اکثر کوئی ’’نام‘‘ یا ’’لفظ‘‘ یاد نہیں آتا، کیوں ؟

Updated: July 16, 2021, 7:15 AM IST | Mumbai

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی لفظ یا کسی کا نام ہمارے ذہن میں ہوتا ہے لیکن ہمیں اسے یاد کرنے کی بہت کوشش کرنی پڑتی ہے۔شاید اُس وقت آپ کے ذہن میں اُس شخص کی تصویر بن رہی ہوتی ہے جس کے متعلق آپ کا دوست کوئی اشارہ دے رہا ہوتا ہے، تو آپ فوراً اس کا نام یاد کرلیتے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی لفظ یا کسی کا نام ہمارے ذہن میں ہوتا ہے لیکن ہمیں اسے یاد کرنے کی بہت کوشش کرنی پڑتی ہے۔شاید اُس وقت آپ کے ذہن میں اُس شخص کی تصویر بن رہی ہوتی ہے جس کے متعلق آپ کا دوست کوئی اشارہ دے رہا ہوتا ہے، تو آپ فوراً اس کا نام یاد کرلیتے ہیں ۔تاہم، کسی لفظ کو یاد کرنے کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کو ایک تصور یاد کرنے میں دقت ہوتی ہے بلکہ آپ کے ذہن میں اس کا مناسب لفظ یاد نہیں آ رہا ہوتا ہے۔الفاظ تلاش کرنے میں مسائل عام سے معاملات ہیں جو ادھیڑ عمر یا بڑی عمر کے لوگوں میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ اس طرح صحیح نام یا لفظ یاد کرنے میں ناکامی بسا اوقات ان ناموں یا اشیاء کے بارے میں بھی ہوتی ہوں جن سے ہم عموماً بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں ۔
 محققین نے دریافت کیا ہے کہ وہ الفاظ جنہیں یاد کرنے میں بہت زیادہ دِقت ہوتی ہے وہ اسمِ مناسب یا اشیاء کے نام ہوتے ہیں ۔ نام یاد کرنے میں ناکامی ایک لمحے سے لے کر منٹوں یا گھنٹوں تک رہ سکتی ہے اور یہ بہت زیادہ اشتعال بھی دلا سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگوں سے جب بڑھتی ہوئی عمر کے مسائل کے بارے میں بات کی جائے تو وہ لفظ یاد کرنے میں مشکل کی کافی زیادہ شکایت کرتے ہیں ۔
 ایسے واقعات میں ایک شخص کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا لفظ یاد کر رہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لفظ جسے یاد کیا جا رہا ہوتا ہے وہ ذہن کے کسی کونے میں ہے، زبان پر آیا چاہتا ہے لیکن کم از کم اُس لمحے میں مل نہیں رہا ہوتا ہے۔
 ماہرین نفسیات اس کیفیت کو ’’ٹِپ آف دی ٹنگ‘‘ یعنی ’’نوکِ زباں ‘‘ یا ’’ذہن میں تلاش کے دوران زبان پر آنے کے منتظر لفظ کی حالت‘‘ کہتے ہیں ۔ لیکن کیا یہ کیفیت دماغ کے ماؤف ہونے کا اشارہ ہے جیسا کہ یہ بظاہر نظر آتی ہے؟ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ کسی شخص میں یہ کیفیت پیدا ہونا ناگزیر ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ کسی شخص کے ساتھ ایسا کب ہوگا۔لفظ تلاش کرنے اور ’’ٹِپ آف دی ٹنگ‘‘ کی کیفیت کا مطالعہ کرنے والے محققین نے خاص طور چند پہلوؤں کو ایک مقداری کیفیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے: یہ کیفیت کتنی مرتبہ پیدا ہوتی ہے اور کتنی مرتبہ اس کیفیت کا حل نکل آتا ہے، یعنی جس لفظ کی تلاش ہو رہی ہوتی ہے وہ بغیر کسی کی مدد کے اچانک یاد آ جاتا ہے (اس میں کوئی دوست یا کوئی دوسرا شخص وہ لفظ یاد کرنے میں مدد نہ دے)۔ روز مرّہ کے امور کی ڈائری لکھنے والے افراد جس میں وہ اپنی ’نوک زباں ‘‘ کیفیات کو باقاعدگی کے ساتھ درج کرتے ہیں ، وہ محققین کو یہ ڈیٹا فراہم کرتے ہیں کہ کتنی مرتبہ انہوں نے اس کیفیت کا تجربہ کیا اور کتنی مرتبہ انہوں نے اس کیفیت کو کامیابی کے ساتھ حل کرلیا۔ان نتائج سے معلوم ہوا کہ کالج کے طلبہ اس کیفیت کا ہفتے میں ایک سے دو مرتبہ سامنا کرتے ہیں ، جبکہ وہ افراد کو ۶۰؍ یا ۷۰؍ کی عمر کے ہوتے ہیں انہیں اس کیفیت کا کچھ زیادہ مرتبہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ ’’ایروبِک فٹنس‘‘ (زیادہ آکسیجن پہنچانے والی سخت جسمانی ورزش) کرتے رہیں تو آپ کے ساتھ بھولنے کے واقعات کم ہوں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ نوک زباں کی کیفیات کا ہونا آپ کیلئے فائدہ مند ہو۔ یہ شاید بڑھتی ہوئی عمر میں ایک اشارہ ہو کہ جس لفظ کی تلاش کی جا رہی ہے وہ علم میں ہے لیکن فی الحال ذہن میں آ نہیں رہا ہے۔’’ميٹا کوگنيشَن‘‘ ( کسي شخص کي اپني سوچ کے بارے ميں شعور اور تفہيم) کے بارے میں ایسی معلومات ہمارے لئے کافی فائدہ مند بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ایک لفظ کی تلاش میں ناکامی میں اسے تلاش کرنے کی زیادہ کوشش کرنا آخر میں کامیابی کی جانب لے جائے۔ اگر اس معاملے کو اس انداز سے دیکھا جائے تو نوک زباں کی کیفیت شاید لفظ کو ذہن کے کسی کونے سے تلاش کرنے کی ناکامی نہ ہو، بلکہ بہت ہی قابلِ قدر معلومات کا ذریعہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK