ہمار ے ماحول کی حفاظت کیلئے کوشاں ۸؍ کیپٹن پلانیٹ

Updated: December 04, 2020, 7:13 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

حقیقی زندگی میں یہ ۸؍ ہندوستانی ہمارے لئے کسی ’’سپر ہیرو‘‘ سے کم نہیں ہیں ۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں ، اور کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔ ملئے اپنی محنت سے عالمی سطح پر شہرت پانے والے اِن ۸؍ افراد سے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ستیش کمار
 ستیش ایک میکانیکل انجینئر اور پروفیسر ہیں جنہوں نے پلاسٹک کے کوڑے سے ایندھن بنایا ہے۔ ۴۵؍ سالہ ستیش کا تعلق حیدر آباد سے ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نیز پلاسٹک کے کوڑے میں اضافے کے سبب انہیں ایندھن بنانے کا خیال آیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک چھوٹی فیکٹری کی بنیاد رکھی جو ایم ایس ایم ایز کے زمرے میں رجسٹرڈ ہے۔ آج ان کی فیکٹری کا بنایا ہوا ایندھن مقامی صنعتوں کو ۴۰؍ روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جاتا ہے جو سستا بھی ہے اور کارآمد بھی۔ پلاسٹک کے کوڑےکو ۳؍ مرحلے میں ایندھن بنایا جاتا ہے اور اس عمل کو ’’پلاسٹک پائرولیسس ‘‘ کہتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں پانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ستیش کمار کے مطابق ۲۰۱۶ء سے اب تک انہوں نے ۵۰؍ ٹن پلاسٹک کے کوڑے سے ایندھن بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فیکٹری میں روزانہ ۲۰۰؍ کلوگرام پلاسٹک کے کوڑے سے ۲۰۰؍ لیٹر پیٹرول بنایا جاتا ہے۔تاہم، گاڑیوں کیلئے یہ ایندھن کتنا فائدہ مند ہے اس پر ابھی تحقیق باقی ہے۔
افروز شاہ
 ممبئی سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکیل افروز شاہ نے ساحل صاف کرنے کا سب سے بڑا پروجیکٹ برسوں پہلے شروع کیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۶ء میں وہ ورسوا کے ساحل کو پوری طرح سے صاف کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کیلئے انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے ’’چمپئن آف دی ارتھ‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ صفائی کی ان کی یہ مہم ایک تحریک میں تبدیل ہوگئی تھی اور لوگوں نے اپنے اطراف کو صاف ستھرا کرنا شروع کردیا تھا۔ ورسوا کے ساحل کو صاف کرنے میں انہیں ۸۵؍ ہفتے لگے تھے جبکہ اس دوران انہوں ۲ء۵؍ کلومیٹر لمبے ساحل سے ۴؍ ہزار ٹن کوڑا صاف کیا تھا۔ افروز کہتے ہیں کہ ’’ساحل کو صاف کرنے کا کام میں نے اپنے ۸۴؍ سالہ پڑوسی ہر بنش ماتھر کے ساتھ شروع کیا تھا۔ ابتدائی ۸؍ ہفتوں میں ہماری مدد کیلئے کوئی آگے نہیں آیا تھا لیکن پھر لوگ اس مہم سے جڑنے لگے۔‘‘ صفائی مہم کیلئے رضا کاروں کو جمع کرنے کی غرض سے افروز نے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا تھا جس کی وجہ سے ۷۰؍ ہزار سے زائد افراد اس مہم سے وابستہ ہوگئے تھے۔
انوراگ مینااور ستیندر مینا
 آئی آئی ٹی بامبے کے طلبہ ستیندر (نیلی ٹی شرٹ) اور انوراگ (سفید شرٹ) نے پینے کے پانی کی ایک صفائی مشین بنائی ہے جس میں پلاسٹک کا کوڑا یا کین ڈال کر ۳۰۰؍ ملی لیٹر پانی نکالا جاسکتا ہے۔ چنڈی گڑھ کی کی ٹریسٹر کمپنی نے اس مشین کی مارکیٹنگ بھی شروع کردی ہے۔ انوراگ اور ستیندر نے اس مشین کو ’’سوچھ مشین‘‘ کا نام دیا ہے، اور یہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہ مشین صرف ۹۵؍ دنوں میں تیار کی گئی تھی۔ اسے ملک کے متعدد عوامی مقامات پر نصب کیا جائے گا تاکہ ان جگہوں پر آنے والے افراد پلاسٹک کا کوڑا یا کین اس میں ڈال کر صاف پانی پی سکیں ۔ ستیندر اور انوراگ کا کہنا ہے کہ اس مشین کو آئی آئی ٹی بامبے میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر نصب کرنے کے بعد روزانہ ۱۰؍ کلوگرام تک پلاسٹک کے کوڑے میں کمی آئی تھی۔ اس مشین میں کم از کم ایک لیٹر تک کی پلاسٹک کی بوتل یا ایلومینیم کا کین ڈالا جاسکتا ہے۔ اس مشین کو بنانے کا خرچ ۵۰؍ ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
راجا گوپالن واسو دیون
انہوں نے پلاسٹک کے کوڑے سے سڑک بنانے کی تکنیک ایجاد کی ہے۔ مدورائی کے ۷۵؍ سالہ ریٹائرڈ کیمسٹری پروفیسر کو ’’پلاسٹک مین آف انڈیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں ۲۰۱۸ء میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے یہ تکنیک ۲۰۰۲ء میں ایجاد کی تھی۔۲۰۰۶ء میں انہوں نے اسے پیٹنٹ کروالیا تھا۔ متعدد ممالک سے پیشکش ملنے کے باوجود انہوں نے اپنی تکنیک کے متعلق ہندوستانی حکومت کو مفت بتایا۔ تب سے لے کر اب تک ان کی تکنیک کی مدد سے ملک کی ۱۱؍ ریاستوں میں ایک لاکھ کلومیٹر سے زائد سڑکیں بنائی جاچکی ہیں ۔
انجلینا اروڑہ
 ہندوستانی نژاد آسٹریلوی طالبہ نے جھینگے کے خول کو پلاسٹک میں تبدیل کرنے کی تکنیک ۱۵؍ سال کی عمر میں ایجاد کی تھی۔ یہ پلاسٹک ماحول دوست ہے۔ مچھلیوں کی ایک دکان پر جھینگوں کے ہزاروں خول دیکھنےکے بعد وہ انہیں جمع کرکے اسکول لیباریٹری میں لے گئیں اور وہیں انہوں نے اسے پلاسٹک میں تبدیل کرنے کی تکنیک ایجاد کی۔ یہ پلاسٹک ۳۳؍ دنوں میں مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ مئی ۲۰۱۹ء میں انہیں ٹیڈ ایکس یوتھ میں مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں اب تک متعدد اعزازا ت سے نوازا جاچکا ہے، اور انہوں نے اپنی تکنیک کو پیٹنٹ بھی کروا لیا ہے۔
نارائن پیسا پتی
انہوں نے پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کیلئے ’’ایڈیبل کٹلری‘‘ (ایسے چمچے، چھری اور کانٹے جن کی مدد سے کھانا کھانے کے بعد انہیں بھی کھایا جا سکتا ہے) ایجاد کی ہے۔یہ کٹلری جوار، چاول اور گیہوں کے آٹے سے بنائی جاتی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ۳؍ فلیور (میٹھا، تیکھا اور سادہ) میں بنایا جاتا ہے۔ نارائن پیساپتی نے یہ کٹلری ۲۰۱۰ء میں بنائی تھیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ کٹلری آٹے سے بنائی جاتی ہیں اس لئے ان کے ذریعے کم از کم ۱۰؍ منٹ تک ہی کھانا کھایاجاسکتا ہے، پھر وہ پگھلنے لگتی ہیں ۔ البتہ پلاسٹک کا استعمال کم کرنے کیلئے یہ ایک بہتر متبادل ہے۔
سنت بلبیر سنگھ سیچاول
انہوں نےپنجاب کے ختم ہوتے ہوئے دریائے بیاس کو بچایا ہے۔ ۲۰۰۰ء میں انہوں نے تنہا پنجاب کے دریا کالی بیئیں کو ختم ہونے سے بچایا تھا۔ انہیں ’’ایکو بابا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ان کی مہم سے اب سیکڑوں رضاکار وابستہ ہیں ۔ ۵۸؍ سالہ بلبیر سنگھ کو ۲۰۱۷ء میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے پنجاب کے متعدد دریا کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ٹائم میگزین نے انہیں ’’ہیرو آف اینوائرونمنٹ‘‘ کے اعزاز سے نوازا تھا۔ ان کی ٹیم دریا صاف کرنے کے علاوہ ان کےکناروں کو خوبصورت بنانے کا کام بھی کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK