننا ضروری ہے۔
 تعلیمی پالیسی کی تاریخ
ابتداء ہی سے ہندوستان میں وہ افراد تعلیمی پالیسی مرتب کرتے رہے ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ آزادی سے قبل تعلیمی پالیسی تیار کرنے کیلئے نہ کسی سائنسی طریقے کا سہارا لیا جاتا تھا اور ہی نہ کوئی تحقیق کی جاتی تھی۔برسر اقتدار افراد جس چیز کو اہم خیال کرتے یا جو چیز انہیں دلچسپ محسوس ہوتی ہے، اسے تعلیمی پالیسی میں شامل کرلیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں جب انگریزوں نے قدم رکھا تو وہ اپنے ساتھ تعلیم کا مغربی نظام بھی لائے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تعلیمی پالیسی لانے والے انگریز ہی تھے۔ ان کے خیال میں ہندوستان کا تعلیمی نظام فرسودہ تھا جسے بدلنا بہت ضروری تھا۔ انگریزوں نے کوشش کی کہ ہندوستان کے ہر حصہ میں تعلیمی نظام کو مستحکم کیا جائے لیکن اس وقت تعلیم صرف اعلیٰ ذاتوں اور امراء ہی کے بچوں کو دی جاتی تھی۔ غریب طلبہ کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا تھا۔لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے سبھی طبقات تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے لگے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے تگ و دو کرنے لگے۔
آزادی کے بعد 
 آزادی کے بعد سینٹرل بورڈ آف ایجوکیشن (سی اے بی ای) نے ۲؍ کمیشن بنائے جن میں سے ایک کا کام یونیورسٹی کی تعلیم پر جبکہ دوسرے کا کام سیکنڈری ایجوکیشن پر توجہ دینا تھا۔ پہلی کمیشن نے ۱۹۴۸ء میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا جبکہ سیکنڈری ایجوکیشن کی کمیشن نے ڈاکٹر اے ایل لکشمن سوامی کی قیادت میں ۱۹۵۲ء میں اپنے کام کی شروعات کی تھی۔ اس کمیشن نے ۱۹۵۳ء میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں ملک کے تعلیمی نظام کے متعلق کافی تفصیل سے بتایا گیا تھا۔اسی رپورٹ میں ملک میں ہائی اسکولوں کی تعمیر، طلبہ کیلئے یونیفارم اور ٹیکنیکل اسکولوں کو شروع کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں ۔ یہ پالیسی کئی وجوہات کی بناء پر قبول نہیں کی گئی البتہ اس کی چند تجاویز کو بہتر قرار دیا گیا تھا۔
کوٹھاری کمیشن کی تشکیل
 ڈی ایس کوٹھاری کی لیڈرشپ میں ۱۹۶۴ء میں انڈین ایجوکیشن کمیشن (کوٹھاری کمیشن) تشکیل دی گئی تھی جس نے ۱۹۵۳ء کی کمیشن کے ان نکات پر خاص توجہ دی جن کے سبب اسے قبول نہیں کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کے کمزور تعلیمی نظام کو بیک وقت کئی اصلاحات ہی مستحکم کرسکتی ہیں ۔ 
نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن
 کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ۱۹۶۸ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ’’نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ مرتب کروائی جس میں معاشرہ کے تمام طبقات کو مد نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے تعلیمی پالیسی بنائی گئی تھی۔ تنقیدوں کے باوجو ، اس پالیسی کو ہندوستانی تعلیمی نظام کو شکل دینے کی پہلی منظم کوشش کے طور پر سراہا گیا۔ ۱۹۷۹ء میں ’’ڈرافٹ نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ بنائی گئی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے ہندوستان کی تمام کمیونٹیز کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگااور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔
قومی تعلیمی پالیسی
  میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے ۱۹۸۶ء میں نئی ’’نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن‘‘ بنائی۔ اس کا ایک مقصد معاشرہ کے ہر طبقہ، خاص طور پر نچلی ذاتوں ، قبائلیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر زور دینا تھا۔ اسے منظوری ملنے کے بعد بڑے پیمانے پر ملک بھر سے ٹیچروں کا تقرر کیا گیا، نئے اسکول اور کالجز تعمیر کئے گئے۔ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد تمام بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم دلوانا یقینی بنانا بھی تھا۔ اسی پالیسی میں تعلیمی نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
تعلیمی پالیسی میں ترامیم
حکومت ہند نے ۱۹۹۲ء میں اچاریہ راما مورتی کی قیادت میں ایک کمیشن تشکیل دیا۔ اس کے بعد این جنا دھن ریڈی کی لیڈرشپ میں سینٹرل ایڈوائزری بور ڈ آف ایجوکیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے کئی اہم ترامیم پیش کیں جن میں تعلیمی نظام کو مزید مستحکم کرنا اور معیاری تعلیم دینا قابل ذکر ہیں ۔
نئی تعلیمی پالیسی
 پہلی قومی تعلیمی پالیسی۱۹۸۶ء میں مرتب کی گئی تھی جس میں ۱۹۹۲ء میں ترمیم کی گئی تھی۔ تقریباً ۳؍ دہائیوں سے اس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس مدت میں دنیا بھر میں کئی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں ۔ ۲۱؍ ویں کے تقاضوں اور ملک کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ہمیں ایک نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت تھی۔۲۰۱۴ء میں اس جانب ایک مرتبہ پھر توجہ دی گئی۔ جب اسمرتی ایرانی کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا تبھی ملک کے مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے گزشتہ تعلیمی پالیسیوں ، دیگر ممالک کے تعلیمی نظام اور مختلف شعبوں کی تحقیق کے بعد ۲۰۱۹ء میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ واضح رہے کہ اس دوران اسمرتی ایرانی کے بعد ۲۰۱۶ء میں پرکاش جاؤڈیکر اور مئی ۲۰۱۹ء میں رمیش پوکھریال کو وزیر برائے ترقی انسانی وسائل بنایا گیا تھا۔
 دی ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۱۹ء (ڈی این ای پی) کا ۲۲؍ زبانوں میں ترجمہ کرکے اسے ’’مائے گو‘‘ (مائے گورنمنٹ) اور وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کی ویبس سائٹس پر اپ لوڈ کیا گیا اور ملک کے ماہرین اور عوام سے اس پر رائے طلب کی گئی۔ تمام ریاستوں کے وزارء کے علاوہ عوام کی جانب سے اس پالیسی پر حکومت کو تقریباً ۲؍ لاکھ جوابات موصول ہوئے۔ نومبر ۲۰۱۹ء میں نئی تعلیمی پالیسی کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیا گیا جہاں اس پالیسی پر کافی بحث کی گئی۔ تاہم، ۲۹؍ جولائی ۲۰۲۰ء کو کابینہ نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔ اس پالیسی کا مقصد موجودہ ہندوستانی تعلیمی نظام میں متعدد تبدیلیاں متعارف کروانا ہے۔
 اسی دن وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کو دوبارہ وزارت تعلیم اور رمیش پوکھریال کو وزیر تعلیم بنایا گیا۔ 
نئی تعلیمی پالیسی کے متعلق طلبہ کیلئے کیا جاننا ضروری ہے؟
 تعلیم کا حق پہلے ۱۴؍ سال کی عمر تک ہی تھا، جسے ۳؍ سے ۱۸؍ سال کی عمر تک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 
تعلیم حاصل کرنے کے موجودہ طریقے کو تبدیل کیا جائے گا۔ 
بورڈ امتحانات میں ، طلبہ کو درحقیقت کتنی معلومات ہے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ روٹ لرننگ (رٹا مارکر پڑھائی کرنا) کا فیصد کم کردیا جائے گا۔
بورڈ امتحانات سال میں ۲؍ مرتبہ منعقد ہوں گے۔ 
نصاب میں ۳؍ زبانوں کی پالیسی برقرار رہے گی البتہ مادری زبان یا مقامی زبان ۵؍ ویں یا ۸؍ ویں جماعت تک ہی تعلیم کا ذریعہ ہوگی۔
رپورٹ کارڈ (رزلٹ) صرف نمبروں اور ریمارکس کے بجائے طلبہ کی مہارت اور صلاحیتوں پر ایک جامع رپورٹ کی شکل میں ہوگا۔
اسکول کے طلبہ کو سال میں ۱۰؍ ’’بیگ لیس ڈے‘‘ (بغیر بستہ کے) دیئے جائینگے۔ ان دنوں میں وہ اپنی دیگر صلاحیتوں (غیر نصابی سرگرمیوں ) پر توجہ دیں گے۔
طلبہ کو آرٹس، سائنس اور کامرس میں تقسیم ہونا نہیں پڑے گا بلکہ وہ کسی بھی شعبے سے اپنی پسند کے مضامین منتخب کرکے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
کالج میں داخلہ لینے کیلئے کامن انٹرنٹس ٹیسٹ منعقد کیا جائے گا۔ 
 گریجویشن ۳؍ سال کے بجائے ۴؍ سال کا ہوگا۔
تعلیم دینے کےجدید طریقوں جیسے ٹیکنالوجی وغیرہ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK