تلنگانہ کی تشکیل ۲؍ جون ۲۰۱۴ء کو ہوئی تھی

Updated: June 12, 2020, 7:15 PM IST | Mumbai

یوم تلنگانہ ۲۰۱۴ء سے ہر سال ۲؍ جون کو منایا جاتا ہے۔ اسی دن تلنگانہ کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ریاست بھر میں باقاعدہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

یوم تلنگانہ ۲۰۱۴ء سے ہر سال ۲؍ جون کو منایا جاتا ہے۔ اسی دن تلنگانہ کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ریاست بھر میں باقاعدہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔ اس دن ریاست کا وزیر اعلیٰ عوام سے خطاب کرتا ہے۔ ریاست کے تمام ۳۰؍ اضلاع میں مختلف قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یکم جولائی ۲۰۱۳ء کو کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے تلنگانہ کو ایک علاحدہ ریاست بنانے کیلئے قرار داد منظور کی تھی۔ تلنگانہ کی تشکیل کیلئے ایک بڑے منصوبے کی ضرورت تھی اس لئے فروری ۲۰۱۴ء تک ہندوستانی پارلیمنٹ میں مختلف بل پیش کئے جاتےرہے اور جون ۲۰۱۴ء میں ریاست کی تشکیل عمل میں آئی۔ اس وقت چندر شیکھر کو تلنگانہ کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ اس کے بعد ہونے والے الیکشن میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی پارٹی اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔ تلنگانہ کو آندھرا پردیش سے علاحدہ کیا گیا تھا۔ ’’تلنگانہ‘‘ لفظ کا مطلب ہے ’’تیلگو بولنے والوں کی زمین۔‘‘تلنگانہ کا دار الحکومت حیدرآباد، دکن ہے جو فی الحال ریاست آندھرا پردیش کا بھی دار الحکومت ہے۔ابھی جس علاقے کو تلنگانہ کہا جاتا ہے، اس میں آندھرا پردیش کے ۲۳؍ اضلاع میں سے ۱۰؍اضلاع آتے ہیں ۔ اس علاقے سے آندھرا پردیش کی ۲۹۴؍ میں سے ۱۱۹؍ اسمبلی نشستیں اور ۴۲؍ لوک سبھا سیٹوں میں سے ۱۷؍ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں ۔ تلنگانہ کو ایک الگ ریاست بنانے کی مانگ برسوں سے کی جاتی رہی تھی اور اسی کیلئے یہ تحریک بھی چلائی گئی تھی۔ تلنگانہ ملک کی ۲۹؍ ویں ریاست ہے۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK