کب منایا جاتا ہے ’’عالمی یوم طلبہ‘‘ اور کیا ہے اس کا مقصد؟

Updated: October 09, 2020, 2:54 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

عالمی سطح پر ایک دن ایسا ہے جو طلبہ کی نذر ہے ،اس کی وجہ سے وہ عالمی طلبہ برادری کا حصہ بنتے ہیں ۔ یہ خوشی کی بات ہے مگر خوشی تب ہوگی جب آپ ا سکے بارے میں جانیں گے۔یوم طلبہ منانے کیلئے ڈاکٹر عبدالکلام کے یوم پیدائش سے بہتر کوئی اور دن نہیں ہوسکتا۔ ۲۰۱۰ء میں یو این نے اس عظیم شخصیت کے اعزاز میں ۱۵؍ اکتوبر کو ’’عالمی یوم طلبہ‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک شخص اس وقت تک طالب علم رہتا ہے جب تک وہ علم حاصل کرتا رہتا ہے۔ آپ ہمیشہ ایک طالب علم رہیں گے۔ اس لئے کبھی رکے نہیں بلکہ آگے بڑھتے رہیں ۔ کونارڈ ہال کا یہ قول ہر اس شخص کیلئے جو ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہنا چاہتا ہے۔
عالمی یوم طلبہ ۱۵؍ اکتوبر کو کیوں منایا جاتا ہے؟
 عالمی یوم طلبہ ’’ورلڈ اسٹوڈنٹس ڈے‘‘ ہر سال ۱۵؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ (یونائیٹڈ نیشنز، یو این) نے ۲۰۱۰ء میں ۱۵؍اکتوبر کو عالمی یوم طلبہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دن ہندوستان میں عوام کا صدر کہلائے جانے والے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے موسوم ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۳۱ء کو رامیشورم، تامل ناڈو میں پیدا ہوئے تھے۔ 
یہ دن ڈاکٹر عبدالکلام سے کیوں موسوم ہے؟
 ڈاکٹر عبدالکلام کا درس و تدریس کے شعبے میں کردار اور ان کی لگن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنی شناخت ہمیشہ ایک استاد کے طور پر کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ طلبہ کے ساتھ گزارا اور ان کیلئے زیادہ وقت وقف کیا توغلط نہیں ہوگا۔ طلبہ سے ان کی قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا انتقال بھی آئی آئی ایم، شیلانگ کے طلبہ کو پڑھاتے ہوئے ہوا تھا۔ بیشتر ماہرین کے مطابق یوم طلبہ منانے کیلئے ڈاکٹر عبدالکلام کے یوم پیدائش سے بہتر کوئی اور تاریخ نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ۲۰۱۰ء میں اس عظیم شخصیت کے اعزاز میں یو این نے ان کے یوم پیدائش کو ’’عالمی یوم طلبہ‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

یوم طلبہ ہی کیوں ؟
 طلبہ ہی ہر ملک کا مستقبل ہیں ۔ یہ وہ ذہین بچے ہیں جو کل ہمارے ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ انہی طلبہ میں سے کوئی ملک کا صدر بنے گا، کوئی وزیر اعظم بنے گا اور کوئی سائنسداں بنے گا۔ یوں تو تعلیمی اداروں میں طلبہ کو امتحانات میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے یا مقابلوں میں جیتنے پر اعزازات سے نوازا جاتا ہے لیکن یوم طلبہ انہیں اعزاز دینے کا ایک بہترین موقع ہے۔ دنیا کے ہر ملک کے طلبہ اپنے کریئر کے اہداف کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ بعض طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خاندان کو چھوڑ کر دوسروں شہروں اور ملکوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ نہ صرف اپنے معیار زندگی کو بلند کرسکیں بلکہ دنیا کو بھی ایک بہتر جگہ بناسکیں ۔
اس دن کیا ہوتا ہے؟
 یوم طلبہ پر طلبہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں ۔ اور مختلف کھیلوں اور تقریبات کے ذریعے اس دن کا جشن مناتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں مختلف قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں ۔ انہیں انعامات اور اعزازات سے نوازا بھی جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ، ہندوستان کے تقریباً ہر تعلیمی ادارے جبکہ دنیا کے متعدد تعلیمی اداروں میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد طلبہ کو ہر قسم کی معلومات سے باخبر کرنا ہے اور ان کی ذہنی اور جسمانی نشو ونما کو صحیح سمت دینا ہے۔ اس دن طلبہ کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کیسے مستحکم کریں اور صحیح سمت میں ان کا استعمال کیسے کریں ۔ 
سوئزر لینڈ میں ’’سائنس ڈے‘‘ بھی انہی سے موسوم ہے
 عالمی شہرت یافتہ سائنسداں کا احترام پوری دنیا میں کیا جاتا ہے۔ ۲۰۰۵ء میں وہ سوئزرلینڈ کے دورے پر گئے تھے جس کے بعد اس ملک کی حکومت نے اپنے ملک میں ۲۶؍ مئی کو ’’سائنس ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دن ڈاکٹر عبدالکلام کے اعزاز میں شروع کیا گیا تھا۔ 
ڈاکٹر عبدالکلام چاہتے تھے کہ دنیا انہیں ایک استاد کے طور پر یاد رکھے
 ہندوستان میں شاید ہی کسی صدر کو اتنی عزت اور محبت ملی ہوگی جتنی ڈاکٹر اے پی جے عبدلکلام کو ملی۔ وہ ایک سائنس داں ، مصنف، سیاست داں اور استاد تھے جنہوں نے اپنے میزائل دفاعی پروگرام سے پوری دنیا میں ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا لیکن ان کا پسندیدہ کام درس و تدریس تھا۔ اور وہ چاہتے تھے کہ دنیا انہیں ایک استاد ہی کی حیثیت سے یاد رکھے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورے ملک کے طلبہ انہیں مثالی شخصیت قرار دیتے تھے۔ ان کے تحریک دینے والے اقوال آج بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر شیئر کئے جاتے ہیں ۔ اور نوجوانوں کے درمیان کافی مقبول ہیں ۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال ۲۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء کو دل کا اچانک دورہ پڑنے کے سبب ہوا تھا۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے بارے میں چند دلچسپ باتیں 
۔ڈاکٹر عبدالکلام انڈین ایئرفورس میں فائٹر پلین کے پائلٹ بننا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں یہ موقع نہیں ملا۔ ان کا خواب اس وقت چکنا چور ہوگیا جب پائلٹ کی ۸؍ اسامیوں میں ان کا نمبر ۹؍ واں آیا تھا۔ 
۔ڈاکٹر ابوالفاخر زین العابدین عبدالکلام کو دنیا بھر کی ۴۰؍ سے زائد یونیورسٹیوں کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری تفویض کی جاچکی ہے۔ 
۔انہیں نظمیں لکھنے کا بہت شوق تھا اور انہوں نے تمل زبان میں کئی نظمیں لکھی ہیں ۔
۔وہ موسیقی میں بھی دلچسپی رکھتے تھے، اور اکثر’’وینا‘‘ بجاتےتھے۔
۔انہیں ۱۹۸۱ء میں پدم بھوشن، ۱۹۹۰ء میں پدم وبھوشن اور ۱۹۹۷ء میں بھارت رتن سے نوازا گیا تھا۔
۔ان کی زندگی سے تحریک لیتے ہوئے بالی ووڈ میں ایک فلم ’’آئی ایم کلام‘‘ بنائی گئی تھی۔
۔صدارت کے عہدے پر فائز رہنے کے دوران انہیں جو تنخواہ ملتی تھی، اسے وہ ’’پی یو آر اے‘‘ نامی ٹرسٹ میں جمع کروادیا کرتے تھے۔ یہ ٹرسٹ دیہی علاقوں میں شہری سہولیات فراہم کرتا ہے۔ 
۔نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں کروڑوں افراد ان سے متاثر ہیں ۔ 
۔ان کی سوانح عمری ’’دی ونگز آف فائر‘‘ کا دنیا کی ۱۳؍ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK