Inquilab Logo Happiest Places to Work

بعض پاس ورڈز میں ۸؍ حروف کی قید ہوتی ہے، کیوں ؟

Updated: August 22, 2025, 6:09 PM IST | Mumbai

۸؍ حروف کی قید ایک تاریخی اور تکنیکی وراثت ہے۔

In ancient times, 8 letters were considered safe and easy to remember. Photo: INN.
پرانے وقتوں میں ۸؍حروف کو محفوظ اور یاد رکھنے میں آسان سمجھا جاتا تھا۔ تصویر: آئی این این۔

کمپیوٹرسیکوریٹی کی دنیا میں پاس ورڈ کی اہمیت ہمیشہ مرکزی رہی ہے۔ چاہے ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہو، بینکنگ سروسیز ہوں یا دفتری نظام، ہر جگہ پاس ورڈ کو ایک بنیادی حفاظتی ڈھال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ سسٹمز پاس ورڈ کیلئے ایک خاص قید لگاتے ہیں، جیسے کہ کم از کم۸؍ حروف۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر اس مخصوص تعدادکی شرط کیوں رکھی گئی ہے؟
ابتدائی کمپیوٹر سیکوریٹی کا معیار
کمپیوٹرسیکوریٹی کے ابتدائی دور میں پاس ورڈ کیلئےزیادہ حروف رکھنے کا رواج عام نہیں تھا۔ اس وقت زیادہ تر سسٹمز محدود میموری اور پروسیسنگ پاور رکھتے تھے، اس لئے پاس ورڈزکیلئے ۸؍ حروف کا معیار مقرر کیا گیا تاکہ نظام پر بوجھ نہ پڑے اور یاد رکھنا بھی سہل ہو۔ 
ڈی ای ایس انکرپشن سسٹم کا اثر
۱۹۷۰ءکی دہائی میں ’’ڈیٹا انکرپشن اسٹینڈرڈ‘‘(ڈی ای ایس)استعمال ہوتا تھا جو زیادہ سے زیادہ ۸ ؍بائٹ کو پروسیس کرتا تھا۔ اس وقت کے کئی آپریٹنگ سسٹمز نے اسی حد کو اپنا معیار بنایا۔ یہ عادت بعد میں بھی کئی پلیٹ فارمز پر چلتی رہی۔ 
یاد رکھنے میں آسانی کا پہلو
پرانے دور میں یہ بھی مانا جاتا تھا کہ لوگ زیادہ لمبے پاس ورڈز یاد نہیں رکھ پاتے۔ ۸؍ حروف کو محفوظ اور یاد رکھنے میں آسان سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر جب سادہ الفاظ یا مخففات استعمال کئے جاتے تھے۔ 
پاس ورڈ ہیشنگ کے وقت کارکردگی 
کچھ پرانے سسٹمز پاس ورڈ کو ہیش (Hash) کرنے کے دوران تیز پروسیسنگ کیلئے لمبائی محدود رکھتے تھے۔ ۸؍ حروف کی حد لگانے سے ڈیٹا بیس کا سائز بھی کم رہتا اور لاگ اِن پراسیس تیز ہوتا۔ 
جدید دور میں بدلتا رجحان
آج کے دور میں ۸؍ حروف کا پاس ورڈ سیکوریٹی کے لحاظ سے کمزور سمجھا جاتا ہے کیونکہ جدید ہارڈویئر اور برُوٹ فورس (Brute Force) اٹیک کے ذریعے اسے چند سیکنڈ یا منٹ میں توڑا جا سکتا ہے۔ اب زیادہ تر ماہرین ۱۲؍ تا۱۶؍ حروف یا اس سے زیادہ لمبائی کے پاس ورڈ تجویز کرتے ہیں اور اس میں حروف، اعداد اور علامات کا امتزاج شامل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ 
اگرچہ آج کے جدید سسٹمز میں اس حد کی کوئی بڑی تکنیکی ضرورت نہیں پھر بھی کچھ پرانے یا مخصوص سافٹ ویئر اب تک یہ شرط برقرار رکھتے ہیں۔ بتا دیں کہ کہیں پاس ورڈز کی تعداد ۸؍ سے بھی کم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK