چار مسلم نوجوانوں کی حالیہ کامیابی کہتی ہے کہ ایم پی ایس سی ممکن ہے

Updated: June 26, 2020, 7:46 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ہندوستان میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے حصول کیلئے ۲؍ سول سروسیز امتحانات، ایم پی ایس سی (مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن) اور یو پی ایس سی (یونین پبلک سروس کمیشن)منعقد کئے جاتے ہیں ۔ ان امتحانات میں شرکت کرنے والے مسلم امیدواروں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، اسی لئے کامیاب ہونے والے مسلم طلبہ کا فیصد بھی کم ہوتا ہے۔ اس پر ہمیں اکثر افسوس ہوتا ہے جبکہ افسوس مسلم طلبہ کے کم تعداد میں امتحان میں شریک ہونے پر ہونا چاہئے۔ بہت سے طلبہ یہ سوچ کر ان امتحانات میں شرکت نہیں کرتے کہ یہ بہت مشکل ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے حصول کیلئے ۲؍ سول سروسیز امتحانات، ایم پی ایس سی (مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن) اور یو پی ایس سی (یونین پبلک سروس کمیشن)منعقد کئے جاتے ہیں ۔ ان امتحانات میں شرکت کرنے والے مسلم امیدواروں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، اسی لئے کامیاب ہونے والے مسلم طلبہ کا فیصد بھی کم ہوتا ہے۔ اس پر ہمیں اکثر افسوس ہوتا ہے جبکہ افسوس مسلم طلبہ کے کم تعداد میں امتحان میں شریک ہونے پر ہونا چاہئے۔ بہت سے طلبہ یہ سوچ کر ان امتحانات میں شرکت نہیں کرتے کہ یہ بہت مشکل ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ محنت اور لگن سے کسی بھی امتحان میں کامیابی حاصل کرنا آسان ہوتا ہے، ایم پی ایس سی اور یو پی ایس سی کا بھی یہی حال ہے۔ بہت سے طلبہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پرائیویٹ جابس، سرکاری ملازمتوں سے زیادہ پرکشش ہوتی ہیں ۔ یہ کسی حد تک درست بھی ہے مگر اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں شہرت، عزت، اچھی تنخواہ اور سب سے اہم یہ کہ قوم و ملت کی خدمت کرنے کا موقع ملتا ہے جو کسی پرائیویٹ سیکٹر میں ملنا بہت مشکل ہے۔۱۹؍ جون ۲۰۲۰ء کو ایم پی ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوا جس میں صرف ۴؍ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ جانئے ایم پی ایس سی امتحانات اور اعلیٰ سرکاری ملازمت کی بابت یہ کیا کہتے ہیں ۔

وسیمہ شیخ
ڈپٹی کلکٹربنی ہیں ۔
 وسیمہ شیخ نے ناندیڑ کے جوشی ساکھ وی گاؤں سے اپنا تعلیمی سفر شروع کیا تھا۔ مراٹھی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والی وسیمہ نے دسویں میں ۸۲؍ فیصد اور بارہویں (آ رٹس) میں ۸۳؍ فیصد مارکس حاصل کئے تھے۔وسیمہ نے یشونت راؤ چوان اوپن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انہوں نے۲۰۱۶ء سے اسٹیٹ سروس کی تیاری شروع کردی۔ وسیمہ نے ایم پی ایس سی کی تیاری گھر بیٹھ کر کی۔ اس کیلئے انہوں نے کوئی کوچنگ کلاس نہیں جوائن کی تھی۔ تاہم، وہ مختلف کلاسیز میں ماک انٹرویوز دیتی تھیں ۔ وسیمہ کہتی ہیں کہ تعلیم کسی کی میراث نہیں ہے، آپ امیر ہیں یا غریب یہ معنی نہیں رکھتا، آپ نے اپنی زندگی کامقصد کیا طے کیا ہے؟ یہ اہم ہے۔ آپ کا مستقبل کا منصوبہ، آپ کی محنت، مستقل مزاجی، بر وقت صحیح فیصلہ، ہمت، قوتِ ارادی، صحیح سمت میں محنت یہ تمام چیزیں آپ کی کامیابی کا سفر طے کرتی ہیں ۔ 
جو طلبہ سول سروسیز کا امتحان دینا چاہتے ہیں انہیں جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔ یہ ایک صبر آزما امتحان ہے۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کی حوصلے افزائی کرنی چاہئے۔ کبھی کبھی اس امتحان میں کامیابی پانے کیلئے ۵؍ تا ۷؍ سال لگ جاتے ہیں ۔ مطالعہ اور مستقل مزاجی کی عادت کو شروع سے اپنائیں ، ان شاء اللہ کامیابی ضرور ملےگی۔

سیدہ اسماء
اسسٹنٹ کمشنر آف اسٹیٹ ٹیکس مقرر کی گئی ہیں ۔
 سیدہ اسماء کا تعلق ناندیڑ سے ہے۔ انہوں نےابتدائی تعلیم یہاں کے صفاء مروہ اردو اسکول اور خیر العلوم اردوہائی اسکول سے مکمل کی۔ دسویں میں انہوں نے ۱۰۰؍ فیصد سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اسماء نے یشونت راؤ چوان کالج سے بارہویں (آرٹس) مکمل کیا جس میں انہیں ۸۵؍ فیصد مارکس ملے تھے۔ انہوں نے ۲۰۱۵ء میں گریجویشن مکمل کیا تھا۔ اسماء نے ایس ایس سی تک کی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ اردو میڈیم کی طالبہ ہونے کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے میں کوئی مشکل پیش آئی ہو ۔ طلبہ ہائی اسکول کے ابتدائی دنوں ہی میں اپنے مقصد کا تعین کرلیں تاکہ دسویں کے امتحان کے بعد وہ تذبذب کا شکار نہ ہوں ۔ 
مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت، ایک محنت طلب کام ہے جن طلبہ کے اندر قوم کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ ہے وہ اس میں  ضرور شریک ہوں ۔ کامیابی کے بعد اچھی تنخواہ، عزت اور شہرت بھی ہےلیکن تیاری کیلئے مستقل مزاجی اور صبر بھی درکار ہے۔ اس امتحان کی تیاری میں یکسوئی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہے ۔ کامیابی کیلئے کبھی کبھی وقت لگتا ہے اسلئے ایک مرتبہ ناکام ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھنے کی بجائے مسلسل محنت کرتے رہنا چاہئے۔ ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہے۔

باگوان ثمینہ
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف اسٹیٹ ایکسائز کی حیثیت سے مامور ہوں گی۔
 شولاپور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھنڈار کووٹھے سے تعلق رکھنے والی باگوان ثمینہ بانو عبدالرزاق نے ایم پی ایس سی میں کامیابی پانے کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف اسٹیٹ  ایکسائز کا عہدہ حاصل کیا ہے۔ ثمینہ نے ابتدائی تعلیم (اول تا ششم) ضلع پریشد مراٹھی اسکول سے حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ہفتم سے دہم جماعت تک کی تعلیم منگل ویڈھا پرائیوٹ ایڈیڈ انگلش اسکول سے حاصل کی۔ ثمینہ میڈیکل فیلڈ میں کریئر بنانے کی متمنی تھیں مگر انٹرنس امتحان میں چند نمبر کم آنے کی وجہ سے ان کا داخلہ ایم بی بی ایس میں نہیں ہوسکا۔ وہ دوبارہ یہ امتحان نہیں دینا چاہتی تھیں ۔ انہیں ایم پی ایس سی امتحان میں شرکت کرنی تھی چنانچہ انہوں نے اس کی تیاری شروع کردی۔ اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے وہ ایک اسپتال میں ملازمت کرتی تھیں ۔
میں  طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہوں  گی کہ اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں شہرت، عزت، شناخت، تنخواہ اور سب سے بڑھ کر قوم و ملت کی خدمت کا موقع ملتا ہے۔ آپ گھر بیٹھ کر اور کوئی کو چنگ سینٹر جوائن کر کے بھی اس کی تیاری کر سکتے ہیں ۔ یہ محنت طلب ضرور ہے مگر یکسوئی اور مستقل مزاجی سے کامیابی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ وہ کامیابی کوئی معنی نہیں رکھتی جو آسانی سے مل جائے۔

 فیاض شیخ
فیاض کو سیکشن آفیسربننے کا موقع ملا ہے۔
  ناندیڑ ضلع کی تحصیل دیگلور سے تعلق رکھنے والے فیاض شیخ نے اول تا ہفتم کی تعلیم انوجا بھوسلے مراٹھی میڈیم اسکول، ورنگل اور ہشتم تا دہم کی تعلیم سادھنا ہائی اسکول، دیگلور سے حاصل کی ہے۔ ایس ایس سی اور ایچ ایس سی میں بالترتیب ۷۹؍ فیصد اور۸۴؍ فیصد مارکس حاصل کرکے انہوں نے بابا صاحب امبیڈکر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی، رائے گڑھ سے انجینئرنگ کی ہے۔ فیاض کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کو منفی رویہ سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ محنت کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ مجھے کبھی نہیں  لگا کہ کسی بھی قسم کا تعصب یا ناانصافی میرے ساتھ ہوئی ہو۔ قابلیت اور صلاحیت اپنا لوہا منواتی ہے۔
مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں سخت محنت درکار ہے۔ مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل محنت ان امتحانات میں کامیابی کی ضامن ہے۔ طلبہ کو یادرکھنا چاہئے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے وقت یہ ممکن نہیں کہ چار دن پڑھائی اور تین دن آرام ہو بلکہ ساتوں دن منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ پڑھائی کی ضرورت ہے ۔ گہرائی سے مطالعہ کرنا، حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنا ، معروف و مستند رائٹرز کے آرٹیکل پڑھنا اور ان کا تجزیہ کرنا، یہ سارے مشاغل سول سروسیز کی کامیابی کی سیڑھی ہیں ۔

ایم پی ایس سی کیسے کرتے ہیں ؟ 
ایم پی ایس سی کیلئے اپلی کیشن آن لائن بھرنا ہوتا ہے۔ یہ فارم ایم پی ایس سی کی آفیشیل ویب سائٹ پر دستیاب ہوتا ہے۔
 امیدوار کی عمر کی حد ۱۸؍ تا ۳۸؍ سال ہونی چاہئے ۔
امیدوار کا کسی بھی فیلڈ میں گریجویشن مکمل کرنا لازمی ہے۔
ایم پی ایس سی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے امیدوار کو ۳؍ مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے: پریلیمس، مینس اور انٹرویو۔
پریلیمس میں ۲؍ پرچے ہوتے ہیں جن میں ’’آبجیکٹیو‘‘ ٹائپ سوالات پوچھے جاتے ہیں ۔ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد امیدوار ’’مینس‘‘ کیلئے کوالیفائی کرتا ہے۔
مینس کے پرچے میں ’’ڈسکریپٹیو‘‘ ٹائپ کے سوالات ہوتے ہیں ۔
مینس میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو پرسنل انٹرویو کیلئے بلایا جاتا ہے۔ 
 ہر مرحلہ کے نتائج ایم پی ایس سی کی ویب سائٹ پر جاری کئے جاتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK