Inquilab Logo Happiest Places to Work

طالب علم کی اپنی طاقتوں اور کمزوریوں سے واقفیت اس کیلئے کارآمد ہے

Updated: September 01, 2023, 5:11 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

مدنی ہائی اسکول، جوگیشوری کے پرنسپل اور کریئر کاؤنسلر عامر انصاری نے اپنے تجربات کی روشنی میں طلبہ کی طاقتوں ، کمزوریوں ، مواقع اور خطرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے

Photo. INN
تصویر:آئی این این

دورِ حاضر کی اہم خوبی یہ ہے کہ ہمیں بہت سی آسانیاں حاصل ہیں ۔ تعلیمی عمل میں پہلے کے مقابلے کافی آسانیاں آچکی ہیں ۔ 
طاقتیں (Strengths)
ٹیک سیوی، انگریزی کی جانکاری، معلومات تک آسان رسائی: موجودہ دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات تک پہنچنا آسان ہوگیا۔ آج طالب علم انگریزی زبان سیکھنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جارہے ہیں ۔
سیکھنے کا عمل آسان اور پُر کشش: سیکڑوں منفرد اور دلچسپ تعلیمی لوازمات کے ذریعے کلاس ٹیچنگ دلکش اور پُر کشش بن چکی ہے
طالب علم کی مجموعی ترقی پر زور: تعلیمی محاذ پر زبردست ترقی کا اثر اسکول اور اس کے طریقہ تعلیم پر بھی پڑا ہے، اب طالب علم کی توجہ نہ صرف تعلیمی ترقی پر ہے بلکہ مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے اس کی مجموعی شخصیت کے ارتقا کیلئے بھی کام ہورہا ہے۔
تنقیدی و تخلیقی سوچ، مسائل حل کرنا، لیڈرشپ: عصر حاضر میں طالب علم کی خود شناسی، فیصلہ کی قوت، بولنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تنقیدی سوچ ، سائنسی نقطہ نظر کو فروغ دینا، ان مہارتوں پر تیزی سے توجہ دی جاری ہے۔
کمزوریاں (Weaknesses)
سستی و کاہلی و توجہ کا فقدان : طلبہ اکثر ٹائم مینجمنٹ کے ساتھ جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور کام کا معیار کم ہوتا ہے۔ ڈجیٹل آلات کےبے جا استعمال نے طلبہ کی توجہ کی قوت کو کمزور کردیا ہے۔
تحریر ی صلاحیت میں کمزوری: کی بورڈ نے طلبہ کی تحریری صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کا املا اور جملے کی ساخت کمزور ہوگئی ہے۔
سیکھنے کے عمل میں بیرونی مدد پر انحصار: آج کا طالب علم کانسپٹ کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر ٹیوٹرز یا آن لائن حل جیسے بیرونی وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔
امتحانی اضطراب: تحریری صلاحیتوں کا متاثر ہونا، پڑھائی پر بھر پور توجہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ کو امتحانات کا سامنا کرتے وقت پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے۔
حوصلہ افزائی کی کمی: طالب علم کو پڑھائی کیلئے اندرونی محرک تلاش کرنے کیلئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ ان میں سے اکثریت اپنے حصول علم کی اصل وجہ سے ناآشنا ہے۔
دماغی و جسمانی صحت کے مسائل: تعلیمی دباؤ، سماجی معاملات، سیاسی آب و ہوا اور ذاتی چیلنجز جیسے عوامل طالب علم کو دماغی صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا کر رہے ہیں ۔
اخلاقی گراوٹ اور دین سے بیزاری: اکثر طلبہ ایسے اداروں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا نظم نہیں ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں اخلاقی پستی اور دین سے بیزاری نمایاں نظر آتی ہے۔ ہٹ دھرمی اور ضد بھی اس میں شامل ہے۔ 
مواقع (Opportunities)
آن لائن لرننگ اور وسائل: ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر طلبہ اپنی کلاس روم کی تعلیم کو بڑھا سکتے ہیں ، نئے مضامین سیکھ سکتے ہیں ، اور عملی مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں ۔ آج ایک طالب علم گھر بیٹھے دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی کے کسی بھی طرح کے آن لائن کورسیز کر سکتا ہے۔
عالمی رابطہ اور تعاون: طلبہ آج دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے طالب علم کے ساتھ جڑنے اور تعاون حاصل کرنے کی سہولت رکھتے ہیں ۔ ورچوئل کلاس رومز، آن لائن فورم اور سوشل میڈیا کے ذریعے، وہ ثقافتی تبادلوں میں مشغول ہو سکتے ہیں ۔ 
کریئر کیلئے ہنر مندی کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا: جدید ٹیکنالوجیز اور صنعتیں طلبہ کو ایسی مہارتیں تیار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں جو مستقبل کی ملازمتوں سے ہم آہنگ ہوں ۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، پائیدار توانائی، اور ڈجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبے طلباء کیلئےاعلیٰ طلب والے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے دلچسپ مواقع پیش کرتے ہیں ۔
انٹرپرینیورشپ اور انوویشن: انٹرپرینیورشپ کے عروج نے طلبہ کیلئے ابتدائی مرحلے میں اپنے کاروباری آئیڈیاز کو دریافت کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ رہنمائی، اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز اور نیٹ ورکنگ ایونٹس تک رسائی کے ساتھ طلبہ اپنے اختراعی تصورات کو قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔
سماجی اور ماحولیاتی اثرات: کمیونٹی سروس، رضاکارانہ اور سرگرمی میں شمولیت کے مواقع طلبہکو اہم مسائل کو حل کرنے اور ایک بہتر دنیا میں کردار ادا کرنے کیلئےبااختیار بناتے ہیں ۔
اسٹوڈنٹ مینٹر شپ پروگرام : آج طلبہ اپنے لئے کریئر یا تعلیمی مسائل کے حل کیلئےکسی بھی شعبےکے ماہر سے مینٹرشپ لےسکتے ہیں ۔
 خطرات(Threats) 
ڈجیٹل ایڈکشن اور ذہنی خلفشار: برقی یعنی ڈجیٹل آلات، سوشل میڈیا اور آن لائن تفریح کا زیادہ استعمال طلبہ کو اس لت کا شکار بنا رہا ہے۔ معلومات کے اس دور میں صحیح اور غلط میں فرق کرپانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تعلیمی دباؤ اور تناؤ: والدین، اساتذہ اور نظام تعلیم سے زیادہ توقعات بہت زیادہ تعلیمی دباؤ اور تناؤ کا باعث بن سکتی ہیں جس سے طلبہ کی ذہنی اور جذباتی صحت متاثر ہوتی ہے۔ 
سائبرکرائم اور آن لائن ہراسانی: آن لائن ماحول سے طلبہ کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ 
مستقبل کی ملازمتوں کیلئےتیاری کا فقدان: تیز رفتار تکنیکی ترقی اور بدلتے ہوئے جاب مارکیٹ طلبہ کو ان کے مستقبل کے کریئر کیلئے متعلقہ مہارتوں سے لیس نہیں کر پارہے ہیں ۔
رازداری کا نقصان: ڈجیٹل دور نے ذاتی رازداری کو کم کر دیا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ طلبہ ہمیشہ ذاتی معلومات آن لائن شیئر کرنے کے نقصان سے آگاہ نہ ہوں ۔
بڑھتی ہوئی عدم مساوات: معیاری تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں تفاوت تعلیمی عدم مساوات کو بڑھا رہا ہے ۔اس کا حل تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK