عالمی یوم کفایت شعاری سے طلبہ کیا سیکھ سکتے ہیں ؟

Updated: November 04, 2021, 2:54 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

یہ دن کل یعنی ۳۰؍ اکتوبر کو منایا جائے گا، بچت کو صرف پیسوں کی بچت تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ خدا کی دی ہوئی تمام نعمتوں کی بچت یعنی حفاظت بہت ضروری ہے۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 کل (۳۰؍ اکتوبر کو) عالمی یوم کفایت شعاری ہے جو لوگوں میں بچت کا رجحان پیدا کرنے یا اس کو تقویت دینے کیلئے منایا جاتا ہے۔ دیگر ملکوں میں اسے ۳۱؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے جبکہ یہ ۳۰؍ اکتوبر ہی کو ہونا چاہئے کیونکہ اس کے منائے جانے کا اعلان ۳۰؍ اکتوبر ہی کو ہوا تھا۔
تاریخی پس منظر
 کم و بیش ۱۰۰؍ سال پہلے (۱۹۲۴ء میں ) وہ ۳۰؍ اکتوبر ہی کا دن تھا جب میلان (اٹلی) میں انٹرنیشنل سیوگنس بینک کی پہلی کانگریس (اجلاس) میں اٹلی کے پروفیسر فلیپو رویزا نے اس کا اعلان کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد بینکوں پر عوام کا اعتماد کم ہوگیا تھا۔ لوگ بھلے ہی پیسوں کی بچت کرتے ہوں مگر بینکوں میں جمع نہیں کرتے تھے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب لوگ بینکوں میں پیسہ نہیں رکھیں گے تو بینکوں کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ اس لئے ۳۰؍ اکتوبر کو یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو پیسوں کی بچت اور انہیں بینکوں میں جمع کرانے کی عادت کیلئے ترغیب دی جائے۔
 ابتداء میں عوام نے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے اس نسخے پر یعنی پیسے بچانے اور بینکوں میں رکھنے پر توجہ دی۔ اس طرح انہوں نے اپنے وسائل کا تحفظ کیا۔ 
بچت کا محدود نظریہ
 تاریخی پس منظر کے مطالعہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عالمی یوم کفایت شعاری کا نظریہ محدود ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اس پر روشنی ڈالیں ، یہ جان لیجئے کہ عالمی یوم کفایت شعاری کو انگریزی میں پہلے تو’’ورلڈ تھرفٹس ڈے‘‘ کہا گیا تھا مگر پھر ’’ورلڈ سیونگس ڈے‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ نظریہ اس لئے محدود ہے کہ یہ دن منانے کا مقصد کفایت یعنی پیسوں کی کفایت اور بچت یعنی پیسوں کی بچت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف پیسوں کی بچت سے تمام وسائل کی بچت نہیں ہوسکتی۔ رب العالمین نے انسان کو جتنی نعمتوں سے نوازا ہے وہ سب بہت قیمتی وسائل ہیں چنانچہ ہر ایک چیز کی بچت اور حفاظت ضروری ہے۔ جب ہم اس طرح سوچیں گے اور حاصل شدہ نعمتوں کیلئے رب العالمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ایک نعمت کی بچت اور حفاظت پر توجہ دیں گے تو نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہم اپنے جیسے دیگر انسانوں کی بھی مدد کرسکیں گے اور انہیں بھی فائدہ پہنچا سکیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اور کون کون سی چیزوں کی بچت ضروری ہے بالخصوص طلبہ کیلئے۔
بچت کا وسیع نظریہ
 بچت کا غیر محدود یا وسیع نظریہ یہ ہے کہ انسان صرف پیسوں کی دولت نہیں بلکہ اپنی ہر دولت کی بچت اور حفاظت کرے۔ اس سلسلے میں غوروفکر کرنا چاہئے کہ کون کون سی دولت انسان کو حاصل ہے۔ بہت بنیادی دولت ہوا، پانی، غذا، لباس، مکان اور صحت ہے۔ صحت کو بھی صرف طاقت نہ سمجھا جائے بلکہ صحت یعنی جسم کے ایک ایک عضو کی صحت، کیونکہ جب کوئی ایک عضو بھی متاثر ہوتا ہے تو پوری صحت متاثر ہوتی ہے۔ بچت کا وسیع نظریہ یہ ہے کہ انسان صرف پیسوں کی نہیں بلکہ ہر چیز کی حفاظت کرے جو اس کی اور دوسروں کی زندگی کیلئے ازحد ضروری ہیں ۔ اب آپ ہوا اور پانی ہی کو لے لیجئے۔ ہوا کے بغیر کوئی بھی ذی روح چند منٹ بھی نہیں رہ سکتا۔ اگر کسی علاقے میں ہوا دھویں سے بھر جائے تو سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف ہوا نہیں بلکہ صاف اور تازہ ہوا اشد ضروری ہے۔ اس کی بچت یعنی اس کی حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس سے ہوا آلودہ ہوتی ہو۔ اب آئیے پانی کی طرف۔ پانی کے بغیر انسانوں ، حیوانوں ، نباتات اور دیگر جانداروں کی زندگی محال ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بھی بچت یعنی حفاظت ضروری ہے مگر اکثراوقات ہم اس کی حفاظت کی فکر نہیں کرتے۔ بلاوجہ پانی بہانا، بہتے پانی کو روکنے کی فکر نہ کرنا، اگر کسی جگہ پانی بہہ رہا ہو اور اس کیلئے کوئی اور ذمہ دار ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے جبکہ پانی کہیں بھی بہے، براہ راست کوئی بھی ذمہ دار ہو ہم اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی سب کی ضرورت ہے اسلئے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سب پر ہے۔ مکان کی بچت یعنی اس کی حفاظت کا معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ اس کی صفائی ستھرائی، اس کی مرمت، اس کی دیکھ بھال وغیرہ پر بھی توجہ دی جانی چاہئے اور یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اینٹ پتھر اور سیمنٹ کے بنے ہوئے مکان کو کیا ضرورت ہے حفاظت کی۔ جہاں تک صحت کا تعلق ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انسان کیلئے صحتمند ہونا کتنا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ہوگا جب صحت کی فکر کی جائے یعنی اس کی بچت اور حفاظت کو اولیت دی جائے گی۔ جب ہم غیر ضروری طور پر جاگتے ہیں تو خود کو جسمانی اور دماغی نقصان سے دوچار کرتے ہیں ۔ جب باہر کی پکی ہوئی غذا استعمال کرتے ہیں تو اپنے پیٹ اور نظام ہضم کو نقصان سے دوچار کرتے ہیں ۔ اس طرح آپ صحت کے بارے میں جتنا سوچیں گے آپ کو محسوس ہوگا کہ جسم کا ایک ایک عضو اہم ہے اور ہر ایک کی حفاظت ازحد ضروری ہے۔ 
طلبہ میں بچت کی فطری عادت
 ہمارا مشاہدہ ہے کہ طلبہ میں بچت کی عادت ہوتی ہے۔ وہ گھر سے ملنے والے پیسوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرکے باقی ماندہ کو محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہ اپنی دیگر اشیاء مثلاً کتابیں ، کاپیاں ، بستہ، پرس، کمپاس بکس وغیرہ کی حفاظت بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔ یہ جذبہ اور رجحان ان میں فطری طور پر پایا جاتا ہے۔ اس لئے طلبہ کو بس اتنا کرنا چاہئے کہ اس جذبہ کو سلامت رکھیں بلکہ اسے تقویت دیں اور اپنی صلاحیتوں کو بچائیں یعنی اپنی صلاحیتوں کا تعمیری استعمال ہی کریں ، غیر تعمیری استعمال ہرگز نہ کریں ۔ 
بڑے خرچ کی تیاری
 جو بات اوپر کی سطروں میں لکھی گئی ہے کہ اکثر طلبہ بچت کرتے ہیں مگر کسی بڑی چیز کو خریدنے کے مقصد سے۔ اسے بچت نہیں کہا جاسکتا۔ یہ تو بڑے خرچ کی تیاری ہوئی۔ اور، جیسا کہ ہم نے کہا، بچت صرف پیسوں کی نہیں ہوتی۔ وقت کی بھی ہوتی ہے اور ہر اس چیز کی ہوگی جو رب العالمین نے بطور نعمت عطا کی ہے۔بچت کے اس وسیع مفہوم پر طلبہ کو دھیان دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK