کچھ لوگوں کی ٹھوڑی پر ڈمپل ہوتا ہے، کیوں ؟

Updated: May 28, 2021, 7:00 AM IST | Mumbai

آپ نے ایسے افراد کو ضرور دیکھا ہوگا جن کے دونوں گال یا صرف ایک گال پر گڑھے پڑتے ہیں ۔اس گڑھے کو انگریزی میں ڈمپل کہتے ہیں ۔ اسی طرح آپ نے غور کیا ہوگا کہ کچھ افراد کی ٹھوڑی یا ٹھڈی پر بھی ڈمپل ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ٹھوڑی پر ڈمپل پڑنے کی کیا وجہ ہے؟

Symbolic Image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آپ نے ایسے افراد کو ضرور دیکھا ہوگا جن کے دونوں گال یا صرف ایک گال پر گڑھے پڑتے ہیں ۔اس گڑھے کو انگریزی میں ڈمپل کہتے ہیں ۔ اسی طرح آپ نے غور کیا ہوگا کہ کچھ افراد کی ٹھوڑی یا ٹھڈی پر بھی ڈمپل ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ٹھوڑی پر ڈمپل پڑنے کی کیا وجہ ہے؟ 
 اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔ درحقیقت بیشتر افراد کی ٹھوڑی میں پیدائشی طور پر انگلش حرف وائے کی طرح یہ ڈمپل ہوتا ہے جبکہ متعدد میں وقت کے ساتھ یہ نمایاں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ نہایت کی ہلکا ہوتا ہے اور کافی غور سے دیکھنے پر نظر آتا ہے۔
 ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر عموماً یہ ایک جینیاتی خصوصیت ہوتی ہے یعنی والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خاندان کے لوگوں کی ٹھوڑی میں یہ ڈمپل موجود ہے تو امکان ہے کہ آنے والی نسل میں بھی یہ موجودد ہوگا۔
 واضح رہے کہ یہ ڈمپل پیدائش سے قبل بن جاتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب نیچے والے جبڑے کے دونوں سائیڈز ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما کے دوران مکمل طور پر آپس میں مل نہیں پاتے۔اس کے نتیجے میں ٹھوڑی میں یہ گڑھا بن جاتا ہے۔ یعنی پیدائش سے قبل جبڑے کا ایک حصہ دوسرے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے اور جب دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے عمل سے گزرتے ہیں تو ٹھوڑی پر ڈمپل نمایاں ہوجاتا ہے۔
 مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس پیدائشی نشانی یا خصوصیت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور یہ بے ضرر ہوتا ہے۔ تاہم، جینیاتی طور پر یہ آنے والی نسلوں میں ضرور منتقل ہو جاتا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی اور اثر مرتب نہیں ہوتا۔
 خیال رہے کہ اس ڈمپل کو سرجری کے ذریعے ہٹایا بھی جاسکتا ہے یا جن افراد میں یہ نہیں ہے وہ اسے بنوا بھی سکتے ہیں ۔ تاہم، اس عمل سے نقصان ضرور ہوسکتا ہے۔
 جہاں تک گالوں میں ڈمپل کی بات ہے تو کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی درحقیقت چہرے کے پٹھوں میں آنے والے نقص کا نتیجہ ہوتا ہے، جسے زائیگو میٹک مسل کے اسٹرکچر میں آنے والا نقص بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ وہ بڑا مسل ہے جو چہرے کے سائیڈ میں ہوتا ہے۔ ڈِمپل کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ مسلز کو تقسیم کردیتے ہیں جو عام طور پر ایک حصے کی شکل میں ہوتے ہیں ۔
 اس سے قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چہرے کے یہ گڑھے ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں اور اس سے انسانوں کو اپنے چہرے کے تاثرات سے دوسروں سے رابطہ کا راستہ ملا ہے۔ تحقیق کے مطابق چہرے پر پڑنے والے ڈِمپل سے لوگوں کو اپنی مسکراہٹ پر توجہ حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور خوشی کا اظہار بھی آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن اس پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ گالوں پر پڑنے والے ڈِمپل قدرتی ہوتے ہیں اور انہیں کسی ٹیکنالوجی یا کسی اور طریقے سے چہرے پر نمودار نہیں کیا جاسکتا البتہ ٹھوڑی والا ڈمپل بنوایا جاسکتا ہے۔
 علم نجوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس شخص کی ٹھوڑی پر گڑھا ہوتا ہے وہ قسمت والا ہوتا ہے، اور دنیا میں کافی شہرت پاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK