اسرائیلی صدر نے نیتن یاہو کی معافی پر وکلاء اور استغاثہ کو مذاکرات کی دعوت دی، جبکہ عدالت نے نیتن یاہو کی بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کو دوپہر تک مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 8:01 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی صدر نے نیتن یاہو کی معافی پر وکلاء اور استغاثہ کو مذاکرات کی دعوت دی، جبکہ عدالت نے نیتن یاہو کی بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کو دوپہر تک مؤخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
اسرائیلی صدر نے وزیراعظم نیتن یاہو کے وکلاء اور استغاثہ کو اپنی رہائش گاہ پر مذاکرات کے لیے مدعو کیا، کیونکہ وہ جاری بدعنوانی کے مقدمات میں وزیراعظم کی معافی کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔ صدر آئزک ہرزوگ کے قانونی مشیر مائیکل سوک شفیر نے ایک خط میں لکھا کہ’’ صدر یقین رکھتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ وہ وزیراعظم سے متعلق موصول ہونے والی درخواست پر اپنا اختیار استعمال کریں، فریقین کے درمیان مذاکرات کرکے مفاہمت تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پوری دنیا میں امریکہ کا تعلق صرف اسرائیل سے ہے: واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر
واضح رہے کہ نیتن یاہو طویل عرصے سے اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،ان پر دو مقدمات میں سازگار میڈیا کوریج حاصل کرنے کے عوض مذاکرات کے الزامات ہیں۔اس کے علاوہ تیسرا مقدمہ ارب پتیوں سے سیاسی مراعات کے عوض ۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار ڈالر سے زائد کے عیش و آرام کے تحائف قبول کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ بدعنوانی کا چوتھا الزام خارج کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پانی کواجتماعی سزا کے ہتھیارکے طور پراستعمال کررہا: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈر
دریں اثناء مقامی میڈیا کے مطابق، بدھ کو ایک اسرائیلی عدالت نے وزیراعظم نیتن یاہو کے جاری بدعنوانی مقدمے میں عدالت میں پیشی کا دورانیہ کم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ نیتن یاہو نے رات گئے یروشلم ضلعی عدالت سے درخواست کی تھی کہمقدمہ ۱۰۰۰؍ کی سماعت میں ان کی گواہی صبح ساڑھے ۹؍بجے کی بجائے دوپہرساڑھے ۱۲؍ بجے شروع ہو۔ لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یاہو نے سماعت کا دورانیہ کم کرنے کے لیے ’’سیکورٹی سے متعلق مصروفیات‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔ذہن نشین رہے کہ منگل کو نیتن یاہو ۸۱؍ویں مرتبہ تل ابیب ضلعی عدالت میں پیش ہوئے، جو۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی پہلی پیشی تھی۔جبکہ ان مقدمات کی سماعت ۲۰۲۰ء میں شروع ہوئی تھی۔تاہم غزہ جنگ کے دوران ہنگامی حالات کے حوالے سے ان مقدمات کی سماعت موخر کی گئی تھی۔