مارکس کا فیصد بڑھانے کیلئے دسویں کے طلبہ اسکورنگ سوالات پر خاص توجہ دیں

Updated: March 05, 2020, 8:31 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

اس کیلئے ’’ویٹیج‘‘ کو سمجھنا ضروری ہے جس کے تحت زباندانی کے پرچوں کے علاوہ تاریخ اور سیاسیات میں بھی خاطرخواہ مارکس حاصل کرنا مشکل نہیں رہ جاتا۔ نصابی کتاب پر زیادہ انحصار بھی ضروری ہے۔

SSC Students- Picture Inquilab
ایس ایس سی کے طلبہ۔ تصویر: انقلاب

 دسویں کا امتحان قریب آتا جارہا ہے۔ چونکہ یہ بورڈ کا امتحان ہوتا ہے اس لئے طلبہ کو فکر لاحق رہتی ہے۔ والدین، بہن بھائی، دیگر رشتہ دار اور آس پاس کے لوگ بھی دسویں کے طالب علم کی خبر گیری میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے طالب علم پر ایک قسم کا دباؤ رہتا ہے کہ اُسے امتحان کی تیاری کچھ اس طرح کرنی ہے کہ اچھے نمبرات حاصل ہوں ۔
  اس سلسلے میں کئی باتیں ایسی ہیں کہ جن پر طلبہ کی توجہ نہایت ضروری ہے۔ ان میں سے کچھ باتیں تعلیمی انقلاب کے سابقہ شماروں میں بیان کی جاچکی ہیں ۔ آج اس تحریر کے ذریعہ بھی ہم چند مشورے، جو ممکن ہے اہم ہوں ، طلبہ تک پہنچا رہے ہیں ۔
  سب سے پہلے واضح ہو کہ یہ مشورے ہیں ۔ ان سے قبل، تعلیمی سال کے دوران اساتذہ آپ کو بہت سی باتیں سمجھا چکے ہیں مثلاً کیا پڑھنا ہے، کہاں سے پڑھنا ہے، کتنا پڑھنا ہے، کہاں سے سوالات پوچھے جاتے ہیں ، سوالات کی نوعیت کیا ہوتی ہے، وغیرہ۔ اُنہوں نے مشقی سوالات اور امکانی سوالات بھی حل کرائے ہوں گے۔ اپنے اساتذہ کی ان تمام نصیحتوں کو ذہن نشین رکھئے اور ان پر عمل کیجئے۔ 
  یہاں جو باتیں بطور مشورہ بیان کی جارہی ہیں ، اگر ان میں سے کچھ باتیں آپ کو قابل عمل معلوم ہوتی ہیں تو اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں اُنہیں عمل میں لانے کی کوشش کیجئے۔ 
 سب سے اہم چیز آپ کی نصابی کتاب ہے۔ اس کو آپ جتنی اچھی طرح سمجھیں گے اُتنا آپ کا فائدہ ہوگا۔ اس سے خود اعتمادی پیدا ہوگی اور امتحان میں کامیابی حاصل کرنا مشکل نہیں رہ جائے گا۔ نصابی کتاب کے اخیر میں دیئے گئے سوالات کا بغور مطالعہ کریں اور اُنہیں اچھی طرح ذہن نشین کریں ۔ ایک جملے میں کہا جاسکتا ہے کہ فوکس نصابی کتاب پر کریں ۔ 
 سب سے پہلے آئیے آپ کی اپنی زبان اُردو کی طرف۔ طلبہ کی رہنمائی میں پیش پیش رہنے والے ماہر معلم شیخ دلاور اسماعیل کا کہنا ہے کہ بہت سے طلبہ اُردو پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے بلکہ اسے گھر کی مرغی سمجھ لیتے ہیں ۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ اُردو اسکورنگ سبجیکٹ ہے جس کیلئے ترجیحات کا شعور ایک اہم تکنیک ہے۔ تحریری مہارت پر خاص توجہ دیجئے۔ قواعد والا جو حصہ ہے اس کیلئے تین سال کے پرچے سامنے رکھ کر مشق کرلیجئے۔ کچھ سوالات کسی گائیڈ مثلاً نونیت سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔ پرچے کا پہلا اور دوسرا حصہ اقتباسات پر مبنی ہوگا۔ حصہ ٔنثر ۱۸؍ مارکس کا اور حصہ نظم ۱۶؍ مارکس کا ہوتا ہے۔ اقتباسات کو اچھی طرح پڑھ کر دیئے گئے سوالات کا اپنی زبان میں جواب لکھئے۔ جواب اقتباس میں سے نقل کرنا ٹھیک نہیں ۔
 شیخ دلاور اسماعیل کے بقول یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ زباندانی کے تمام پرچے (اُردو، انگریزی، ہندی، مراٹھی) کا پیٹرن لگ بھگ ایک جیسا ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ گرامر کے علاوہ پورا پیٹرن ایک جیسا ہے۔ 
 مضمون نویسی کے سوال میں چار پیراگراف لکھنے کا ذہن بنائیے۔ تمہید ڈھائی سے تین سطر کی ہو، عنوان کے مثبت پہلو چار سطروں میں بیان کیجئے اور پھر عنوان کے منفی پہلو چار سطروں میں لکھنے کے بعد آخری پیراگراف میں ڈھائی سے تین سطور میں اپنی رائے بیان کیجئے یا اپنا پیغام دیجئے۔ اس سے قبل خط نویسی کا سوال بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ امتحان کی تیاری کے دوران یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جتنی مشق کریں گے اُتنی مہارت اور اپنے اساتذہ سے جتنا پوچھیں گے اُتنی آسانی پیدا ہوگی۔ 
 تاریخ کی کتاب میں ۹؍ سبق ہیں ۔ ہر سبق کے پیچھے ایک جدول ہوتی ہے۔ اس طرح ۹؍ جدول آپ کے پاس ہیں ۔ سیاسیات کی کتاب میں ایک سبق کے پیچھے جدول ہے، دیگر ۴؍ جدول آپ کسی گائیڈ سے حاصل کرلیں ۔ اس طرح ۱۴؍ جدول کی مشق آپ بآسانی کرسکتے ہیں ۔ 
 تاریخ اور سیاسیات ہی میں خانہ پُری کے بھی کئی سوالات ہیں جن کی اچھی مشق کے ذریعہ آپ، اپنے لئے بڑی آسانی پیدا کرسکتے ہیں ۔ 
 امتحانی پرچے تیار کرنے والے ماہرین پرچے کو عام طور پر اس طرح بانٹتے ہیں ۔ ایک حصہ آسان سوالات کا ہوتا ہے تاکہ وہ طلبہ بھی کامیاب ہوسکیں جو پڑھائی میں کمزور ہیں ۔ دوسرا حصہ اُن سوالات کا ہوتا ہے جن کے حل کرنے سے اوسط درجے کے طلبہ بھی قابل ذکر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ تیسرا حصہ اُن سوالات پر مبنی ہوتا ہے جس کے حل کرنے سے اوسط سے اوپر کے طلبہ اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ہر طالب علم کو آسان پھر نسبتاً مشکل اور پھر مشکل سوالات کا رُخ کرنا چاہئے۔ اس سے نمبرات حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوتی۔
 تمام مضامین کے مختصر اور مفصل جوابات جب یاد کریں تو کلیدی الفاظ اور نکات (کی ورڈس/ پوائنٹس) کو خط کشیدہ (انڈرلائن) سے ممتاز کریں ۔ ان نکات کو لکھیں ، ذہن نشین کریں اور زبانی دُہرائیں ۔ 
 بہتر یادداشت کیلئے بہترین اور بابرکت وقت فجر سے پہلے کا ہوتا ہے۔ پڑھائی کے نظام الاقات میں اس وقت کو ضرور شامل کریں۔ 
  اپنے کسی ہم جماعت کے سامنے یاد کیا ہوا جواب دُہرانا بھی ایک اچھی تدبیر ہے۔ اس کا بڑا فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ایک بار دُہرانا دو بار یاد کرنے کے برابر ہوتا ہے۔ ایک ترکیب یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے خود یاد کرکے اپنے کسی ہم جماعت کو سنائیں ۔ پھر اُس کا یاد کیا ہوا سنیں ۔ اس سے آپ کو (اور آپ کے ساتھی کو بھی) سبق یا سوال کا جواب بہت اچھی طرح یاد ہوجائیگا اور امتحان میں بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ 
 یاد رکھئے کہ دسویں کا امتحان کچھ مشکل نہیں اگر طلبہ حکمت عملی اور تدبیر کے ساتھ خود کو تیار کریں ، اپنے پر بھروسہ رکھیں ، خود اعتمادی کے ساتھ امتحان گاہ جائیں ، خود اعتمادی ہی کے ساتھ پرچہ حل کریں اور پھر گھر آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد دوسرے پرچہ کی تیاری شروع کردیں ۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK