اکثر نیند سے قبل ایک جھٹکا بیدار کردیتا ہے، کیوں ؟

Updated: July 10, 2020, 8:01 PM IST | Mumbai

سونے کیلئے بستر پر لیٹنے کے بعد آپ کے خیالات آہستہ آہستہ گم ہونے لگتے ہیں ، اور بیداری سے اونگھتے ہوئے نیند کی جانب سفر شروع ہوجاتا ہے، مگر پھر اچانک جسم کے کسی حصے میں جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے اور آپ ڈرامائی انداز سے بیدار ہوجاتے ہیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سونے کیلئے بستر پر لیٹنے کے بعد آپ کے خیالات آہستہ آہستہ گم ہونے لگتے ہیں ، اور بیداری سے اونگھتے ہوئے نیند کی جانب سفر شروع ہوجاتا ہے، مگر پھر اچانک جسم کے کسی حصے میں جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے اور آپ ڈرامائی انداز سے بیدار ہوجاتے ہیں ۔ کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے؟ بیشتر افراد کو اس کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر ۱۰؍ میں ۸؍ افراد کو اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ طبی زبان میں اسے ہیپنک جرک کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیند کے دوران اچانک چونکا دینے والے یہ جھٹکے بہت مختصر اور اچانک ہوتے ہیں ، اور اکثر نیند کے پہلے مرحلے میں ان کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسان بیداری اور گہری نیند کے درمیان ہوتا ہے۔ نیند کے اس مرحلے میں پٹھے پرسکون ہوجاتے ہیں اور اس جھٹکے کو اکثر دماغ گرنے کے احساس کے طور پر لیتا ہے تو وہ مسلز میں کھینچاؤ پیدا کرتا ہے۔ ہیپنک جرک کو ’’سلیپ اسٹارٹس‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو بغیر وجہ کے ہوتا ہے اور کئی بار یہ جسم میں چھپی کسی بیماری کی علامت بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہ تناؤ، زیادہ ورزش اور مخصوص ادویات وغیرہ کے استعمال سے بھی ہوتا ہے۔نیند کے دوران اس طرح کے جھٹکے سے بیداری صحت مند افراد میں عام ہوتی ہے مگر اس کی شدت میں تھکاوٹ، نیند کی کمی یا کیفین یا دیگر لتوں سے اضافے کا خطرہ ہوتا ہے۔
 عام طور پر اس طرح نیند سے اچانک جاگنا فکرمندی کا باعث نہیں ہوتا۔ تاہم، اس کا سامنا اکثر ہو اور آسانی سے سونا مشکل ہوجائے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلیں ۔ کبھی کبھار نیند سے اچانک چونکنا کسی بیماری کی علامت بھی ہوتا ہے تو اس کی شدت میں اضافے اور مسلسل اس کا تجربہ ہونے پر ڈاکٹر سے چیک کروالینا بہتر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سلیپ اپنیا، ایسا مرض جس کے دوران سوتے ہوئے بار بار سانس چند لمحوں کیلئے تھم جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلز میں کھینچاؤ پیدا ہوتا ہے اور ماہرین کے مطابق جب سانس کی گزرگاہ بند ہو اور آکسیجن کی سطح میں کمی ہوجائے تو دماغ ایسے سگنل بھیجتا ہے جو مسلز میں کسی قسم کے جھٹکے کا باعث بنتے ہیں ۔
 اس مسئلے کی روک تھام کیلئے کوئی بہتر طریقہ کار تو موجود نہیں مگر سونے کا ایک وقت طے کرکے اور آرام دہ ماحول میں نیند سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK