سوفو کلیز کو ڈراموں میں تیسرے کردار کا بانی کہتے ہیں

Updated: February 14, 2020, 12:03 AM IST | Mumbai

سوفو کلیز ایک یونانی مصنف اور شاعر تھا جو ۴۹۶؍ قبل مسیح میں یونان کے علاقہ عتیقیہ (ایتھنز کا قریبی علاقہ) میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا شمار قدیم یونان کے اُن ۳؍ مصنفوں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی محفوظ ہیں ۔

سوفوکلیز۔
سوفوکلیز۔

سوفو کلیز ایک یونانی مصنف اور شاعر تھا جو ۴۹۶؍ قبل مسیح میں یونان کے علاقہ عتیقیہ (ایتھنز کا قریبی علاقہ) میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا شمار قدیم یونان کے اُن ۳؍ مصنفوں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی محفوظ ہیں ۔حضرت عیسیٰ ؑ کی دنیا میں آمد سے تقریباً ۵۰۰؍ سال پہلے سوفو کلیز کی پیدائش یونان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور امیر خاندان میں ہوئی تھی۔ لوہے کے کئی کارخانے اس کے خاندان کی ملکیت تھے۔ اس کے باپ نے اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ سوفو کلیز کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی سوفوکلیز کو احساس ہوا کہ اس میں لکھنے کی صلاحیت ہے۔ اور پھر اس نے لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
 سوفوکلیز نے اپنی زندگی میں ۱۲۰؍ سے زیادہ ڈرامے لکھے مگر صرف ۷؍ ڈرامے ہی مکمل صورت میں ہم تک پہنچے ہیں ۔ اس کی موت کے تقریباً ۵۰؍ سال تک اسے یونان کا اہم ڈراما نویس کہا جاتا تھا اور ایتھنز کےلوگ فخریہ اس کا نام لیتے تھے۔ انہیں اس بات پر فخر تھا کہ سوفوکلیز ان کے ملک کا باشندہ ہے۔ 
 اس وقت یونان میں ہونے والے مختلف تہواروں میں اس کا ڈراما پیش کیا جاتا تھا۔ ان تہواروں میں مقابلے بھی ہوتے تھے۔ سوفو کلیز نے اپنی پوری زندگی میں ایسے ۳۰؍ مقابلوں میں حصہ لیا اور اِن میں سے ۲۴؍ میں اس کے ڈرامے کو اول انعام سے نوازا گیا جبکہ باقی ۶؍ ڈراموں میں اس کے ڈرامے کو دوم انعام ملا تھا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ اسے کبھی تیسرا انعام ملا ہی نہیں کیونکہ وہ ہر ڈراما پر بڑی محنت کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ڈراموں میں تیسرا کردار متعارف کروانے کا سہرا سوفو کلیز کے سر ہی بندھتا ہے۔ اس نے ڈراموں میں ’کورس‘ (لوگوں کا ایک گروہ جو المیہ ڈراموں میں مختلف قسم کی آوازیں نکالتا ہے) کی اہمیت کو ختم کردیا تھا۔ اس طرح اُس دور میں ڈرامے کے خرچ پر قابو پایا گیا۔تیسرے کردار کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اداکاروں کے درمیان تنازع کم اور تمام کرداروں کے ساتھ انصاف ہونے لگا۔ 
 مؤرخین لکھتے ہیں کہ دنیا کے قدیم ترین ادب میں ۳؍ المیہ ڈرامے بہت مشہور ہیں ۔ انہی میں سے ایک ’’اینٹی گنی‘‘ ہے جس کا مصنف سوفوکلیز ہے۔ اس ڈرامے کا آخری جملہ بہت مشہور ہے۔ یہ جملہ اب بین الاقوامی کہاوت بن چکا ہے۔ ایتھنز جمہوریت کی پیدائش کا شہر تھا اور ایتھنز والے اس پر بہت فخر کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس ڈرامے کی تحریر نے انفرادی فیصلے کے بجائے اجتماعی رائے کو اہمیت دینے کی بنیاد ڈالی تھی۔ اسی لئے ڈرامے اینٹی گنی کی تھیٹر میں پیشکش کے تھوڑے ہی عرصے بعد اس کے مصنف یعنی سوفوکلیز کو انعام کے طور پر اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز کردیا گیا۔ سوفوکلیز نے ۹۱؍ برس کی عمر پائی۔ 
 ایک روایت کے مطابق اُس کی موت کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ ڈرامے اینٹی گنی کا وہی آخری جملہ لہک لہک کر پڑھ رہا تھا کہ سانس رک جانے کی وجہ سے مرگیا۔ وہ جملہ یہ ہے ، غرور اور ضد کی سزا ملتی ہے لیکن اس سزا سے انسان کو عقل آجاتی ہے۔
وکی پیڈیا اور فیمس آتھرس

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK