اچار ہمارے کھانوں کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جو اپنے خوشبودار مسالوں اور کھٹے میٹھے ذائقے سے عام کھانے کو بھی خاص بنا دیتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 5:23 PM IST | Mumbai
اچار ہمارے کھانوں کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جو اپنے خوشبودار مسالوں اور کھٹے میٹھے ذائقے سے عام کھانے کو بھی خاص بنا دیتا ہے۔
اچار ہمارے کھانوں کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جو اپنے خوشبودار مسالوں اور کھٹے میٹھے ذائقے سے عام کھانے کو بھی خاص بنا دیتا ہے۔ آم، لیموں، ہری مرچ یا مختلف سبزیوں سے تیار ہونے والا ہر اچار الگ ذائقہ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے گھروں میں اسے خاص اہتمام سے بنایا جاتا ہے۔ تاہم، اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچار کب تک قابلِ استعمال رہتا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر جلد خراب ہو جاتا ہے؟ خیال رہے کہ اچار کی مدت کا دارومدار اس میں شامل اجزاء، بنانے کے طریقۂ کار اور ذخیرہ کرنے کے ماحول پر ہوتا ہے۔ تیل، نمک، مسالحے اور بعض اوقات سرکہ قدرتی محافظ کے طور پر کام کرتے ہیں جو نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ بیکٹیریا کی افزائش کو بھی روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی گھریلو تراکیب میں ان عناصر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ اچار زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی کا موسم اور میک اَپ: چند کارآمد باتیں
کون سے اچار کب تک محفوظ رہ سکتے ہیں؟
* تیل والے اچار، جیسے آم یا لیموں، اگر درست طریقے سے رکھے جائیں تو ایک سے تین سال تک قابلِ استعمال رہ سکتے ہیں۔
* نمک والے اچار عام طور پر چھ ماہ سے ایک سال تک اچھے رہتے ہیں جبکہ سرکہ والے اچار ایک سے ۲؍ سال تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
* گھروں میں بننے والے عام اچار عموماً چھ ماہ سے ایک سال کے درمیان رہتے ہیں، البتہ اس کا انحصار صفائی اور اسٹوریج کے معیار پر ہوتا ہے۔ بازار سے خریدے گئے تیار اچار کنٹرولڈ پروسیسنگ اور پیکجنگ کی وجہ سے نسبتاً زیادہ عرصہ چل جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اِن خواتین نے سماج کی بہتری کیلئے خود کو وقف کر دیا
اچار استعمال کرتے وقت احتیاط بھی ضروری
* ہمیشہ خشک اور صاف چمچہ استعمال کیا جائے کیونکہ نمی اچار کو خراب کرسکتی ہے۔
* یہ بھی اہم ہے کہ اچار مکمل طور پر تیل یا نمک کے محلول میں ڈوبا رہے اور ہر بار استعمال کے بعد جار کو اچھی طرح بند کر دیا جائے تاکہ ہوا اور نمی اندر داخل نہ ہوسکیں۔
* محفوظ رکھنے کے لئے صحیح برتن کا انتخاب بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ شیشے یا مٹی کے جار بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ تیزابی اجزاء کے ساتھ تعامل نہیں کرتے اور ذائقہ برقرار رکھتے ہیں، جبکہ پلاسٹک یا دھاتی برتن طویل مدت کیلئے موزوں نہیں ہوتے۔
* اچار کو ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنا چاہئے، جیسے کچن کی الماری، کیونکہ زیادہ گرمی یا نمی اس کی عمر کم کرسکتی ہے۔ کم تیل یا نمک والے اچار کو تازہ رکھنے کے لئے بعض اوقات فریج میں رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
* اچار کو وقتاً فوقتاً جانچا جائے۔ اگر پھپھوندی، بدبو یا غیر معمولی بو محسوس ہو تو اسے استعمال کرنے کے بجائے فوراً ضائع کر دینا بہتر ہے۔
درست دیکھ بھال اور صفائی کے اصول اپنائے جائیں تو اچار کئی ماہ بلکہ بعض صورتوں میں برسوں تک اپنا ذائقہ برقرار رکھ سکتا ہے، اور یوں آپ اپنے پسندیدہ اچار سے محفوظ اور مزیدار انداز میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔