• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

غیر ملکی اسکولوں اور کالجوں کی چند دلچسپ غیر نصابی سرگرمیاں

Updated: December 01, 2023, 3:27 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

مختلف ممالک میں مختلف قسم کی غیر نصابی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں مگر ان تمام کا ایک ہی مقصد ہے طلبہ کی ہمہ جہت ترقی۔ طلبہ کی دلچسپی کے مد نظر انہیں کسی ایک سرگرمی میں ماہر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

Through various activities students are taught which skills will be useful in practical life. Photo: INN
مختلف سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو سکھایا جاتا ہے کہ عملی زندگی میں کون سی صلاحیتیں کام آئیں گی۔ تصویر : آئی این این

چند ہفتوں میں اسکولوں اور کالجوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔ غیر نصابی سرگرمیاں طلبہ میں متعدد صلاحیتوں کو ابھارنے اور انہیں نکھارنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ اور والدین طلبہ کو ان سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ملک کے مختلف اسکولوں میں مختلف قسم کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں جن میں سے چند کا ذکر بائیں جانب کیا گیا ہے۔
 ہائی اسکول اور جونیئر کالج میں تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتی۔ سیکھنے کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب طلبہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ جب طلبہ غیر نصابی سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں تو ان کا ذہنی افق وسیع ہوتا ہے، ان میں زندگی گزارنے کی مختلف مہارتیں پیدا ہوتی ہیں، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فعال ہوتے ہیں، وہ اپنی مخفی صلاحیتوں کی تشخیص کرپاتے ہیں اور ان میں معاشرے اور کمیونٹی کے تئیں احساس مستحکم ہوتا ہے۔ مختلف مہارتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکولوں میں مختلف غیر نصابی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ طلبہ اپنی دلچسپی کے مطابق ان میں حصہ لیں اور اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ جو طلبہ فنکار بننے کے خواہشمند ہیں ان کیلئے موسیقی اور ڈراما جیسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سائنسداں بننے کے خواہشمند طلبہ سائنسی نمائش میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولوں میں غیر نصابی سرگرمیاں کروائی جاتی ہیں۔ ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں منعقد کی جانے والی غیر نصابی سرگرمیوں سے آپ واقف ہیں اور وقتاً فوقتاً ان میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ تاہم، غیر ملکی تعلیمی اداروں میں سال بھر میں سیکڑوں غیر نصابی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں جن میں سے ۱۰؍ ایسی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو خاصی دلچسپ ہیں۔ 

زباندانی (Language)
 غیر ملکی تعلیمی اداروں میں مختلف عالمی زبانوں کی تعلیم دینے کے علاوہ ان میں مختلف مقابلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، مثلاً زباندانی کے کوئز، ان زبانوں کے نغموں میں گلوکاری، ان میں بات چیت، یا، ان زبانوں کے ماہرین سے بات چیت جیسی کئی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ مقصد یہی ہوتا ہے کہ طلبہ کو عالمی زبانوں میں مہارت حاصل ہو۔ غیر ملکی تعلیمی اداروں میں عام طور پر جو زبانیں سکھائی جاتی ہیں ان میں جرمن، فرنچ، چائنیز، ہسپانوی، اطالوی اور عربی قابل ذکر ہیں۔بعض ادارے ایسے ہیں جہاں طلبہ ان زبانوں کی تہذیب و ثقافت کو پیش کرنے والے ڈرامے بھی پیش کرتے ہیں۔
صحافت(Journalism)
 تقریباً ہر غیر ملکی تعلیمی ادارے میں صحافت کی تعلیم اسکولی سطح ہی پر دی جاتی ہے۔ ان اسکولوں میں کوئی ہفتہ واری یا ۱۵؍ روزہ اخبار، یا، ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی یا سالانہ میگزین نکالے جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان رسائل و جرائد کے مشمولات سے لیکر نشر و اشاعت تک کی مختلف ذمہ داریاں طلبہ ہی سنبھالتے ہیں۔ اساتذہ صرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اس طرح طلبہ کو صحافتی امور قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے لہٰذا جو طلبہ صحافتی میدان میں کریئر بنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے اور وہ تعلیم کے بعد اسی میدان سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔
ایئر بک(Yearbook)
 یہ سال بھر میں ایک مرتبہ شائع ہونے والی ایک کتاب ہوتی ہے جس میں اسکول کے گزشتہ سال کے ریکارڈ، نمایاں طلبہ اور دیگر تفصیلات ہوتی ہیں۔ اس کا مقصد ایک یادگار کتاب بنانا ہوتا ہے تاکہ اس سال کے طلبہ اسے دیکھ کر اپنے اسکول کے دلچسپ ماضی کو یاد کرسکیں۔ یہ کتاب کسی ’’تھیم‘‘ کے تحت بنائی جاتی ہے۔ اس میں طلبہ کی تصویریں ہوتی ہیں اور انکی زبانی اسکول کے دلچسپ قصے۔ یہ پورا عمل طلبہ انجام دیتے ہیں۔ تصویر کشی سے لیکر کتاب کی اشاعت تک کے ہر امور طلبہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔ ایئر بک طلبہ کو سکھاتی ہے کہ کسی ’’تھیم‘‘ پر مسلسل کام کیسے کیا جاتا ہے۔
موسیقی(Music)
 غیر ملکی اسکولوں میں موسیقی ترتیب دینا، یا، کسی اسکولی بینڈ کا حصہ بننا کافی دلچسپ ہے۔ جو طلبہ اپنی موسیقی کی صلاحیتیں نکھارنا چاہتے ہیں، انہیں موسیقی کے مختلف سازوں کو سیکھنے نیز اسکول کے کسی بینڈ میں شامل ہونے کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ مختلف تقریبات میں طلبہ وقتاً فوقتاً اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ چاہے کوئی آلہ بجانا ہو یا گانا، بینڈ کے شرکاء میں نظم و ضبط اور ٹیم ورک کا مضبوط احساس ہوتا ہے۔ وہ موسیقی کے اشارے سیکھتے ہیں، پیچیدہ تالوں کو سمجھتے ہیں، اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرتے ہیں۔ موسیقی کی تعلیم طلبہ کی یادداشت بہتر بناتی ہے۔
بزنس کلب(Business Club)
 جو طلبہ بزنس کلب کا حصہ ہوتے ہیں وہ کسی بزنس ماڈل پر کام کرتے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ انہیں کسی فلاحی کام کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے، اور وہ اپنے منفردبزنس آئیڈیا سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں۔ اس فیئر میں شہر کے امیر افراد اور سرمایہ کار کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ اگر بزنس آئیڈیا واقعی بہت اچھا ہوتا ہے تو سرمایہ کار اس میں سرمایہ لگانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، اور اس طرح ایک آئیڈیا سے ایک بڑی کمپنی کھڑی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے کالج میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر فیس بک بنایا تھا، آج یہ سب سے بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔

نیشنل آنر سوسائٹی (National Honor Society)
 بیشتر تعلیمی اداروں میں یہ کلب بنایا جاتا ہے جس کا مقصد کمیونٹی کی خدمت ہے۔ طلبہ میں کمیونٹی کے تئیں بیداری پیدا کرنے اور اس کی مدد کیلئے اس کا قیام کیا جاتا ہے۔ اس کلب کے اراکین ہمہ وقت فعال رہتے ہیں اور معاشرے کی خدمت کے مختلف منصوبوں میں مشغول رہتے ہیں، جو ان کے ارد گرد کے ماحول پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ یہ عمل طلبہ کی شخصیت نکھارتا ہے۔ انہیں انسانوں، ماحولیات اور جاندار کے تئیں حساس بناتا ہے۔ مقامی ضروریات کو پورا کرنے والے اقدامات ان میں سماج کی خدمت کے احساس کو مستحکم کرتے ہیں۔
کوڈنگ کلب(Coding Club)
عصر حاضر میں طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے اب اکثر اسکولوں میں کوڈنگ کلب بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔ اس کلب سے طلبہ کو ڈجیٹل دنیا کو سمجھنے، اس میں کریئر بنانے، اور مختلف قسم کے سافٹ ویئر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طلبہ اپنی ذہانت سے اتنا اچھا سافٹ ویئر تیار کرتے ہیں کہ بڑی کمپنیاں انہیں خریدنے کیلئے تیار ہوجاتی ہیں۔ بعض طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی انٹرپرینیو بن جاتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے تیزی سے مستحکم ہورہے ہیں، اس لئے غیر ملکی اداروں میں طلبہ کو اس محاذ پر بھی تیار کیا جارہا ہے۔ 
روبوٹکس کلب (Robotics Club)
 کوڈنگ کلب ہی کی طرح غیر ملکی تعلیمی اداروں میں روبوٹکس کلب بھی بنائے جاتے ہیں، خاص طور پر جاپان اور جنوبی کوریا میں۔ جو طلبہ روبوٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں ماہرین، روبوٹس بنانے کے طریقے سکھاتے ہیں، اس کے بعد طلبہ اپنی سمجھ بوجھ کے ذریعے روبوٹ کی کوئی نئی شکل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا میں مختلف مقامات پر نظر آنے والے روبوٹس اسکول اور کالج کے طلبہ ہی کے سبب ممکن ہوئے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کا پروٹو ٹائپ بڑی تکنالوجی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔ 
لائبریری کمیونٹی (Library Community)
 امریکہ، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں لائبریری کلب بھی قائم کیا جاتا ہے جہاں طلبہ کو ناول اور نظمیں لکھنے کی تعلیم دینے کے علاوہ انہیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ ایک لائبریری کیسے سنبھالی جائے۔ کتابوں سے طلبہ کی دوستی برقرار رہے، اس کیلئے انہیں کتابیں پڑھنے کے علاوہ مختلف قسم کے کھیل بھی منعقد کئے جاتے ہیں، مثلاً مصنف یا شاعر کو پہچانئے، فلاں کتاب لائبریری کے کس حصے میں ہے، یہ قول یا شعر کس مصنف یا شاعر کا ہے، وغیرہ۔ یہ کلب محلے کے بچوں میں کتابیں بھی تقسیم کرتا ہے۔ 
کمیونٹی سروس کلب(Community Service Club)
 کمیونٹی سروس کلب کے طلبہ قوم کی خدمت کرنے کے مختلف طریقے تلاش کرتے ہیں۔ طلبہ رضاکارانہ طور پر اس کا حصہ بنتے ہیں۔ اس کلب کے طلبہ محلے کے لوگوں کی تکالیف کو جانتے ہیں اور مقامی اداروں یا میئر اور سیاسی لیڈر کے سامنے ان کے مسائل کو بیان کرتے ہیں، اور ان کا حل نکالنے کی تگ و دو کرتے ہیں تاکہ اس سے محلے کے سبھی افراد کو فائدہ پہنچے۔ یہ مختلف قسم کی بیداری مہم بھی چلاتے ہیں۔ یہ عمل طلبہ میں ہمدردی اور سماجی بیداری کو فروغ دیتا ہے، جبکہ ایک ذمہ دار شہری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK