خطِ افلاس کیا ہے؟ اس کا تعین کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟

Updated: July 16, 2021, 7:00 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ماہرین نے ہندوستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں خط افلاس کی پیمائش کے الگ الگ ضابطے بنائے ہیں ، ۲۰۱۷ء کے بعد سے یہ خط نہیں ناپا گیا ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں تیزی سے غریبوں کی تعداد میں کمی آرہی تھی لیکن کووڈ کے محض ایک سال میں ہمارے ملک میں غریبوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر ۲۱۸؍ ملین ہوگئے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کی وباء سے پوری دنیا بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دنیا کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، لاکھوں افراد کی اموات ہوچکی ہیں ، لاک ڈاؤن نے صنعتوں پر پابندی عائد کردی ہے، بے روزگاری اپنے عروج پر ہے، اور لوگوں کی آمدنی میں گراوٹ آئی ہے۔ ان حالات کے سبب دنیا پر مندی چھا گئی ہے۔ پوری دنیا میں ۳ء۹؍ ملین افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں خط افلاس کے نیچے چلے گئے ہیں ۔
  دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۲۱۔۲۰۲۰ء کے مالی سال میں تقریباً ۲۱۸؍ ملین افراد (۱۶۸؍ ملین دیہی علاقوں کے اور ۵۰؍ ملین شہری علاقوں کے ) خط افلاس سے نیچے چلے گئے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ محض ایک سال میں غربت کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ۶۰؍ ملین سے بڑھ کر ۲۱۸؍ ملین ہوگئی ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر بطور طالب علم آپ کیلئے خط افلاس اور اس کے متعلق دیگر اہم باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ 
خط افلاس کیا ہے؟
 خطِ افلاس کو انگریزی میں (پورٹی لائن) کہتے ہیں ۔ اسے ’’خط غربت‘‘ یا ’’غربت کی لکیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ خط افلاس سے مراد آمدنی کی وہ حد ہوتی ہے جس سے نیچے کوئی فرد، زندگی کیلئے درکار بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ خرید نہیں سکتا۔ جو افراد اس خط یا حد سے نیچے آمدنی رکھتے ہیں وہ کسی بھی مقدار میں رقم کو بنیادی ضروریات تک رسائی کیلئےاپنے ہاتھ میں نہیں پاتے۔
 یہ بات ترقی یافتہ ممالک کیلئے زیادہ وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سرکاری محصولات اور دیگر لوازمات ادا کرنے کے بعد ان کے اپنے ذاتی اخراجات کیلئے رقم کم ہے یا نہیں ہے مگر ترقی پزیر ممالک کیلئے یقیناً یہ بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ ان کی اکثریت ایک تو روزمرہ بنیادوں پر بھی محنت کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ بہت سے افراد کیلئے حکومت کو مختلف محصولات ادا کرنے کی نوعیت فرداً فرداً مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح غربت کیلئے جو تعریف مقرر کی گئی ہے اس میں بھی یقیناً ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک میں واضح فرق ہے۔
خط افلاس کا تعین کون کرتا ہے؟ 
 ہندوستان میں خط افلاس کا تعین مرکزی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ ۱۹۶۲ء سے لے کر اب تک ۶؍سرکاری کمیٹیاں بنائی جاچکی ہیں ، اور انہوں نے اپنے اپنے طور پر خط افلاس کا تعین کیا ہے۔ وہ ۶؍ کمیٹیاں یہ ہیں : ۱۹۶۲ء میں دی ورکنگ گروپ نے، ۱۹۷۱ء میں وی این ڈانڈیکر اور این رتھ نے، ۱۹۷۹ء میں وا ئے کے الاگ نے، ۱۹۹۳ء میں ڈی ٹی لکڑا والا نے، ۲۰۰۹ء میں سریش تینڈولکر نے، اور ۲۰۱۴ء میں سی رنگا راجن نے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے رنگاراجن کمیٹی کی رپورٹ پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ لہٰذاہمارے ملک میں غربت کو تینڈولکر کمیٹی کے خط افلاس کا استعمال کرکے ناپا جارہا ہے۔ اس کے مطابق ملک میں ۲۱ء۹؍ فیصد افراد خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ 
خط افلاس کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟ 
 خیال رہے کہ ہندوستان میں خط افلاس، شہری اور دیہی علاقوں کی مناسبت سے مختلف طریقوں سے ناپا جاتا ہے۔ غربت ناپنے کیلئے تینڈولکر کمیٹی نے ’’پورٹی لائن باسکٹ‘‘ (پی ایل بی) تیار کیا تھا۔ اس باسکٹ میں ایسی اشیاء اور خدمات کو شامل کیا گیا ہے جو کم سے کم بنیادی ضروریات زندگی کیلئے ضروری ہیں ۔ اس باسکٹ میں غذا، کرایہ، کپڑا، منتقلی اور تفریح کے خرچ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح غربت ناپنے کیلئے اوسطاً ۵؍ فرد کے ایک خاندان کو کل ۱۳؍ معیارات پر پرکھا جاتا ہے۔ ہر معیار پر صفر سے ۴؍ کے درمیان ریٹنگ (نمبر دیئے جاتے ہیں ) دی جاتی ہے۔ اس ریٹنگ میں خاندان کو زیادہ سے زیادہ ۵۲؍ نمبر ملنے چاہئیں ، جس خاندان کو ۱۷؍ یا اس سے کم نمبر حاصل ہوتے ہیں انہیں خط افلاس کے نیچے رکھا جاتا ہے، یعنی انہیں غریب تصور کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان میں خط افلاس مکمل طور پر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں کی سطح کے بجائے خاندان کی فی کس آمدنی پر منحصر ہے۔
غریبوں کی تعداد معلوم کرنا کیوں ضروری ہے؟
 کسی بھی ملک میں غریبوں کی تعداد معلوم کرنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کی مدد کرکے انہیں خط افلاس سے اوپر لایا جاسکے۔ اسی طرح ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ بیشتر ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مختلف فلاحی اسکیموں کے ذریعے غریبوں کی مدد ممکن ہے، اور انہیں خط افلاس سے اوپر لایا جاسکتا ہے۔
 ہندوستان میں مختلف مرکزی اسکیموں کے تحت جیسے انتیودیا ان یوجنا (اس اسکیم کے تحت خط افلاس سے نیچے رہنے والوں کو اناج مہیا کروایا جاتا ہے) اور راشٹریہ سوستھیا بیمہ یوجنا (اس کے تحت خط افلاس سے نیچے رہنے والوں کو ہیلتھ انشورنس دیا جاتا ہے) فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ہر مالی سال کے بجٹ میں ریاستی حکومتوں کو ان اسکیموں کے تحت فنڈ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی مدد کرسکیں ، اور انہیں اس خط کے اوپر لانے کی کوشش کریں ۔
بارہ منصوبے بنائے جاچکے ہیں 
 آزادی کے بعد اس وقت کی حکومت نے ملک کی غربت کو محسوس کیا، اور پھر ایک ۵؍ سالہ منصوبہ بنایا جس کے تحت ملک میں غربت کو کم کرنا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز ۱۹۵۱ء میں ہوا تھا۔ ۱۹۵۱ء سے لے کر ۲۰۱۷ء تک اب تک ایسے ۱۲؍ منصوبے (۵؍ سالہ) بنائے جا چکے ہیں جن کے ذریعے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم، ۲۰۱۷ء کے بعد سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے، اور نہ ہی اس کے بعد سے خط افلاس کی پیمائش کی گئی ہے۔
انٹرنیشنل پورٹی لائن کیا ہے؟
 انٹرنیشنل خط افلاس ایک ’’مالی سرحد‘‘ہے جس کے تحت ایک فرد کی غربت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اس کا حساب ہر ایک ملک سے خط افلاس کے اعداد وشمار کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ایک بالغ کو بنیادی درکار اشیاء اور خدمات کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی قیمتوں کو امریکی ڈالر میں تبدیل کیا گیا ہے۔ موجودہ انٹرنیشنل پورٹی لائن یومیہ ۱ء۹؍ امریکی ڈالر (تقریباً ۱۴۱؍ روپے) ہے۔ جو شخص یومیہ اتنے روپے یا اس سے کم روپے کماتا ہے اس کا شمار غریبوں میں کیا جاتا ہے جبکہ اس سے زیادہ کمانے والے شخص کا شمار خط افلاس سے اوپر ہوتا ہے۔ 
 عالمی وباء کورونا وائرس کے سبب ہندوستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد رپورٹس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تقریباً ۴۵؍ سال بعد ہندوستان میں غربت لوٹ رہی ہے، اور اس مرتبہ اس کی رفتار دگنا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اسے روکنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK