ایتھنز کے سنہری دور کو پیری کلیز سے موسوم کیا جاتا ہے

Updated: February 07, 2020, 2:58 PM IST

پیری کلیزقدیم یونان کا ایک مشہور سیاستداں تھا۔ اس کا تعلق وہاں کی ڈیموکریٹک پار ٹی سے تھا۔ یونان کی تاریخ میں یہ اتنا مشہور ہے کہ بیشتر مؤرخین اسے ’ایتھنز کا پہلا شہری‘ کہتے ہیں۔ پیری کلیز ۴۹۵؍ قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا جبکہ ۴۲۹؍ قبل مسیح میں اس کی موت ہوئی تھی۔ ۴۶۰؍ قبل مسیح تک اس نے ایتھنز کی شہری ریاست پر حکمرانی کی تھی۔

ایتھنز کے سنہری دور کو پیری کلیز سے موسوم کیا جاتا ہے
پیری کلیز۔

پیری کلیزقدیم یونان کا ایک مشہور سیاستداں تھا۔ اس کا تعلق وہاں کی ڈیموکریٹک پار ٹی سے تھا۔ یونان کی تاریخ میں یہ اتنا مشہور ہے کہ بیشتر مؤرخین اسے ’ایتھنز کا پہلا شہری‘ کہتے ہیں۔ پیری کلیز ۴۹۵؍ قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا جبکہ ۴۲۹؍ قبل مسیح میں اس کی موت ہوئی تھی۔ ۴۶۰؍ قبل مسیح تک اس نے ایتھنز کی شہری ریاست پر حکمرانی کی تھی۔ ایتھنز کو اسپارٹا کے خلاف فوجی اعتبار سے مضبوط کرنے کے ساتھ شہر کو مختلف علوم کا مرکز اور دنیا کا حسین ترین شہر بنانے کی کوشش کی۔ اس نے کئی عمارتیں تعمیر کروائیں۔ اس وقت اُس کے دربار میں دنیا کے بڑے بڑے عالم و فاضل موجود تھے۔ 
 اس کی ایک تقریر بہت مشہور ہے جس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے
 آج میرے پاس شہدا کے والدین کیلئے تعزیت کے بجائے تسلی اور دلاسے کے الفاظ ہیں۔ زندگی کی اونچ نیچ میں لاتعداد لمحے آتے ہیں جو انسان کی دنیا بدل سکتے ہیں لیکن ان کی اولاد کے حصے میں شہادت کا وہ جام آیا ہے جوکسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ مجھے مرنے والوں کے بیٹوں اور بھائیوں کا مستقبل مشکل نظر آتا ہے کیونکہ ان کی باقی زندگی اپنے عزیز شہید بھائیوں اور والد کی عظمت اور شہرت کے درجے کے برابر پہنچنے اور اسے داغ نہ لگنے کی کوشش میں گزرے گی۔
 اس کے دورحکومت میں شہر کا نظام تعلیم بہت مستحکم تھا۔ ایتھنز کے بچے کم عمری ہی میں پڑھائی لکھائی کرتے تھے۔ اسکولوں میں انہیں جنگ و جدل اورجراُت پسندی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچوں کو اپنا کریئر منتخب کرنے کی پوری آزادی تھی۔ پیری کلیز کا ماننا تھا کہ جب بچے بلا خوف وخطر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں ایک بہادر سپاہی پیدا ہوتا ہے جو اُنہیں ہر مصیبت کا مقابلہ کرنا سکھاتا ہے۔ 
 اس کے دور میں ایتھنز کی معیشت مستحکم تھی۔ یہاں کی سبزیاں اور پھل ہمسایہ ممالک کو برآمد کئے جاتے تھے جہاں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ ایتھنز میں اس وقت کئی اسکولیں تھیں جہاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے لوگ آتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پیری کلیز کہتا کہ ایتھنز نہ صرف یونان بلکہ پوری دنیا کا مدرسہ ہے۔ اپنے دور حکومت میں اس نے فنون لطیفہ کی بہت خدمت کی۔ وہ ان دونوں شعبوں سے منسلک لوگوں کا بہت احترام کرتا تھا اور انہیں اپنے دربار میں جگہ دیتا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ پیری کلیز کی جدوجہد کے سبب ہی ایتھنز شہر یونان اور دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔اس نے اپنے دور میں کئی تاریخی عمارتوں کی از سر نو تعمیر کروائی تھی۔ اس تزئین کاری سے ایتھنز ایک خوبصورت شہر میں تبدیل ہوگیا تھا۔

بشکریہ: وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK