امتحان کی تیاری بھی ایک قسم کا امتحان ہے

Updated: February 07, 2020, 2:51 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

پہلے امتحان (تیاری) میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کیلئے دوسرے (اصل) امتحان میں سرخروئی کچھ زیادہ مشکل نہیں رہ جاتی۔ چاہیں تو آزما کر دیکھ لیں۔ہمیں یقین ہے کہ ان میں سے کئی باتیں آپ کے علم میں ہوں گی اور آپ اُن پر عمل بھی کرتے ہوں گے۔ جو آپ کے علم میں نہیں، وہ اب آجائیں گی۔ اُنہیں بھی آپ اپنے معمول میں شامل کرسکتے ہیں۔

علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

وقت کبھی نہیں رُکتا۔ تیزی سے بلکہ پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ تعلیمی سال شروع ہوتا ہے اور تعلیمی سال ختم ہو جاتا ہے۔ ہے نا؟ اس تیزی سے گزرتے وقت میں جو طلبہ اپنے دن بھر کے معمول کا پہلے سے منصوبہ تیار کرلیتے ہیں اور پھر ہر چیز وقت کے مطابق کرتے ہیں، کامیابی اُن کے قدم چومتی ہے۔ امتحان قریب آجائیں تو بہترین کارکردگی کیلئے خود کو ہر طرح سے تیار کرنا بھی ایک امتحان ہے کیونکہ اس میں وقت کے بہترین استعمال کا چیلنج ہوتا ہے جسے ہر وہ طالب علم قبول کرتا ہے جو اچھے نمبرات سے کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چند تدابیر اور بھی ہیں جن کا دھیان میں رکھنا اور جن پر عمل کرنا کافی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ طلبہ اس جانب توجہ دیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ نہ دے کر ہم اپنے لئے آسانیاں پیدا نہیں کرپاتے۔ کیا ہیں وہ تدابیر؟

یہانسانی فطرت ہے۔ بہت سی باتیں انسان کے علم میں ہوتی ہیں۔ اُن باتوں  کے فائدے بھی اُس کے علم میں ہوتے ہیں مگر وہ، اُن باتوں سے اس لئے فائدہ نہیں اُٹھا پاتا کیونکہ اُنہیں حقیر جانتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا۔ امتحان قریب آرہا ہے اس لئے ہم چند ایسی چھوٹی چھوٹی تدابیر آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں جن پر عمل کرکے بڑے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ صفحہ اول پر کہا گیا، ان میں سے بہت سی باتوں سے آپ واقف ہیں مگر دھیان نہ دینے اور عمل نہ کرنے کی وجہ سے آپ جاننے کے باوجود اُن کے فوائد سے دور ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا تدابیر ہیں جن سے امتحان کے دور میں یقینی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے:
اسٹڈی کا مطلب ہوتا ہے اسٹڈی۔ اس کا ٹائم ٹیبل بنائیے اور اس پر سختی سے عمل کیجئے۔ کوئی چیز آپ کو اُلجھائے نہیں۔ ہر وہ چیز جو آپ کو اُلجھاتی یا آپ کی توجہ بٹاتی ہے، آپ کی دشمن ہے۔ اس سے دور رہئے۔ اور ہاں، ٹال مٹول سے کام نہ لیجئے کہ تھوڑا لیٹ لوں تب پڑھوں گا، تھوڑی دیر کیلئے دوستوں سے گپ شپ کرلوں تب پڑھوں گا، موبائل سے دل بہلا لوں تب پڑھوں گا۔ جی نہیں، یہ چیزیں آپ کو پڑھائی سے دور لے جائیں گی۔ اس لئے یاد رکھئے کہ اسٹڈی یعنی اسٹڈی۔ اور کچھ نہیں۔ 
وقت پر سو جائیے۔ پورے آٹھ گھنٹے کی نیند لیجئے۔ پُرسکون نیند ضروری ہے۔ سوتے وقت کوشش کیجئے کہ آپ کا ذہن خالی ہو۔ کچھ سوچئے نہیں۔ دُعا پڑھئے اور سو جائیے تاکہ دوسری صبح جب آپ بیدار ہوں تو ہشاش بشاش ہوں اور ضروریات سے فارغ ہوکر پڑھائی شروع کرسکیں۔ نیند کو معمولی نہ جانئے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ جتنی اچھی اسٹڈی آپ کرنا چاہتے ہیں اُتنی اچھی اور پُرسکون نیند آپ کو ملنی چاہئے۔ 
پانی ضرور پیجئے۔ وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا پانی پیتے رہنا چاہئے۔ گھنٹوں پانی نہ پینا اور پھر ایک ساتھ تین چار گلاس پی جانا کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔اچھی عادت یہی ہے کہ آپ وقفے وقفے سے پانی پئیں اور دن بھر میں آٹھ تا دس گلاس پانی پی لیں۔ اس سے دماغ میں تراوٹ رہتی ہے اور جسم سے فاضل مادے خارج ہوتے رہتے ہیں جو آپ کی صحت کیلئے ازحد ضـروری ہے۔
کتاب پڑھنا اسٹڈی نہیں ہے۔ اسٹڈی باقاعدہ پڑھنے، بار بار خود کو ٹٹولنے کا نام ہے کہ ’’مَیں ٹھیک سے پڑھ رہا ہوں، پڑھ رہی ہوں یا نہیں اور جو کچھ بھی پڑھ رہا یا پڑھ رہی ہوں وہ مجھے یاد ہورہا ہے یا نہیں، وہ سمجھ میں آرہا ہے یا نہیں۔ امتحان کی تیاری کے دوران (اور اس سے پہلے بھی) کتاب یا نوٹس کو ناول کی طرح نہیں پڑھا جاتا بلکہ سمجھ کر اور پوائنٹس تیار کرتے ہوئے پڑھا جاتا ہے تاکہ امتحان سے ایک دن قبل صرف نوٹس دیکھی جائیں، اور کچھ دیکھنے یا پڑھنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ 
اگر آپ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ کیا پڑھ رہے ہیں اور کن اسباق کی اسٹڈی آپ کی پکی ہوچکی ہے،یا، آپ نے کہاں کیا پڑھا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر کوئی دوسرا اس قسم کی تفصیل بتائے تو اُس پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ ’ڈسٹرب‘ ہوسکتے ہیں کہ ’’ارے، یہ تو میں نے پڑھا ہی نہیں!‘‘
جس طرح مناسب مقدار میں (وقفے وقفے سے) پانی پینا ضروری ہے اسی طرح وقت پر کھانا کھانا بھی امتحانی دور میں بہت ضروری ہے۔ کوشش کیجئے کہ آپ نرم، ہلکی مگر طاقت بخش غذا کا استعمال کریں۔ بھاری اور ثقیل غذا معدے پر بوجھ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے سستی آنے لگتی ہے اور پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ 
صبح سویرے ورزش ضرور کیجئے۔ ممکن ہو تو ۱۵۔۲۰؍ منٹ واک بھی کیجئے۔ اس سے جسم میں چستی پھرتی ہی نہیں پیدا ہوتی بلکہ ذہن بھی متحرک رہتا ہے۔ طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ ورزش اور واک کی وجہ سے، دماغ سے ایک مادہ خارج ہوتا ہے جو اینڈورفن  کہلاتا ہے اور طبیعت میں بشاشت پیدا کرتا ہے۔ اس سے  اچھا محسوس ہوتا ہے۔ 
سابقہ امتحانات کے پرچے حل کرنے کی مشق ضرور کیجئے۔ اس دوران یہ کوشش بھی ہونی چاہئے کہ آپ ہر پرچہ مقررہ وقت کے اندر ہی مکمل کرلیں۔ اس سے امتحانی پرچہ حل کرنے کی آپ کی مشق بڑھے گی اور آپ جب امتحان گاہ میں داخل ہوں گے تو آپ کیلئے کچھ مشکل نہیں رہ جائیگا۔ پرچہ وقت پر مکمل کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں آئے گی۔ 
کچھ طلبہ ابتدائی سوالات بہت اچھی طرح حل کرتے ہیں ۔ ان پر بہت وقت صرف کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے پاس بقیہ سوالات کیلئے بہت کم وقت رہ جاتا ہے۔ امتحان کے مقررہ وقت کو سوالات سے تقسیم کیجئے۔ مثلاً ۶؍ سوال اور ۲؍ گھنٹے۔ اس کا مطلب ہے ہر سوال کم و بیش ۲۰؍ منٹ میں مکمل ہوجانا چاہئے۔ اس ترتیب سے آگے بڑھئے اور پھر دیکھئے کہ آپ مقررہ وقت میں کتنے سکون سے پرچہ حل کرلیتے ہیں۔ 
کسی سبجیکٹ پر بہت محنت کرنا اور کسی کو بالکل ہی نظر انداز کردینا ٹھیک نہیں۔ کوشش کیجئے کہ آپ ہر مضمون کو یکساں وقت دیں۔ اگر مشکل مضامین کو تھوڑا زیادہ وقت دیا گیا اور آسان مضامین کو تھوڑا کم تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
 بتائیے  کوئی تدبیر ہے ایسی جس سے آپ واقف نہیں یا آپ نے تعلیمی انقلاب میں نہیں پڑھی؟  سب آپ کے علم میں ہے۔ ضرورت صرف عمل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK