یومِ جمہوریہ یعنی ۲۶؍ جنوری سے طلبہ واقف ہیں، مگر کتنا؟

Updated: January 22, 2021, 6:03 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو آزادی ملنے کے بعد یہ ضروری تھا کہ ایک آزاد ملک کیلئے مستقل آئین کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے پیش نظر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ۲؍ سال ۱۱؍ مہینے اور ۱۸؍ دنوں کے طویل عرصہ میں آئین ہند مرتب کیا۔ اس دوران میں وقتاً فوقتاً عوام کی رائے بھی لی گئی، اور ضرورت کے مطابق ترامیم بھی کی گئیں ۔

Indian Navy personnel practicing parade. Photo: PTI
انڈین نیوی کے اہلکار پریڈ کی مشق کرتے ہوئے۔تصویر: پی ٹی آئی

پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو آزادی ملنے کے بعد یہ ضروری تھا کہ ایک آزاد ملک کیلئے مستقل آئین کا نفاذ کیا جائے۔ اس کے پیش نظر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ۲؍ سال ۱۱؍ مہینے اور ۱۸؍ دنوں کے طویل عرصہ میں آئین ہند مرتب کیا۔ اس دوران میں وقتاً فوقتاً عوام کی رائے بھی لی گئی، اور ضرورت کے مطابق ترامیم بھی کی گئیں ۔ہمارے ملک کا ہر شہری اس بات سے واقف ہے کہ ہم اپنا یوم آزادی ۱۵؍ اگست کو مناتے ہیں کیونکہ اسی دن ۱۹۴۷ء میں ہمارے ملک نے انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کی تھی۔ اسی طرح عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں یوم جمہوریہ ہر سال ۲۶؍ جنوری کو منایا جاتا ہے۔ اسی تاریخ کو دستور ہند کا نفاذ عمل میں آیا تھا۔ 
آئین کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
 ہندوستان ۲۰۰؍ سال سے زائد عرصے تک انگریزوں کی قید میں تھا، اور ہمارے لیڈروں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ آزاد ہوا تھا۔ یہاں کوئی مستقل آئین نہیں تھا، اور ہندوستانی قوانین برطانویوں کے قائم کردہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے ترمیم شدہ ورژن پر مبنی تھے۔ تاہم ، آزادی ملنے کے دو ہفتوں کے بعد یعنی ۲۹؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں ہندوستانی آئین کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کافی محنت اور سوچ وبچار کے بعد آئین کا مسودہ تیار کیا گیا۔
 آئین کا پہلا مسودہ۴؍ نومبر ۱۹۴۷ء کو ہندوستانی دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ ۲؍ سال ۱۱؍ مہینے ۱۸؍ دنوں کے اس عرصے میں اس اسمبلی نے ۱۶۶؍ مرتبہ اجلاس کیا تھا۔ اسمبلی کے ۳۰۸؍ ممبران نے کئی اجلاس میں عوام کو بھی شامل کیا تھا، اور مسودہ میں کئی مرتبہ ترامیم بھی کی گئی تھیں ۔ بالآخر۲۴؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو اسمبلی کے ممبران نے دستور کی دو تحریری کاپیوں پر دستخط کئے، جن میں سے ایک انگریزی میں اور دوسرا ہندی میں تھا۔ اور پھر دو دن بعد تاریخ رقم کی گئی۔ 
ڈاکٹر راجندر پرساد کی صدر جمہوریہ کے طورپر تقرری 
 چھبیس جنوری ۱۹۵۰ء کو ڈاکٹر راجندر پرساد کی ہندوستانی کے صدر کی حیثیت سے پہلی مدت ملازمت کا آغاز ہوا تھا۔ علاوہ ازیں ، اسی دن آئین ساز اسمبلی نئے آئین کے تحت ہندوستان کی پارلیمنٹ بنی۔
آئین کو ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو اپنایا گیا تھا
 اگرچہ آئین کا نفاذ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو عمل میں آیا تھا۔ تاہم، ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی نے اسے ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء ہی کو اپنالیا تھا۔ لیکن ہمارے ملک کو جمہوری ملک میں تبدیل کرنے کا پورا عمل ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو مکمل ہوا تھا۔ 
چھبیس جنوری ہی کو یوم جمہوریہ منانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا تھا؟
 لاہور نے ۱۹۲۹ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، جس کے صدر پنڈت جواہر لعل نہرو تھے۔ اس وقت ، پنڈت نہرو اور سبھاش چندر بوس مل کر کانگریس پارٹی میں ان لوگوں کی مخالفت کیلئے کام کر رہے تھے جو ہمارے ملک پر انگریزوں کے’’ تسلط ‘‘ سے مطمئن تھے یعنی جس میں برطانوی بادشاہ ہندوستان کا سربراہ بنتا رہے گا۔۳۱؍ دسمبر ۱۹۲۹ء کو پنڈت نہرو نے دریائے راوی کے کنارے ترنگا لہرایا اور ’’پورن سوراج‘‘ (مکمل آزادی یا مکمل خود مختاری) کا مطالبہ کیا ، اور آزادی کی تاریخ۲۶؍ جنوری ۱۹۳۰ء طے کی گئی۔ تاہم، ہمیں ۱۹۳۰ء میں آزادی نہیں لیکن اس دن کو پورن سوراج کے دن کے طور پر منایا گیا۔ اگلے ۱۷؍ سال تک (یعنی آزادی ملنے تک) ۲۶؍ جنوری ۱۹۳۰ء کو کانگریس اور دیگر لیڈران کی جانب سے پورن سوراج کے طور پر منایا جاتا رہا۔ تاہم، آزادی ملنے کے بعد اس دن یعنی پورن سوراج کو یوم جمہوریہ میں تبدیل کردیا گیا کیونکہ آئین کے نفاذ کیلئے اس سے بہتر کوئی اور تاریخ نہیں تھی۔ اور یوں ہر سال ۲۶؍ جنوری کو یوم جمہوریہ منایا جانے لگا۔ 
اس دن کیا ہوتا ہے؟
 ہمارے ملک میں ۳؍ لازمی عوامی تعطیلات میں سے ایک یوم جمہوریہ ہے۔ دیگر دو تعطیلات یوم آزادی اور گاندھی جینتی ہیں ۔اس دن اہم اور خاص تقریبات کا انعقاد نئی دہلی میں کیا جاتا ہے، اور صدر جمہوریہ کی صدارت اور موجودگی میں تمام تقریبات اور اجلاس دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں ۔ ان تقریبات کا ایک اہم مقصد ہمارے ملک کو خراج عقیدت پیش کرنا ہوتا ہے۔
 اس دن قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، ہندوستان فوج کے سپاہی (آرمی، نیوی، فضائیہ) پریڈ کرتے ہیں اور قومی ترانہ گایا جاتا ہے۔ 
اس سال جشن کا انداز مختلف ہوگا؟
 امسال کورونا وائرس کی وباء کے سبب بہت کچھ مختلف ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سال یوم جمہوریہ کے موقع پر یوکے کے وزیر اعظم بورس جانسن مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھے۔ تاہم، کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیل جانےکے سبب انہوں نے ہندوستان کا اپنا سفر منسوخ کردیا ہے۔ اس کے بعد ، وزارت خارجہ نے مطلع کیا کہ عالمی سطح پر کوڈ۔۱۹؍ کی خراب صورتحال کی وجہ سے یوم جمہوریہ کی تقریب میں کوئی غیر ملکی ہیڈ آف اسٹیٹ نہیں شامل ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ چوتھا موقع ہے جب ہندوستان کسی غیر ملکی لیڈر (مہمان خصوصی) کے بغیر یوم جمہوریہ منائے گا۔ اس سے قبل ایسا ۱۹۶۶ء، اور اس سے پہلے ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں ہوا تھا۔
آئینِ ہند کے متعلق چند دلچسپ باتیں 
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کو ’’بابائے ہندوستانی آئین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
آئین ہند ہاتھ سے لکھی گئی ایک دستاویز ہے۔ یہ دنیا میں تحریر کئی گئی طویل ترین دستاویزات میں سے ایک ہے۔ اس کے انگریزی ورژن میں کل ایک لاکھ ۱۷؍ ہزار ۳۶۹؍ الفاظ ہیں ۔
آئین ہند کی اصل کاپی پر پارلیمنٹ کے ۲۸۳؍ ممبران کے دستخط ہیں ۔
آئین ہند کے پیش لفظ (پری ایمبل) میں لفظ  ’’سوشلسٹ‘‘ ایمرجنسی کے دوران ۴۲؍ ویں ترمیمی ایکٹ ۱۹۷۶ء کے تحت شامل کیا گیا تھا۔
آئین کی اصل کاپی پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں اب بھی محفوظ ہے۔
ہندوستانی آئین کے پیش لفظ میں صرف ایک مرتبہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کو ترمیم کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ یہ ایمرجنسی کے دوران ہوا تھا۔
اصل آئین ہند پریم بہاری نارائن رائے زادہ نے لکھا تھا۔اس کا ہر صفحہ شانتی نکیتن کے فنکاروں نے ڈیزائن کیا تھا۔
پہلے مسودے میں ۲؍ ہزار ترامیم کی گئی تھیں ۔
 یاد رہے کہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو ملک کا قومی نشان بھی اپنایا گیا تھا۔ ۱۹۵۰ء سے لے کر جنوری ۲۰۱۹ء تک آئین ہند میں ۱۰۳؍ مرتبہ ترامیم کی گئی ہیں ۔
 آئین ہند کی چند خصوصیات برطانیہ ، آئرلینڈ، جاپان، امریکہ، جنوبی افریقہ، جرمنی، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت۱۰؍ دیگر ممالک کے آئین سے ماخوذ ہیں ۔
آئین ہند کا بنیادی ڈھانچہ گورنمنٹ آف انڈیا ایک ۱۹۳۵ء پر مبنی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK