بعض افراد ہارٹ اٹیک آنے پر فوت ہوجاتے ہیں جبکہ متعدد بچ جاتے ہیں ، کیوں ؟

Updated: April 23, 2021, 7:00 AM IST | Mumbai

آپ نے کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ فلاں کو ہارٹ اٹیک آیا مگر وہ بچ گیا یا فلاں کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ فوت ہوگیا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کچھ افراد دل کے دورے کے بعد بچ جاتے ہیں جبکہ دیگر خوش قسمت ثابت نہیں ہوتے؟

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آپ نے کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ فلاں کو ہارٹ اٹیک آیا مگر وہ بچ گیا یا فلاں کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ فوت ہوگیا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کچھ افراد دل کے دورے کے بعد بچ جاتے ہیں جبکہ دیگر خوش قسمت ثابت نہیں ہوتے؟خیال رہے کہ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کی جانب جانے والا خون بلاک ہوجائے، جس کے بعد مسلز کے ٹشوز آکسیجن سے محروم ہوجاتے ہیں اور دل کو نقصان پہنچتا ہے۔ 
 ماہرین طب کے مطابق ایسا ہارٹ اٹیک جو موت کا باعث بنے، اس میں دل کو اتنا نقصان پہنچ جاتا ہے کہ دل کی دھڑکن غیر مستحکم ہوجاتی ہے اور بتدریج ہمیشہ کیلئے تھم جاتی ہے۔ دل کی یہ غیر مستحکم دھڑکن آکسیجن کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے جو دل کے نچلے سے حصے شروع ہوتی ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو قلب میں بہت زیادہ ہلچل پیدا ہوتی ہے۔
 تاہم، متحرک طرز زندگی کسی ہارٹ اٹیک سے فوری موت کا خطرہ کم کرسکتی ہے۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔طبی جریدے یورپین جرنل آف پرینیٹیو کارڈیالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ہارٹ اٹیک سے اچانک موت ان افراد میں زیادہ عام ہوتی ہے جو جسمانی طور پر سست ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ورزش کرنا پسند نہیں کرتے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کے باعث ہوتی ہیں ۔ تاہم، متحرک طرز زندگی سے امراض قلب کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔
 اس تحقیق میں متحرک طرز زندگی کا موازنہ سست طرز زندگی سے کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اچانک ہارٹ اٹیک سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
 اس مقصد کیلئے یورپ میں ہونے والی۱۰؍ تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ جسمانی سرگرمیوں اور ہارٹ اٹیک سے موت کے خطرے (فوری اور۲۸؍ دن کے اندر) کے درمیان تعلق موجود ہے۔تحقیق میں جن ۲۸؍  ہزار سے زیادہ افراد کا ڈیٹا دیکھا گیا تھا ان میں سے۴؍ ہزار ۹۷۵؍  کی موت ہارٹ اٹیک کے بعد۲۸؍ دن کے اندر ہوگئی تھی، جبکہ۳؍ ہزار ۱۰۱؍ افراد ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں فوری ہلاک ہوگئے تھے۔
 محققین نے دریافت کیا کہ جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا ہارٹ اٹیک سے فوری اور۲۸؍ دن کے اندر موت کا خطرہ کم کرتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ معتدل اور سخت جسمانی سرگرمیوں کو عادت بناتے ہیں ان میں ہارٹ اٹیک سے فوری موت کا خطرہ سست طرز زندگی والے افراد کے مقابلے میں بالترتیب ۳۳؍ اور ۴۵؍ فیصد تک کم ہوتا ہے۔اسی طرح ایسے افراد میں ۲۸؍ دن کے اندر موت کا خطرہ بالترتیب۳۶؍ اور ۲۸؍ فیصد تک کم ہوتا ہے۔محققین نے مزید بتایا کہ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے ہارٹ اٹیک (دل کے دورے) سے موت کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ 
 انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے تجزیے کے مطابق معمولی جسمانی سرگرمیاں بھی جان لیوا ہارٹ اٹیک کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر ہفتے کم از کم۱۵۰؍ منٹ کی معتدل یا۷۵؍ منٹ کی سخت ورزش اس خطرے کو کم کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK