اکثر کسی فرد یا چیز کو چھونے پر بجلی کا جھٹکا لگتا ہے، کیوں ؟

Updated: April 02, 2021, 7:15 AM IST | Mumbai

کیا آپ کو کبھی کسی فرد یا کسی عام سی چیز کو چھونے پر ہلکے سے بجلی کے جھٹکے کے تجربے کا سامنا ہوا ہے؟یقیناً ہوا ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک عام بات ہے۔ درحقیقت ایسا متعدد افراد کے ساتھ ہوتا ہے مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟اس کی کئی دلچسپ وجوہات ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کیا آپ کو کبھی کسی فرد یا کسی عام سی چیز کو چھونے پر ہلکے سے بجلی کے جھٹکے کے تجربے کا سامنا ہوا ہے؟یقیناً ہوا ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک عام بات ہے۔ درحقیقت ایسا متعدد افراد کے ساتھ ہوتا ہے مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟اس کی کئی دلچسپ وجوہات ہیں ۔
 ہمارے ارگرد ہر چیز ایٹمز سے بنی ہوئی ہے اور ان میں انسانی جسم بھی شامل ہے۔ یہ ایٹمز پروٹون، الیکٹرون اور نیوٹرون کا امتزاج ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک میں بالترتیب پوزیٹیو (مثبت)، نیگیٹو (منفی) یا نیوٹرل چارج ہوتا ہے۔ اگرچہ ایٹمز میں ان تینوں ذرات کی تعداد متوازن ہوتی ہے۔ تاہم، الیکٹرونز ہر وقت ایک سے دوسری جگہ سفر کرتے رہتے ہیں ، یعنی وہ فرنیچر سے ہمارے ملبوسات میں منتقل ہوسکتے ہیں ، اور وہ لباس پہن کر ہاتھ ملانے پر کسی دوسرے فرد کو بجلی کا ایک ہلکا سے جھٹکا دے سکتے ہیں ۔
 جب الیکٹرون اور پروٹون میں توازن برقرار نہیں رہتا تو منفی اور مثبت توانائی میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جسے سائنسدان اسٹیٹک الیکٹرسٹی (ایسی برقی توانائی جو برقی رو کی صورت میں رواں نہ ہو) کہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنے بالوں پر غبارے کو رگڑیں تو آپ زیادہ الیکٹرونز اپنے اندر جمع کررہے ہوتے ہیں ، اس کے کچھ دیر بعد کسی پازیٹو چارج والی شے جیسے دھاتی چیز یا کوئی بھی ایسی چیز جو کنڈکٹو میٹریل سے بنی ہو، اسے چھوئیں تو بجلی کے ہلکے سے جھٹکے کا احساس ہوسکتا ہے۔
 یہ وہ الیکٹرونز ہوتے ہیں جو ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونے پر توازن بحال کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسا تجربہ سرد موسم میں زیادہ ہوسکتا ہے یا ایسی جگہوں پر جہاں موسم خشک اور سرد ہو، کیونکہ ہوا میں زیادہ نمی قدرتی کنڈکٹر کا کام کرتی ہے اور اس طرح کے ہلکے برقی رو کی روک تھام کرتی ہے۔
 اس کے مقابلے میں ہوا میں نمی کم ہونے سے مخصوص اشیاء کو چھونے پر بجلی کے جھٹکوں کا اکثر سامنا ہوسکتا ہے۔بیشتر افراد کو علم ہے کہ دھاتی اشیا بجلی کے بنیادی کنڈکٹرز کا کام کرتی ہیں ، تو ان میں اس طرح کا تجربہ بھی زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔تاہم، فائبر جیسے پولیسٹر میں بھی اس طرح کا تجربہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔پولیسٹر کا استعمال روزمرہ کی متعدد اشیا جیسے فرنیچر اور ملبوسات میں عام ہوتا ہے۔
 بالفاظ دیگر جب آپ کے جسم پر یا روزمرہ کی کسی شے پر الیکٹرونز کی تعداد زیادہ ہوجائے گی، اور اس کے چند سیکنڈز بعد یا فوراً بعد آپ کچھ چھوئیں گے یا کسی شخص کو چھوئیں گے تو آپ کو یا اسے بجلی کا ہلکا جٹھکا لگے گا۔ کبھی کبھی یہ جھٹکا شدید بھی ہوتا ہے لیکن اتنا بھی شدید نہیں ہوتا کہ آپ کے جسم کو کوئی نقصان پہنچے۔
 خیال رہے کہ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK