Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجہ راؤ انگریزی کے اہم ناول نگار اور بہترین نثر نگار تھے

Updated: July 14, 2023, 5:55 PM IST | Mumbai

راجہ راؤ(Raja Rao) انگریزی کے ناولوں اور مختصر کہانیوں کے ایک ہندوستانی نژاد امریکی مصنف تھے۔ انہیں ہند کے بہترین انگریزی نثر نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔۱۹۶۴ میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیاتھا۔ اُنہوں نے مختلف انواع کے ادب میں کام کیا ہے۔ ہندوستانی انگریزی ادب کی انہوں نے کافی خدمت کی۔

Raja Rao was a professor of philosophy at the University of Texas at Austin from 1966 to 1986
راجہ راؤ، ۱۹۶۶ءسے ۱۹۸۶ء تک آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلسفہ کے پروفیسر رہے

راجہ راؤ(Raja Rao) انگریزی  کے ناولوں اور مختصر کہانیوں کے ایک ہندوستانی نژاد امریکی مصنف تھے۔ انہیں ہند کے بہترین انگریزی نثر نگاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔۱۹۶۴ میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیاتھا۔ اُنہوں نے مختلف انواع کے ادب میں کام کیا ہے۔ ہندوستانی  انگریزی ادب کی انہوں نے کافی خدمت کی۔
 راجہ راؤ۸؍ نومبر۱۹۰۸ء کو میسور کے شہر ہاسن میںایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنے ۹؍ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ اُن کے والد ایچ وی کرشن سوامی، نظام کالج، حیدرآبادمیں کنڑ اور ریاضی کے استاد تھے۔ جب وہ چار سال کے تھے تو اُن کی والدہ گوراماکا انتقال ہو گیا تھا۔والدہ کے انتقال نے اُن پر بحیثیت ناول نگار بہت اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ والدہ کی کمی اور یتیمی اکثر اُن کی تحریروں کے موضوعات رہے ہیں۔ 
 راجہ راؤ کی ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے ایک مسلم اسکول ’مدرسہ عالیہ‘ میں ہوئی تھی۔ ۱۹۲۷ءمیں میٹرک کے بعد انہوں نے نظام کالج میں ڈگری کیلئے داخلہ لیا جہاں ان کی دوستی احمد علی سے ہوگئی جو بعد میں پاکستان کے نامور ادیب بنے۔راجہ راؤنے فرانسیسی زبان اور ادب سیکھنا شروع کیا۔فا رغ التحصیل ہونے کے بعد وہ مدراس یونیورسٹی چلے گئے اور انگریزی اور تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔انہوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کیلئے۱۹۲۹ء میں حکومت حیدرآباد کی ایشیاٹک اسکالرشپ حاصل کی اور پھر وہ مونٹپیلر یونیور سٹی ،فرانس چلے گئے جہاں انہوں نے آئرش ادب پر ہندوستانی ادب کے اثرات کا مطالعہ کیا۔
 ۱۹۳۹ءمیں وہ ہندوستان واپس آگئے اور اقبال سنگھ کے ساتھ جدید بھارتی نظریات پر راجہ رام موہن رائے سے جواہر لعل نہرو تک پر کام کیا۔اُنہوں نے ۱۹۴۲ءکی ہندوستان چھوڑو تحریک میں بھی حصہ لیا۔ پھر اُنہوں نے احمد علی کے ساتھ ممبئی سے ایک جرنل ’ٹومارو‘کے نام سے مرتب کیا۔ اُن کی قوم پرست تحریک کا اثر اُن کی پہلی دو کتابوں میں بھی ملتا ہے۔
 راجہ راؤ نے اپنے ملک میں رہ کر اس وقت کے سماجی و سیاسی ماحول کو اپنے ناولوں اور مختصر کہانیوں کے موضوعات کا حصہ بنایا۔ان کا مشہور ناول’ کانتھا پورہ’(۱۹۳۸ء) انگریزوں کے خلاف عدم تشدد کی مزاحمت پر گاندھی جی کی تعلیم کے اثرات کا بیان تھا نیز انہوں نے گاندھی ازم پر دوسری کتاب جو مختصر کہانی کا مجموعہ ہے’The Cow of the Barricads‘ کے نام سے شائع کی ۔
 راجہ راؤ بعد میںامریکہ منتقل ہو گئے اور ۱۹۶۶ءسے ۱۹۸۶ء تک آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلسفہ کے پروفیسر رہے اور ایمریٹس پروفیسر کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے۔انہیں اپنے ادبی اور ملکی خدمات کے عوض حکومت ہند کی جانب سے ۱۹۶۹ء میں پد م بھوشن اور ۲۰۰۷ء میں پدم وبھوشن کے اعزاز سےنوازا گیا ۔اس کے علاوہ انہیں۱۹۸۸ء میں ادب کیلئے’ نیواسٹاڈٹ انٹرنیشنل پرائز‘ سے بھی نوازا گیا۔ان کا انتقال۸؍ جولائی ۲۰۰۶ء کو امریکہ میں ہوا تھا ۔
(وکی پیڈیا اوربرٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK