EPAPER
Updated: April 08, 2023, 11:36 AM IST | Mayal Khairabadi | Mumbai
جِنوں کا بادشاہ انسان کی تعریف کرتا ہے، یہ بات جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی کو بری لگتی ہے۔ وہ دونوں بادشاہ کو کہتے ہیں کہ جنوں کا انسانوں سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ان کی باتیں سن کر بادشاہ انہیں انسان سے مقابلہ کرنے کا موقع دیتا ہے اور
جِنوں کے بادشاہ نے جنوں کے سامنے انسان کی تعریف کی تو سب سے زیادہ جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی کو برا لگا۔ وہ اپنی اپنی جگہ بڑبڑانے لگے، ’’واہ ذرا سا انسان، ہم جب چاہیں اُسے مٹھی میں دبا کر مار ڈالیں۔ ہم آگ سے بنے ہیں اور انسان مٹی سے بنایا گیا ہے ہم میں وہ طاقت ہے کہ ہم پہاڑ اٹھا لیں۔ ہمارے سامنے آدمی ایسا ہے جیسے پہاڑ کے سامنے چیونٹی، واہ یہ بھی خوب رہی کہ بادشاہ سلامت انسان کو ہم سے بڑھ کر بتاتے ہیں۔ ہم میں تو یہ طاقت ہے کہ ہم شیر بن کر آدمی کو ڈرا دیں۔ ہم میں یہ طاقت ہے کہ ہم آدمی کے جسم میں گھس کر بیماریاں پیدا کر دیں، ہم یہ بھی تو کرسکتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنا دیں۔ بھلا یہ انسان ہم سے بڑھ کر کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی کی بڑبڑاہٹ بادشاہ نے بھی سنی۔ وہ دونوں کو سمجھانے لگے کہ خبردار آدمی کا مقابلہ نہ کرنا۔ آدمی کو اللہ نے سب سے زیادہ سمجھ دی ہے۔ اللہ نے اسے قرآن عطا فرمایا ہے۔ قرآن میں ایسی ایسی دعائیں ہیں کہ وہ ان سے بڑے بڑے کام نکالتا ہے اور جب وہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے دیکھو، آدمی دیکھنے ہی میں چھوٹا ہے مگر سمجھ لو وہ علم اور عقل کا پتلا ہے تم اس سے کبھی نہیں جیت سکتے!‘‘
’’واہ، کیسے نہیں جیت سکتے....‘‘ جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی نے بادشاہ کو جواب دیا، ’’آپ کہئے تو ہم اس کی مفت نوکری کرکے ناک میں اس کا دم کر دیں۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘ جنوں کے بادشاہ کو دونوں کی گھمنڈ بھری باتیں پسند نہیں آئیں۔
اس نے کہا، ’’اچھا جاؤ ایک آدمی کو اٹھا لاؤ۔‘‘ جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی آن کی آن میں ایک آدمی کو اٹھا لائے اور بادشاہ کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا۔ بادشاہ نے جنوں کو حکم دیا کہ سب لوگ آدمی کی شکل بن جاؤ ویسے تو آدمی ہمیں دیکھ نہیں سکتا۔ اس کے بعد تمہارا اور اس کا مقابلہ ہوگا۔ بادشاہ کے حکم سے سارے جن آدمی کی شکل میں آگئے اور اب آدمی نے دیکھا کہ وہ ایک دربار میں ہے اور سامنے بادشاہ بیٹھا ہے۔ اور آس پاس بڑے ڈیل ڈول کے لوگ بیٹھے ہیں۔ آدمی ڈرا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیسے آگیا اور کیوں لایا گیا ہے؟ اس نے بادشاہ کو سلام کیا۔ بادشاہ نے اس سے کہا، ’’دیکھو، ہم سب جنات ہیں تم ہمیں ویسے تو دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے ہم سب آدمی کی شکل میں تمہارے سامنے آگئے۔ ادھر دیکھو، وہ دو جن تم کو اٹھا لائے ہیں۔ وہ تمہاری نوکری مفت کریں گے تم کو یہیں ایک مکان رہنے کو دیا جائے گا۔ اگر تم نے ان سے نوکری کرا لی تو تم کو انعام دے کر واپس کر دیا جائے گا نہیں تو دونوں جن تم کو کھا جائیں گے۔‘‘
بے چارہ آدمی پریشان ہوا پھر سوچنے لگا کہ یہ کیا بات ہے۔ جن میری نوکری کریں گے اور مفت میں۔ اس نے سوچ کر بادشاہ سے کہا ’’جو آپ کی مرضی ہو مگر شرط یہ ہے کہ دونوں میرا کہنا نہیں ٹالیں گے۔‘‘
بادشاہ نے کہا، ’’ہاں! یہ دونوں وہی کریں گے جو تم کہو گے۔‘‘
لو بھئی یہ بات طے ہوگئی۔ بادشاہ نے رہنے کے لئے آدمی کو ایک مکان دے دیا۔
آدمی جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی کے ساتھ مکان میں گیا دونوں کو حکم دیا، ’’مکان صاف کر دیا۔‘‘ پھر حکم دیا، ’’کمرے سجاؤ۔‘‘ جنوں نے منٹ بھر میں کمرے سجا دیئے پلنگ، کرسی میز اور ہر طرح کا سامان لیس کر دیا اور آکر بولے، ’’اب کیا حکم ہے؟‘‘
آدمی نے کہا، ’’اب جاؤ، کھانا لاؤ۔‘‘ جنوں نے منٹ بھر میں طرح طرح کا کھانا حاضر کر دیا۔ آدمی کھانا کھانے لگا اور جن بولے، ’’اب کیا حکم ہے، ہم سے کام لو۔‘‘ اب تو آدمی سوچنے لگا کہ ان سے کیا کام لے۔ اس نے حکم دیا، ’’جاؤ کشمیر سے سیب لے آؤ۔‘‘ دونوں نے منٹ بھر میں کشمیر کے سبب لا کر حاضر کئے اور بولے، ’’اب کیا حکم ہے ہم سے کام لو۔‘‘ آدمی نے پھر سوچ کر کہا، ’’اچھا اب جاؤ امریکہ سے دودھ کا ڈبہ لے آؤ۔‘‘ یہ کہہ کر آدمی نے لقمہ منہ میں ڈالا، ابھی لقمہ چبا کر نگلا نہیں تھا کہ دونوں امریکہ سے دودھ کا ڈبہ لے آئے اور بولے، ’’کیا حکم ہے ہم سے کام لو۔‘‘
اب تو آدمی پریشان ہونے لگا۔ دل میں سوچا کہ اتنی جلدی یہ کام کریں گے تو ناک میں دم کر دیں گے مگر کام تو لینا ہی تھا، اس نے کچھ سوچ کر کہا، ’’اب جاؤ مکّہ سے زم زم کا پانی لے آؤ۔‘‘ دونوں جن منٹ بھر میں زم زم کا پانی لے آئے اور پھر ’’کام‘‘ کی رٹ لگا دی آدمی سوچنے لگا۔ اب معلوم ہوا کہ مجھے مشکل میں پھنسا دیا گیا ہے۔ جیسے تیسے دن بھر تو وہ کام بتاتا رہا۔ رات کو سونے چلا تو جنوں نے کہا، ’’کام بتایئے۔‘‘ آدمی نے کہا، ’’اب تو مَیں سونے جا رہا ہوں، اب کام کیسا؟‘‘
جنوں نے کہا، ’’یہ ہم کچھ نہیں جانتے، کام بتاؤ۔‘‘ اب تو آدمی ان سے پیچھا چھڑانے کی ترکیب سوچنے لگا۔
آدمی سوچتے سوچتے اکتا گیا تو اس نے خدا سے دعا کی کہ ’’اے اللہ! ان سے پیچھا چھڑا....‘‘ دعا کے بعد اس نے ’’قل اعوذ برب الناس‘‘ پڑھی، اپنے اوپر دم کیا جیسے ہی اس نے دم کیا ایک ترکیب اس کی سمجھ میں آئی۔ اس نے جھن جھن جنی سے کہا، ’’تم جا کر چالیس پچاس گز کا ایک بانس لے آؤ۔‘‘ گھن گھن جنی سے کہا، ’’تم جا کر ایک کتّا لے آؤ۔‘‘ دونوں جن منٹ بھر میں لے آئے اور بولے ، ’’کام بتاؤ۔‘‘ آدمی نے جھن جھن جنی کو حکم دیا کہ یہ بانس گاڑ دو اور اس پر چڑھو اترو جب تک مَیں دوسرا حکم نہ دوں یہی کام کرتے رہو۔‘‘ گھن گھن جنی کو حکم دیا کہ ’’تم اس کتّے کی دُم سیدھی کرو۔ جب دُم سیدھی ہو جائے تو مجھے دکھاؤ۔‘‘
دونوں جن اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔ جھن جھن جنی نے بانس گاڑا اور اس پر چڑھنے اترنے لگا۔ گھن گھن جنی کتّے کی دُم سیدھی کرنے لگا۔ وہ دُم پکڑ کر کھینچتا تو کتّا بھونک کر کاٹنے دوڑتا گھن گھن جنی دُم چھوڑ دیتا تو کتّا کبھی دُم نیچے کرکے پچھلی ٹانگوں کے بیچ میں لے جاتا اور کبھی اوپر اٹھا دیتا۔
آدمی یہ دیکھ کر مسکرایا۔ اب وہ چین سے پڑ کر سونے لگا۔ جھن جھن جنی رات بھر بانس پر اترتا چڑھتا رہا۔ وہ چڑھتے اترتے تھک گیا۔ گھن گھن جنی بار بار کتّے کی دم سیدھی کرتا لیکن جب چھوڑتا دُم ٹیڑھی ہی رہتی۔ صبح کو جب آدمی جاگا تو اس نے دیکھا کہ جھن جھن جنی بانس پر بہت سستی سے چڑھ اتر رہا ہے اور گھن گھن جنی کتّے کی دُم سیدھی نہ کرسکا۔ وہ دونوں پر بہت خفا ہوا۔ سڑاک سڑاک دس بیس بید لگائے اس کے بعد پانی کھانا اور دوسری چیزیں مانگیں۔ دونوں نے ضرورت کی سب چیزیں حاضر کر دیں اور چاہا کہ ذرا سستا لیں کہ آدمی نے حکم دیا ’’ہاں! پھر اپنے کام پر لگ جاؤ۔‘‘ جھن جھن جنی پھر بانس پر چڑھنے اترنے لگا اور گھن گھن جنی کتّے کی دُم سیدھی کرنے لگا۔
آدمی کھا پی کر کپڑے پہن رہا تھا کہ جنوں کے بادشاہ کے دربار میں جائے اتنے میں جنوں کے بادشاہ اپنے وزیروں اور درباریوں کے ساتھ خود اس کے گھر آگیا۔ جھن جھن جنی کو دیکھا وہ چڑھتے اترتے بے دَم ہو رہا تھا پسینے میں شرابور، اور گھن گھن جنی کی دُم سیدھی کرنے میں جھنجھلایا ہوا تھا۔
بادشاہ نے دونوں کی خیریت پوچھی، دونوں نے کہا، ’’حضور! آپ ٹھیک کہتے تھے ہم پھر پائے۔ یہ آدمی سچ مچ علم اور عقل کا پتلا ہے۔ پہلے تو ہم نے اسے پریشان کر دیا، اس کا سونا دوبھر کر دیا لیکن پھر اس نے کچھ پڑھا، اپنے اوپر دَم کیا تو جھٹ یہ حکم دیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ سچ مچ آپ سچ کہتے تھے۔ اللہ نے آدمی کو سب سے بڑھ کر بنایا اور اسے عقل سب سے زیادہ دی اب خدا کے واسطے اس سے ہمارا پیچھا چھڑایئے نہیں تو ہم دونوں اس کا حکم مانتے مانتے مر ہی جائینگے۔‘‘
بادشاہ ہنسا۔ اس نے آدمی سے کہا، ’’بھائی! تم جیت گئے۔ ان دونوں نے اپنے گھمنڈ کی سزا پائی۔ اچھا، اب تم کو تمہارے گھر بھیج دیا جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر بادشاہ نے آدمی کو بہت کچھ انعام دیا اور جھن جھن جنی اور گھن گھن جنی کو حکم دیا کہ اس آدمی کو جہاں سے لائے ہو وہیں واپس کر آؤ۔‘‘
دونوں جنوں نے بادشاہ کے حکم کو سنا۔ اطمینان کا سانس لیا۔ منٹ بھر میں آدمی کو سامان کے ساتھ اس کے گھر چھوڑ آئے۔ پھر کبھی انہوں نے آدمی سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کی۔ ہمت کرنا تو الگ رہا وہ تو اپنی قوم کے لوگوں کو نصیحت کرتے تھے کہ بھائی! انسان کو اللہ نے سب سے بڑھ کر بنایا ہے اس سے کبھی نہ بھڑنا۔