تھامس ایڈورڈ لارنس کو ’’لارنس آف عربیہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے

Updated: June 26, 2020, 7:52 PM IST | Mumbai

کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس ۱۶؍ اگست ۱۸۸۸ء کو ویلز میں پیدا ہوا تھا۔ اسے ’’ٹی ای لارنس‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ برطانوی فوج کا ایک معروف افسر تھا جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس ۱۶؍ اگست ۱۸۸۸ء کو ویلز میں پیدا ہوا تھا۔ اسے ’’ٹی ای لارنس‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ برطانوی فوج کا ایک معروف افسر تھا جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ سے نکل گئے تھے۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کیلئے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث اسے لارنس آف عربیہ کہتے ہیں ۔ تاہم، ۱۹۶۲ء میں ’’لارنس آف عربیہ‘‘ نامی فلم ریلیز ہونے کے باعث یہ خطاب عالمی شہرت اختیار کر گیا۔۱۹۱۵ء میں جب ترکوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے اور مارچ ۱۹۱۶ء میں دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کے ۱۰؍ ہزار سپاہیوں کو عبرتناک شکست دی تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ ان کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔اس کے بعد لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے ’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔ 
 لارنس ماہر آثار قدیمہ، مصنف اور سفیر بھی تھا۔ لارڈ کرزن کی ہدایت کے بعد لارنس نے عربی لباس پہننا شروع کردیا۔ وہ اچھی طرح عربی زبان جانتا تھا۔ ستمبر ۱۹۱۱ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔ ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اس کے ساتھ مل گئی جس نے اس کی بڑی مدد کی۔ انگریزوں نے لارنس کو ہدایت دی تھی کہ وہ سلطنت عثمانیہ میں اپنے قدم مضبوط کرے۔ وہ سلطنت عثمانیہ کی جاسوسی کرتا اور خطوط لکھ کر لندن روانہ کرتا۔ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اس نے مزید ضمیر فروشوں اور غداروں کی تلاش شروع کی۔ کافی تگ و دو کے بعد اس نے ترک پارلیمنٹ کے رکن سلیمان فائزی کو خطیر رقم کا لالچ بھی دیا مگر انہوں نے اسے دھکے دے کر نکلوایا دیا۔ لارنس سمجھ گیا کہ اسے برطانیہ کیلئے قابل اعتماد آلہ کار اور غدار پڑھے لکھے، دولت مند اور سیاسی لوگوں میں سے نہیں مل سکتا اس لئے اس نے مذہب کی آڑ لینا شروع کی۔ 
 اس نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا مگر وہ مسلمان ہوا نہیں تھا۔ اس نے رقم پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔ وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے۔ان کی مدد سے لارنس گورنر مکہ حسین ہاشمی تک پہنچ گیا اور اپنی چرب زبانی سے حسین کو گمراہ کردیا۔ اس طرح اس نے عربوں کے دلوں میں ترکوں کے خلاف نفرت بھردی اور پھر بغاوت کا آغاز ہوگیا۔ تھامس ایڈورڈ لارنس کی موت ایک سڑک حادثے میں ہوئی تھی۔
وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK