رَٹنا، سمجھ کر یاد کرنا اور اعادہ کے ذریعہ اسباق کو یاد رکھنا:آپ کا پسندیدہ طریق کارکیا ہے؟

Updated: March 05, 2020, 8:55 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ماہرین تعلیم مشورہ دیتے ہیں کہ طلبہ کو سمجھ کر یاد کرنے اور پھر اعادہ کے ذریعہ یاد کئے ہوئے اسباق کو یاد رکھنے پر توجہ دینی چاہئے۔ اس کے کئی فائدے ہیں ۔ ذیل میں ان فوائد کا احاطہ کیا گیا ہے۔

SSC Students- Picture: Inquilab
ایس ایس سی کے طلبہ۔ تصویر: انقلاب

بارہویں کے امتحان جاری ہیں ۔ دسویں کے آئندہ ہفتے شروع ہوں گے۔ ان بورڈ امتحانات میں شریک ہونے والے تمام طلبہ کو ہم دل کی گہرائیوں سے نیک خواہشات پیش کرتے ہیں ۔ دیگر جماعتوں کے امتحانات بھی اب دور نہیں ہیں ۔ اس لئے شاید یہی موقع ہے کہ ہم دیگر جماعتوں کے طلبہ کیلئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کردیں ۔ ہماری دُعا ہے کہ تمام طلبہ نمایاں کامیابی حاصل کریں تاکہ اگلی جماعتوں میں پہنچنا آسان ہوجائے۔ یہاں دو تین باتوں کا اعادہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو کہ تعلیمی انقلاب کے ذریعہ طلبہ کو ایک سے زائد مرتبہ بتائی گئی ہیں ۔ 
 پہلی بات: جتنا پڑھا ہے یعنی جتنی محنت کی ہے اُس پر خدا کا شکر ادا کریں اور اپنے آپ پر بھروسہ کریں ۔ یہی بھروسہ خود اعتمادی ہے۔ آپ جتنی زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ امتحان گاہ جائیں گے، کامیابی کے اُتنے امکانات روشن ہوں گے۔
  دوسری بات: اسکول میں جو چیز جس طرح پڑھائی گئی ہے اُسی پر انحصار کریں ۔ دوسروں کے پڑھائی کا انداز دیکھ کر یا دیگر طلبہ کے ہاتھوں میں کچھ اور نوٹس یا ڈائجسٹ وغیرہ دیکھ کر خود کو ڈسٹرب نہ کریں ۔ 
 تیسری بات: آخری وقت میں نہ تو اپنی پڑھائی کا طریقہ تبدیل کریں نہ ہی کوئی نیا مشورہ قبول کریں ۔ کل امتحان ہے اور آج کوئی نیا نسخہ آزمانا خود کو پریشان کرنے جیسا ہوگا۔ یہ سمجھ کر چلئے کہ آپ نے جس طریقے سے اب تک پڑھائی کی ہے وہی آپ کے لئے درست ہے۔ سونے جاگنے کا جو آپ کا معمول رہا ہے اُس میں اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ ضرور کی جائے گی مگر فی الحال نہیں ۔ 
 امتحانی دنوں میں بھرپور نیند سونا ضروری ہے۔ اس کے بعد سکون و اطمینان سے امتحان گاہ کا رُخ کیجئے، آسان سوالوں کو پہلے حل کیجئے اور پھر مشکل سوالات کی طرف بڑھئے۔ آپ یقیناً کامیاب ہوں گے۔
سب سے پہلے نوٹ کرلیجئے کہ اگر آپ ایس ایس کے طالب علم ہیں اور ۳؍ مارچ سے امتحان دینے جارہے ہیں تو یہ تحریر آپ کیلئے نہیں ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ دسویں کا کوئی طالب علم عین اس وقت جب امتحان قریب ہو، اپنی پڑھائی کا طریقہ بدلے۔ 
 رہے باقی ماندہ طلبہ جن کے امتحان میں ابھی وقت ہے اُن کی معلومات کیلئے آج اس عنوان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اکثر طلبہ رٹتے ہیں ۔ اسے انگریزی میں روٹ لرننگ کہا جاتا ہے۔ عام زبان میں اسے رَٹّا مارنا بھی کہا جاتا ہے۔ تقریری مقابلے کیلئے جس طرح کوئی تقریر رٹی جاتی ہے اور ڈرامے کیلئے مقابلے رٹنے کو ترجیح دی جاتی ہے بالکل اُسی طرح سائنسی اور ریاضی کے فارمولے رٹ لئے جائیں تو کوئی بات نہیں مگر جو طالب علم اس سے آگے بڑھ کر تاریخ، جغرافیہ، شہریت، اُردو زباندانی وغیرہ میں بھی رٹنے کا طریق کار استعمال کرتا ہے، اُسے اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کی وجہ ہے۔ 
تقریری مقابلوں کی مثال
 اسکول کے تقریری مقابلوں میں آپ نے دیکھا ہوگا۔ ایک طالب علم تقریر کرتے کرتے رُکا اور پھر رُک ہی گیا۔ اس کی وجہ تھی کہ اُس نے تقریر کو رَٹ لیا تھا اور جب لَے ٹوٹی یعنی ایک دو الفاظ اِدھر کے اُدھر ہوئے تو اُس نے جس طرح یاد کیا تھا وہ آہنگ ٹوٹ گیا اور پھر یا تو اُسے وہ کاغذ دیکھنے کی ضرورت پیش آئی جس پر تقریر لکھی ہوئی تھی یا وہ چند الفاظ دُہرا تے ہوئے تقریر کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کرتا رہا۔ تھوڑی دیر میں اساتذہ نے اُسے مشورہ دیا کہ ’’کوئی بات نہیں بیٹا، بیٹھ جاؤ‘‘۔ اساتذہ نے بھلے ہی کہا ہو کہ ’کوئی بات نہیں ‘ مگر طالب علم جانتا ہے کہ اُسے تو بڑی شرمندگی ہوئی ہے۔ جب طالب علم تقریر بھول جاتا ہے تو ساتھی طلبہ اس کی محنت کو بھول کر اُس پر ہنس پڑتے ہیں ۔ اس سے بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ 
رَٹنا بمقابلہ سمجھ کر یاد کرنا
 امتحان میں بھی ، کبھی کبھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ رٹی ہوئی چیز اگر درمیان میں ٹوٹی تو پھر پورا سلسلہ منتشر ہوگیا۔ جیسے کوئی ہار، ایک دانہ ٹوٹا کہ پورا ہار بکھر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین رَٹنے کے بجائے سمجھ کر یاد کرنے کی رائے دیتے ہیں ۔ اسے میننگ فل لرننگ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے جو سبق آپ پڑھ رہے ہیں یا جو سوال جواب آپ یاد کررہے ہیں اُنہیں بار بار دُہرا کر یاد کرنے کے بجائے اُنہیں پہلے سمجھ لیا جائے۔ سمجھ لینے کے بعد یاد کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس طریق کار میں اگر طالب علم درمیان میں کچھ بھول بھی جائے تو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ 
 سمجھ کر یاد کرنے کا عمل ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے طالب علم زیادہ انہماک کے ساتھ پڑھا ئی کرسکتا ہے اور دیگر طلبہ کو بھی سمجھا سکتا ہے۔ رٹنے والا طالب علم ایسا نہیں کرسکتا۔ 
 جو طلبہ سمجھ کر یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنی دماغی صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے ہیں جس سے دماغ کو بھی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ 
روٹ لرننگ، میننگ فل لرننگ اور؟
 روٹ لرننگ (رَٹنا) اور میننگ فل لرننگ (سمجھ کر یاد کرنا) کے علاوہ جو طریقہ تیسرے زمرے میں رکھا جاتا ہے وہ ہے پڑھائی کے ندرت آمیز طریقے جنہیں اسوسی ایٹیو لرننگ اور ایکٹیو لرننگ کا نام دیا جاتا ہے۔ ان میں گروپ میں پڑھنا، یہ ممکن نہ ہو تو کسی طالب علم کے ساتھ ڈسکس کرتے ہوئے پڑھنا اور یاد رکھنا، جو کچھ پڑھا اُسے ریکارڈ کرکے سننا، ایک طالب علم سوال پوچھے دوسرا جواب دے، پھر دوسرا پوچھے اور پہلا جواب دے، کسی سوال کا جواب اچھی طرح یاد کرنے کے بعد کتاب یا بیاض بند کرکے اپنی یادداشت کی مدد سے پوائنٹس نوٹ کرنا اور پھر اُنہیں کتاب یا بیاض کی مدد سے چیک کرنا وغیرہ۔ اس طرح کے جدت اور ندرت آمیز طریقے کئی ہوسکتے ہیں ۔ ہر طالب علم اپنی پسند ناپسند کے مطابق نئے طریقے وضع کرسکتا ہے۔ اس میں اساتذہ سے مدد لی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ 
پڑھائی کو دلچسپ بنانا
 روٹ لرننگ اور میننگ فل لرننگ کے مقابلے میں اسوسی ایٹیو لرننگ اور ایکٹیو لرننگ کے بڑے فائدے ہیں ۔ اس سے اسباق کو بہتر طور پر سمجھنے اور یاد رکھنے میں سہولت پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو امتحان میں یاد آئیگا کہ یہ فارمولہ میں نے اپنے دوست کے ساتھ ڈسکس کیا تھا۔ یہ ہم لوگوں نے اس طرح یاد کیا تھا۔ یہ اس وقت یاد کیا تھا۔ اس وقت ساتھی طالب علم نے یہ کہا تھا۔ اُس نے غلطی کی تو میں نے ٹوکا تھا، میں نے غلطی کی تو اس نے ٹوکا تھا وغیرہ۔ اس طرح کسی بھی چیز کو یاد کرنے کا عمل بھی دلچسپ ہوجاتا ہے بالکل اُسی طرح جیسے امتحان کی تیاری کے وقت محنت کرنا دلچسپ ہوگیا تھا۔ 
 ان طریقوں سے جب پڑھائی دلچسپ ہوجاتی ہے تو اس کا سو فیصد فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھائی کا عمل بوجھل نہیں بنتا۔ اس دوران سستی یا نیند نہیں آتی۔ یاد کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے اور بھی فائدے ہیں۔
 جب آپ نے سمجھ کر یاد کیا، یا، جدت آمیز طریقے سے یاد کیا تو پورا سبق یا سوال (کا جواب) آپ کے ذہن میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں سوال گھما پھرا کر پوچھا جائے یا سوال کی ہیئت بدل دی جائے تو اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ نفس مضمون سے واقف ہوتے ہیں ۔ اسی لئے ماہرین پڑھائی کے ان طریقوں کی زیادہ سفارش کرتے ہیں ۔ 
ذہن نشین رہے کہ 
 ذہن نشین رہے کہ آپ پڑھائی کے طریقوں کو جتنا دلچسپ بنائیں گے اُتنا زیادہ پڑھ سکیں گے اور اُتنا زیادہ یاد رکھ سکیں گے۔ کسی بھی طالب علم کو خواہ وہ پڑھائی میں ’’اچھا‘‘ مانا جاتا ہو یا اچھا نہ مانا جاتا ہو، پڑھائی کو بوجھ نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ بوجھ سمجھنے سے دل اور دماغ بوجھل ہوجاتے ہیں اور پھر تھوڑی ہی دیر میں نیند آنے لگتی ہے، موبائل بلانے لگتا ہے، دوست احباب آواز دینے لگتے ہیں ، کوئی رشتہ دار گھر آجاتا ہے یا ایسا ہی کچھ ہوجاتا ہے۔ 
کیا یہ ممکن ہے؟
 کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کو پڑھائی موبائل سے زیادہ پُرکشش لگے؟ ایسا ہو تب ہی تو کمال ہے۔ جو طلبہ موبائل سے زیادہ پڑھائی میں دلچسپی لیتے ہیں اُنہیں اپنی کامیابی کا یقین کرلینا چاہئے اور جن طلبہ کو موبائل، ٹی وی، نیٹ، وہاٹس ایپ وغیرہ سے زیادہ دلچسپی ہے اُنہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ 
 بہرکیف، یہاں پڑھائی کے جن طریقوں سے بحث کی گئی ہے اُن پر توجہ دیجئے اور اُنہیں سمجھ کر اپنے لئے منتخب کیجئے۔ اس میں جبر نہیں ہونا چاہئے۔ ان کالموں میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ تلقین نہیں ہے۔ آپ کو باخبر کرنے کی کوشش ہے۔ اگر یہ آپ کو سودمند محسوس ہوں تو عمل کیجئے ورنہ اپنے اساتذہ سے گفتگو کیجئے تاکہ کامیابی کا راستہ ہموار ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK