اسکول کھل جانے پر طلبہ کو چاہئے کہ اِن ۸؍ باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں

Updated: October 08, 2021, 7:30 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ششماہی امتحان شروع ہونے والا ہے، وقت کم ہے، ایسے میں طلبہ کو پڑھائی کے ساتھ اپنی صحت پر بھی توجہ دینا ہے۔ کمر کس لیں ، جم کر پڑھائی کریں اور اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کریں ۔

Shatabdi Sohala Shankar Nagar Municipal School, Chambor students. Photo: Samir Abidi
شتابدی سوہالا شنکر نگر میونسپل اسکول، چمبور کی طالبات اسکول کے پہلے دن چھٹی ملنے پر گھر جاتی ہوئیں۔ تصویر: سمیر عابدی

ریاست بھر میں ۱۸؍ ماہ بعد اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں ۔ کئی اضلاع میں ۵؍ ویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کیلئے تو چند میں ۸؍ ویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کیلئے اسکول شروع کئے گئے ہیں ۔ خیال رہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس کے پھوٹ پڑنے پر صحت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا اور طلبہ آن لائن موڈ سے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ۴؍ اکتوبر کو کئی اسکولوں میں طلبہ کا پہلا دن تھا جبکہ کچھ اسکول ۵؍ تو کچھ ۶؍ اکتوبر کو کھلے۔ رپورٹس کے مطابق طلبہ کی اسکول میں آمد سے قبل انتظامیہ نے تمام احتیاطی تدابیر اپنائی ہے تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم، طلبہ کو بھی چندباتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں 
 اسکول دوبارہ کھلنے پر ہر طالب علم خوش ہے لیکن ان پر کسی حد تک گھبراہٹ بھی طاری ہے کیونکہ وہ مہینوں بعد اسکول جارہے ہیں ۔اس سے قبل تعلیم حاصل کرنے کیلئے انہیں اتنے بڑے خلاء سے نہیں گزرنا پڑا تھا۔ اس خلاء نے طلبہ اور اساتذہ کو کسی حد تک دور کردیا ہے۔ چند ماہ قبل شائع ہونے والی متعدد رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ طلبہ اپنے ٹیچر کا سامنا کرنے سے جھجک رہے ہیں ۔ مگر انہیں کسی بھی قسم کے خوف یا گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی آپ باقاعدہ اسکول جاتے تھے، اور اساتذہ سے بات چیت کرتے تھے، اور اب بھی آپ کو یہ سوچ کر اسکول میں داخل ہونا ہے کہ آپ جس ٹیچر سے آن لائن سیکھتے تھے، یہ وہی ٹیچر ہے۔ اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔
 اسی طرح صحت کے تعلق سے بھی گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں ۔ تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں ۔
پڑھائی پر توجہ
 طلبہ کیلئے آن لائن کلاس میں شامل ہونا اور امتحان دینا آسان تھا۔ وبائی حالات میں اسکول چند گھنٹوں کا ہوگیا تھا۔ امتحانات میں آبجیکٹیو ٹائپ سوالات پوچھے جارہے تھے اس لئے طلبہ کو سہولیات حاصل تھیں لیکن اب آف لائن امتحانات منعقد کئے جائیں گے اس لئے طلبہ کو پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ بیشتر طلبہ ان حالات میں بھی محنت کرتے تھے لیکن اب سخت محنت کرنی ہوگی کیونکہ کئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کے عرصے نے طلبہ کے ذہن کو کسی حد تک متاثر کیا ہے، اور وہ پڑھائی سے دور ہوگئے ہیں ۔ اس لئے کمر کس لیں ، جم کر پڑھائی کریں اور اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کریں ۔
وقت کم ہے، امتحان نزدیک ہے
 جون میں نیا تعلیمی سال شروع ہوا تھا، اور اب اس کے تقریباً ۴؍ مہینے گزر گئے ہیں ۔ چند دنوں میں ششماہی امتحان شروع ہوجائیں گے۔ وقت کم ہے اور کام زیادہ، یعنی پڑھائی اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ اس لئے اگر آپ آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے دوران روزانہ ۳؍ گھنٹے پڑھائی کررہے تھے تو اب ساڑھے ۴؍ گھنٹے کرنے کی کوشش کریں ۔ وقت کم ہے، اس لئے اسے ضائع کرنا درست نہیں ہوگا۔
ضرورت پڑنے پر مدد مانگنا، اور کرنا
 مہینوں بعد طلبہ اسکول میں جمع ہورہے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ کئی طلبہ تعلیمی سفر میں پیچھے رہ گئے ہوں ۔ ذہین طلبہ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی مدد کرنے میں پس و پیش نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ اس دوران انہیں جو کانسپٹس سمجھ میں نہیں آئے ہیں ، انہیں سمجھائیں ۔ اسی طرح اگر آپ کو اسکول کے کام میں کسی مدد کی ضرورت ہو تو بلا جھجک اپنے استاد اور دیگر طلبہ سے مدد مانگیں ۔
صحت ضروری ہے
 کووڈ۔۱۹؍ کی وباء ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اس لئے احتیاط ضروری ہے۔ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں جو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو اچی او) اور آپ کے اسکول کی جانب سے جاری کی گئی ہیں ، مثال کے طور پر سینیٹائزر کی ایک بوتل اپنے پاس رکھیں ، ٹھیک طریقے سے ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ قائم رکھیں ۔ ایسی غذائیں کھائیں جن سے آپ کی امیونٹی بڑھے، اور آپ اندر سے مضبوط ہوں ۔
بیمار ہیں تو گھر پر رہیں 
 اگر آپ کو معمولی بخار یا سردی کھانسی ہے تو گھر پر رہیں ۔ کوشش کریں کہ گھر پر رہتے ہوئے سیلف اسٹڈی کرلیں ورنہ آپ پیچھے رہ جائیں گے۔بیماری کے سبب یا کسی اور وجہ سے جس دن اسکول نہ جاسکیں ، اس دن اپنے دوستوں اور سہیلیوں سے رابطہ کریں اور ان سے نوٹس مانگ لیں ۔ گھر پر رہتے ہوئے اپنی تمام کاپیاں مکمل کریں ۔بیماری کی حالت میں اسکول جانے کی صورت میں ہوسکتا ہے کہ دیگر طلبہ بھی متاثر ہوجائیں ۔
بلا جھجک سوالات پوچھیں 
 اٹھارہ ماہ کے عرصے نے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان فاصلہ قائم کردیا ہے۔ اس فاصلے کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ جو کانسپٹ سمجھ میں نہ آئے بلا جھجک اپنے اساتذہ سے اس کے متعلق پوچھیں ۔
لکھنے کی مشق
 آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے دوران طلبہ کے لکھنے کی مشق متاثر ہوئی ہے۔ اس لئے اس جانب بھی توجہ دیں ۔ کوشش کریں کہ سوال جواب یاد کرنے کے بعد انہیں لکھیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK