تاریخ کے ایسے بڑے طوفان جنہوں نے زبردست تباہی برپا کی

Updated: June 12, 2020, 8:01 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ویدر انڈر گراؤنڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ۳۵؍ خطرناک طوفانوں میں سے ۲۶؍ خلیج بنگال میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین موسمیات نے خلیج بنگال کو خطرناک قرار دیا ہے۔بدھ (۳؍ جون ۲۰۲۰ء) کو مہاراشٹر کے ساحل سے نسرگ طوفان ٹکرایا ہے۔ یہ طوفان بحیرۂ عرب میں آیا تھا اس لئے ہندوستان کے مغربی ساحل کے علاقے اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ ۲؍ ہفتوں میں ملک میں ۲؍ طوفان آئے ہیں ۔ ۱۶؍ مئی کو ہندوستان کا مشرقی ساحل امفان طوفان کی زد میں تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بدھ (۳؍ جون ۲۰۲۰ء) کو مہاراشٹر کے ساحل سے نسرگ طوفان ٹکرایا ہے۔ یہ طوفان بحیرۂ عرب میں آیا تھا اس لئے ہندوستان کے مغربی ساحل کے علاقے اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ ۲؍ ہفتوں میں ملک میں ۲؍ طوفان آئے ہیں ۔ ۱۶؍ مئی کو ہندوستان کا مشرقی ساحل امفان طوفان کی زد میں تھا۔ یہ طوفان زیادہ خطرناک تو نہیں تھا لیکن اس سے ۱۷؍ اموات ہوئی تھیں ۔ اس دوران ادیشہ اور مغربی بنگال کے ساحلی علاقوں میں ۱۹۰؍ کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوا چل رہی تھی۔ اسی طرح نسرگ طوفان کے آنے سے مہاراشٹر اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں ۱۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوا چل رہی تھی۔ انسان نے جوں جوں ترقی کی اس نے بہت سی آفات کو کسی حد تک کنٹرول کرنا سیکھ لیا۔ لیکن ماضی میں ایسے کئی سمندری طوفان آئے ہیں جنہوں نے بہت تباہی مچائی تھی۔ آج یہاں پڑھئے ایسے ہی ۵؍ بڑے سمندری طوفانوں کے بارے میں جن سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔
 ویدر انڈر گراؤنڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ۳۵؍ خطرناک ترین سمندری طوفانوں میں سے ۲۶؍ صرف خلیج بنگال میں آئے ہیں ۔ ایسے میں یہ سوال ضرور قائم ہوتا ہے کہ خلیج بنگال میں اتنے خطرناک طوفان کیوں آتے ہیں ؟ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ایسی جگہیں طوفان کے وقت زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں جو تنگ ہوں ۔ طوفان کے اس علاقے میں پہنچتے ہی پانی میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور تیز ہواؤں کے سبب پانی خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے اور ساحلی علاقوں میں گھس جاتا ہے۔ اس وقت حالات مزید سنگین ہوجاتے ہیں جب سمندر کا درجۂ حرارت زیادہ ہو اور خلیج بنگال میں پانی کا درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے یہاں آنے والا طوفان بپھر جاتا ہے اور زبردست تباہی مچاتا ہے۔ ایسے طوفان میں شدت آنے کی وجہ ساحلی علاقوں کا ضرورت سے زیادہ آباد ہونا بھی ہے۔
گریٹ بھولا سائیکلون
 تین نومبر۱۹۷۰ء کو خلیج بنگال میں آنے والے اور مغربی بنگال اور بنگلہ دیش میں زبردست تباہی مچانے والےگریٹ بھولا طوفان میں ۳؍ لاکھ تا ۵؍ لاکھ افراد کی موت ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں صحیح اندازہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت آبادی کے ریکارڈ کا نظام آج کی طرح مستحکم نہیں تھا۔ تاہم، اندازہ یہی ہے کہ اس میں ۵؍ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ دنیا کا خطرناک ترین طوفان تھا۔اس طوفان میں ہوا ۱۸۵؍ کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چل رہی تھیں ۔ اس نے بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں کو پوری طرح اجاڑ دیا تھا۔ 
دریائے ہوگلی کا طوفان
 دریائے ہوگلی کے طوفان کو دنیا کے تباہ کن طوفانوں اور قدرتی آفات کی فہرست میں شاٹل کیا جاتا ہے۔ اسے کلکتہ کا طوفان بھی کہا جاتا ہے۔ خلیج بنگال سے اٹھنے والےاس طوفان نے دریائے ہوگلی کے کنارے آباد تمام علاقوں میں زبردست تباہی برپا کی تھی۔ یہ طوفان ۱۱؍ اکتوبر ۱۷۳۷ء کو آیا تھا۔اس سے دریا میں ۳۰؍ ۴۰؍ فٹ لہریں اٹھی تھیں جبکہ ۶؍ گھنٹے میں ۳۸۱؍ ایم ایم بارش ہوئی تھی۔ اس طوفان میں ۳؍ لاکھ افراد کی موت ہوئی تھی اور ۲۰؍ ہزار جہاز اور کشتیاں ڈوب گئی تھیں ۔ اسی دوران زلزلے کے جھٹکے بھی محسوس کئے گئے تھے۔ 
ہائفونگ طوفان
 آٹھ اکتوبر ۱۸۸۱ء کو مغربی بحر الکاہل سے بننے والا ہائفونگ طوفان ویتنام میں آیا تھا۔ ہسپانوی شرق الہند سے اٹھنے والے اس طوفان سے ویتنام اس قدر متاثر ہوا تھا کہ یہاں تقریباً ۳؍ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ فلپائن میں ۱۰؍ تا ۲۰؍ افراد کی موت ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ طوفان گزر جانے کے بعد بھی سیکڑوں افراد بھوک سے مر گئےتھے۔
کورنگا طوفان
 کورنگا طوفان کا مرکز بھی خلیج بنگال تھی۔ یہ طوفان ۲۵؍ نومبر ۱۸۳۹ء کو آندھرا پردیش کے کورنگا علاقے میں آیا تھا جس کی وجہ سے یہاں کا ساحلی علاقہ بری طرح متاثر ہوا تھا۔ طوفانی ہواؤں نے اس شہر کو بری طرح اجاڑ دیا تھا اور کئی جہاز اور کشتیاں برباد ہوگئی تھیں ۔ اس وقت ہوا کی پیمائش کرنے والا کوئی آلہ نہیں تھا۔ تاہم، طوفانی ہواؤں سے سمدنر کی لہریں ۴۰؍ فٹ اوپر اٹھ رہی تھیں ۔ اس میں بھی ۳؍ لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔ اس شہر میں ۵۰؍ سال قبل بھی زبردست طوفان آیا تھا جس میں ۲۰؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس وقت کورنگا سنبھل گیا تھا لیکن ۱۸۳۹ء والے طوفان کے بعد کورنگا معاشی طور پر سنبھل نہیں سکا۔ کسی زمانے میں یہ ملک کی ایک مشہور اور اہم بندرگاہ تھی مگر آج یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ 
بیکر گنج طوفان
گریٹ بیکر گنج طوفان ۲۹؍ اکتوبر ۱۸۷۶ء کو آیا تھا جس کا زور یکم نومبر تک تھا۔ یہ طوفان بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے بیکر گنج میں آیا تھا۔خلیج بنگال میں آنے والے اس طوفان میں ۲؍ لاکھ افراد کی موت ہوئی تھی۔ نصف سے زائد افراد اس طوفان کے سبب ڈوب گئے تھے۔اس وقت ہوا کی شدت ۲۲۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس سے قبل، ۱۵۸۴ء میں بھی اسی علاقے میں زبردست طوفان آیا تھا جس میں ۲؍ لاکھ افراد ہلا ہوئے تھے۔ یہ طوفان ۳۰؍ اکتوبر کو بننا شروع ہوا تھا اور چند دنوں ہی میں اس میں شدت آگئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK