سائنس و ٹیکنالوجی:جڑواں اصطلاح مگر دونوں میں کافی فرق ہے

Updated: June 11, 2021, 7:30 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے۔سائنس کا ہدف سائنسی معلومات کا حصول ہوتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کا ہدف ایسی مصنوعات تیار کرنا ہوتا ہے جو مسائل کو حل کرنے اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں ۔ بالفاظ دیگر ٹیکنالوجی، سائنس کا عملی استعمال ہے۔

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے۔سائنس کا ہدف سائنسی معلومات کا حصول ہوتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کا ہدف ایسی مصنوعات تیار کرنا ہوتا ہے جو مسائل کو حل کرنے اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں ۔ بالفاظ دیگر ٹیکنالوجی، سائنس کا عملی استعمال ہے۔
سائنس کیا ہے؟
 سائنس ایک منظم طریقۂ کار کے تحت کسی بات کو جاننے یا اس کا علم حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے۔مطالعہ کر کہ کسی چیز کے بارے میں جاننا یا ایسی کوشش کرنا ہی سائنس ہے۔ انگریزی میں سائنس کا لفظ لاطینی زبان  اور اسے قبل یونانی سے آیا ہے جس کا مطلب ہے الگ کرنا، چاک کرنا۔سائنسی مطالعے کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے ،اور زمانے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ اور بہتری ہوتی رہی ہے۔ اسی مطالعہ نے سائنس کو اس کی آج کی موجودہ شکل عطا کی ہے۔ سائنس، سائنسی علم پیدا کرتی ہے۔ اس کی وضاحت تمام ایسے علم کے طور پر کی گئی ہے جو سائنسی طریقہ کار کے ذریعہ حاصل کئے گئے ہیں ، یعنی منظم مشاہدے اور تجزیہ کے ذریعے۔ ان کے نتیجے میں ، سائنسی علم معقول اور درست نتائج پیش کرتا ہے جن کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔لہٰذا سائنسی علوم کی اہمیت کا مقصد ٹیکنالوجی کی تشکیل دینا یا اسے مکمل بنانا ہے۔ خیال رہے کہ مستقبل کے سائنسدانوں نے ہمیشہ گزشتہ سائنس دانوں کے مشاہدات و تجربات کو سامنے رکھ کر پیش گوئیاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی پیشین گوئیوں کی مدد سے نت نئی چیزیں دریافت کی جاتی ہیں ۔ درج ذیل نکات کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔
 سائنس کا مطلب ہے کسی نامعلوم بات کے بارے میں جاننا، جیسے پانی کا رنگ نیلا کیوں ہے؟ بادل سے پانی کیوں برستا ہے؟ زمین گول کیوں ہے؟ چاند، رات میں کیوں نکلتا ہے؟ کوئی بھی چیز زمین ہی پر کیوں گرتی ہے؟ زمین کیوں گھومتی ہے؟ وغیرہ۔ ایسے سوالات کے جوابات جاننے کے علم کو سائنس کہا جاتا ہے۔
 تجربات اور مشاہدات کے ذریعے مسلسل نئی معلومات حاصل کرنا سائنس کا ایک اہم مقصد ہے۔
سائنس کی ایک اہم بات یہ ہے کہ معلومات، حاصل شدہ اعداد و شمار اور تھیوریز کی رو سے بالکل درست نتائج حاصل کئے جاتے ہیں ۔
 سائنس کا مقصد فطرت یا قدرت کے متعلق علم حاصل کرنا ہے۔ فطرت کو سمجھ کر اس کے متعلق نظریات قائم کرنا، اور پھر تحقیق کے ذریعے نتائج حاصل کرنا، علم سائنس کا بنیادی مقصد ہے۔
سائنس کی توجہ فطرت کو سمجھنے پر مرکوز ہوتی ہے۔
 سائنس کے ۳؍ پیرامیٹرز، تجزیہ کرنا، اسے عام کرنا، اور اس کی بنیاد پر تھیوریز قائم کرنا ہیں ۔ 
 سائنس میں ، اہداف سائنسی عمل سے حاصل کئے جاتے ہیں ۔
 سائنس میں ماہر ہونے کیلئے کسی بھی شخص کے پاس ۴؍ قسم کی صلاحیتیں ، علمی، تجرباتی، تجزیاتی اور منطقی ، ہونی ضروری ہیں ۔
 سائنس ہمیشہ قابل استعمال ہوتی ہے، اور انسانی زندگی یا فطرت پر اس کے برے اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں ۔
 خیال رہے کہ سائنس مسلسل تبدیل نہیں ہوتی ہے۔
 یہ ہمیشہ دریافت پر زور دیتی ہے۔
 پیشین گوئی کرنے کیلئے سائنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
 سائنسی تفتیش کے نتیجے میں سائنس سے متعلق مزید علم حاصل ہوتا ہے جبکہ نئی باتیں دریافت ہوتی ہیں ۔
سائنس کی اہم شاخیں یہ ہیں : طبیعیات(فزکس)، حیاتیات (بائیولوجی)، کیمیاء (کیمسٹری)، حیاتیاتی کیمیاء (بائیو کیمسٹری)، خرد حیاتیات(مائیکرو بائیولوجی)، اورریاضی(میتھ)۔
ٹیکنالوجی کیا ہے؟
 ٹیکنالوجی ، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے۔ اس شعبہ علم کے دائرہ کار میں وہ تمام آلات بھی آجاتے ہیں ، اور وہ تمام دستورالعمل یا طریقۂ کار بھی جو علمی معلومات کے عملی استعمال سے متعلق ہوتے ہیں ۔ انگریزی میں ٹیکنالوجی،بنیادی طور پر دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے۔’’ ٹیکنو‘‘ کا معنی ہے ہنر، فن، وضع، جبکہ ’’لوجی‘‘ کا معنی ہے مطالعہ، علم۔ ٹیکنالوجی ایک وسیع اصطلاح ہے، اور انسانوں کا اس سے تعلق اس وقت سے جاری ہے جب سے اس نے قدرتی اسباب اور وسیلوں کو سادہ اوزاروں میں بدلنا سیکھا ہے۔ زمانہ قدیم میں انسانوں کا آگ لگانے کے طریقے کا دریافت کرنا اور کسی وزنی چیز کے نیچے کوئی گول چیز رکھ کر اسے دھکیلنا، سب کچھ ٹیکنالوجی ہی کی ابتدائی اشکال ہیں ۔ لیکن موجودہ دور میں ہم ٹیکنالوجی کی بالکل جدید شکل دیکھ رہے ہیں ، جیسے اسمارٹ فون، کمپیوٹر، راکٹ، بلیو ٹوتھ، مختلف قسم کی شعاعیں وغیرہ۔ اہم بات یہ ہےکہ دنیا کی تمام ٹیکنالوجی انسان کی بھلائی یا آسانی کیلئے نہیں بنائی گئی ہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو انسانوں کو مکمل طور پر ختم کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ان کی اہم مثالیں ایٹم بم اور خطرناک ہتھیار ہیں ۔ ٹیکنالوجی کے درج ذیل نکات کا موازنہ سائنس کے نکات سے ضرور کریں ۔
 ٹیکنالوجی، سائنسی تھیوریز پر عمل کرنے کا نام ہے۔
 اس میں سائنسی قوانین کا اطلاق کیا جاتا ہے اور نت نئی چیزیں ایجاد کی جاتی ہیں ۔ مثلاً راکٹ، سائنس کے کنزرویشن اور مومینٹم قانون کی مدد سے بنایا گیا۔ اسی طرح اسپیس شپ (خلائی جہاز) سائنس کے قانون کشش ثقل کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔
 ٹیکنالوجی میں انسانی خیالات کو ایک پروڈکٹ (مصنوع) کی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم مختلف قسم کے ریڈی ایشن کے بارے میں سنتے رہتے ہیں ، ان میں سے ایک مائیکرو ویو ہے۔ اسی کی مدد سے مائیکرو ویو اَون بنایا گیا ہے۔
 واضح رہے کہ ٹیکنالوجی انسان کیلئے سہولت ضرور پیدا کرتی ہے لیکن کئی مرتبہ یہ ان کیلئے مہلک بھی ثابت ہوتی ہے۔
 ٹیکنالوجی کا مقصد سائنسی معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔
 ٹیکنالوجی سے مراد سائنسی معلومات پر مسلسل عمل درآمد ہے۔
 ٹیکنالوجی کا مقصد کچھ نیا ایجاد ، اور اس میں مزید بہتری کرنا ہوتا ہے، جیسے اسمارٹ فون میں مسلسل بہتری ۔
 ٹیکنالوجی مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے، مثلاً ہر سال کمپنیاں اپنی مختلف اشیاء لانچ کرتی رہتی ہیں ۔ 
 یہ ہمیشہ ایجاد پر زور دیتی ہے۔
 ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتی ہے، اور لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مسلسل بدلتی رہتی ہے۔
 تکنیکی ڈیزائن انسانی زندگی کو زیادہ آرام دہ اور پرسکون کرکے معاشرے میں معیار زندگی کو بہتر بناسکتی ہے۔
 اس میں ایجاد انسانی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔
 ٹیکنالوجی کیلئے منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، ترقی پذیر، مسئلہ حل کرنے، فیصلہ سازی اور باہمی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
 ٹیکنالوجی کی چند شاخیں یہ ہیں : اگری کلچر، اپلائٹڈ فزکس، انجینئرنگ اور بائیو ٹیکنالوجی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK