EPAPER
Updated: June 13, 2026, 6:15 PM IST | Beirut
جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں میں باشندوں اور امدادی کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز رات کے وقت بچوں کے رونے، خواتین کی چیخوں، ایمبولینس سائرن اور مدد کی اپیلوں جیسی آوازیں نشر کر کے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ حربہ لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے، ذہنی دباؤ بڑھانے اور ممکنہ اہداف کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں جنگ کے نفسیاتی پہلو کو مزید گہرا کر رہی ہیں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
لبنان کے جنوبی گاؤں حبوش میں ایک رات اچانک بچوں کے رونے اور مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ ابتدا میں مقامی لوگوں کو لگا کہ شاید کوئی بچہ واقعی مصیبت میں ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ آوازیں آسمان پر منڈلاتے ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون سے نشر ہو رہی تھیں۔ گاؤں کے پیرامیڈیک ہاشم نے بتایا کہ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو حالیہ مہینوں میں جنوبی لبنان کے مختلف دیہاتوں میں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلا موقع نہیں جب ڈرونز ہمارے اوپر منڈلا کر مختلف آوازیں نشر کر رہے ہوں۔ کبھی بچوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، کبھی ایمبولینس کا سائرن، کبھی قرآنِ کریم کی تلاوت اور کبھی کسی عورت کی مدد کے لیے پکارنے کی آواز۔ ہم تقریباً روزانہ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
Nothing to see here.
— sarah (@sahouraxo) June 9, 2026
Just Israel wiping out one of the oldest cities in the world — the ancient city of Tyre in South Lebanon. pic.twitter.com/TJLBiJwuja
مقامی باشندوں کے مطابق اسرائیلی ڈرونز اب جنوبی لبنان کے آسمان پر مستقل موجودگی اختیار کر چکے ہیں۔ یہ نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ مختلف پیغامات اور آوازیں نشر کر کے لوگوں کے ذہنوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاشم نے بتایا کہ ’’جب رات کے سناٹے میں کسی بچے کے رونے یا کسی انسان کے مدد مانگنے کی آواز سنائی دے تو فطری طور پر انسان باہر نکل کر صورتحال جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اب ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ آوازیں حقیقی نہیں بلکہ ڈرونز سے نشر کی جا رہی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اس عمل کا ایک مقصد مقامی آبادی میں خوف پیدا کرنا اور انہیں اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرنا ہے، جبکہ دوسرا مقصد ممکنہ طور پر ان افراد کی شناخت کرنا ہو سکتا ہے جو اب بھی سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔
Moments ago, an Israeli drone bombed a vehicle on the highway near Khaldeh, 12 km south of Dahiya in Beirut.
— Warfare Analysis (@warfareanalysis) June 3, 2026
- This is the sixth vehicle bombed by Israel in Lebanon since this morning.
- Hezbollah officials have previously said that Dahiya equals Haifa and Tel Aviv.
- Iranian… pic.twitter.com/8ffKaBpVCm
غزہ میں بھی یہی طریقہ کار
یہ طریقہ کار غزہ میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور مقامی شہریوں نے اسرائیلی ڈرونز کی جانب سے بچوں کے رونے، خواتین کی چیخوں اور مدد کی اپیلوں جیسی آوازوں کے استعمال کی متعدد اطلاعات دی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسی آوازیں بعض اوقات شہریوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں کہ کوئی شخص واقعی خطرے میں ہے۔ جنوبی لبنان کے تباہ شدہ قصبے حولہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن طارق مزانی نے بھی ایسے واقعات کا تجربہ بیان کیا۔ ان کے مطابق ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی ڈرونز نے متعدد دیہاتوں کے اوپر ان کا نام لے کر پیغامات نشر کیے اور ان پر حزب اللہ سے وابستگی کا الزام عائد کیا۔
The aftermath of the Israeli bombing last night of the Al-Khamisi family home in Al-Maghazi refugee camp, central Gaza Strip. https://t.co/inDSGuwxlK pic.twitter.com/VxV2QaSxwV
— Warfare Analysis (@warfareanalysis) June 12, 2026
مزانی نے کہا کہ ’’جب میرے بارے میں پیغامات نشر کیے گئے تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں مجھے یا میرے آس پاس کے لوگوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اسی خوف کے باعث مجھے اپنا عارضی ٹھکانہ چھوڑنا پڑا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس قسم کے پیغامات صرف مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کے لیے نشر کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ واپسی، تعمیرِ نو یا مزاحمت جیسے موضوعات پر سرگرم ہونے سے گریز کریں۔
ماہرین کے مطابق نفسیاتی جنگ کے یہ طریقے روایتی عسکری کارروائیوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد براہِ راست جسمانی نقصان پہنچانے کے بجائے شہری آبادی کے ذہنی سکون، اعتماد اور سماجی روابط کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جنوبی لبنان کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال نے عام زندگی کو غیر معمولی حد تک مشکل بنا دیا ہے۔ اب ہر آواز، ہر پکار اور ہر چیخ شک و شبہ کا باعث بن جاتی ہے۔ ایک طرف حقیقی مدد کی ضرورت رکھنے والے شخص کو نظرانداز کرنے کا خوف رہتا ہے، جبکہ دوسری جانب کسی جال میں پھنس جانے کا خدشہ بھی موجود ہوتا ہے۔
One of the most horrifying scenes in human history has been revealed.
— Tamer Nahed (@Tamer_Alnoaizy) June 5, 2026
When Israel forced thousands in Gaza to collect flour mixed with sand due to severe famine.
A moment the world must never forget. pic.twitter.com/TpCbLnPP0R
مقامی افراد کے مطابق مسلسل نگرانی، بے گھر ہونے کے تجربات اور ڈرونز سے نشر ہونے والی خوفناک آوازوں نے جنوبی لبنان میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی کو ایک نفسیاتی آزمائش میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ ڈرونز صرف فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ دباؤ، نگرانی اور خوف کی ایک ایسی علامت بن چکے ہیں جو ہر وقت ان کے سروں پر منڈلاتی رہتی ہے۔