کہاں کتنی بارش ہوئی، اس کی پیمائش کس طرح کی جاتی ہے؟

Updated: July 23, 2021, 7:30 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

بارش ناپنے والے آلے کو ’’رین گیج‘‘کہتے ہیں ، اسے شہر کے متعدد حصوں میں نصب کیا جاتا ہے، بارش کی پیمائش سینٹی میٹر یا ملی میٹر میں کی جاتی ہے۔ رین گیج کے ذریعے بارش کی پیمائش اس کے برسنے کے۲۴؍ گھنٹے بعد کی جاتی ہے، ویدر رڈار کے ذریعے وسیع پیمانے پر بارش کا ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے اور پھر بارش کا نقشہ بنایاجاتا ہے۔

A busy road in Kandivali, Mumbai. Photo: Inquilab
کاندیولی، ممبئی کی ایک مصروف سڑک۔ تصویر: انقلاب

گزشتہ چند دنوں سے ممبئی اور مضافات میں مسلسل بارش ہورہی ہے اور متعدد مقامات پر پانی بھرنے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں ۔ روزانہ خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ آج کتنے ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ بارش کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟ 
 بارش ایک قدرتی عمل ہے جس کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بارش کے پانی سے دنیا کے بہت سے مسائل حل ہوتےہیں ، اگر بارش نہ ہو تو انسان، جانور ، پرندے اور پیڑ پودے پانی کیلئے ترس جائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں سال میں ایک مرتبہ چند مہینوں کیلئے موسم باراں ضرور آتا ہے۔ جہاں بارش نہیں ہوتی وہا ں کے لوگ پریشانی کا شکار ہوجاتےہیں اور وہاں طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ آپ نے ابتدائی جماعتوں ہی میں پڑھا ہوگا کہ بارش کیسے ہوتی ہے، اور کس طرح بارش کا چکر چلتا ہے۔ لیکن آپ کو شاید ہی معلوم ہو کہ اس کی پیمائش کس طرح کی جاتی ہے۔ 
 بارش کی پیمائش سائنسی دلچسپی کی حامل ہے۔مثال کے طور پر ، نالیوں میں پانی کی پیمائش کرنے کیلئے، اس میں بہنے والی پانی اور وقت (دن) کی مناسبت سے اس کے فی یونٹ کو ایک خاص حجم کے برتن میں جمع کیا جاتا ہے، پھر اسے ناپا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سےپانی کی اس پرت کی موٹائی کا اندازہ لگاسکتے ہیں جو زمین کی سطح پر پانی کی صورت میں بہے گا۔
رین گیج 
 بارش ناپنے کیلئے جس آلے کا استعمال کیا جاتا ہے اسے رین گیج کہتے ہیں ۔اسے بارش پیماء، باراں پیماء، اور مقیاس المطر بھی کہا جاتا ہے۔ رین کا معنی ہوتا ہے بارش اور گیج کا معنی ہوتا ہے پیمانہ یا مقیاس۔ اس آلے کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر بارش ہوئی ہے۔ یہ آلہ لوہے کے سلنڈر اور شیشے کی ایک بوتل پر مشتمل ہوتا ہے۔ بوتل کے اوپر ایک قیف (ایک ٹونٹی دار برتن جس کا منہ اوپر سے کھلا ہوا اور نیچے ایک نلی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اس سے بوتلوں میں رقیق چیز آسانی سے بھری جاتی ہے) رکھی جاتی ہے۔ جس کا نچلا سرا بوتل کے اندر جاتا ہے۔ اس سلنڈر کو کسی کھلے میدان میں سطح زمین سے تقریباً ایک فٹ اونچائی پر رکھا جاتا ہے تاکہ بارش کے وہ چھینٹے جو زمین پر پڑتے ہیں ، اس میں نہ جائیں ۔ یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کا پانی کسی صورت ضائع نہ ہو۔ بارش کا پانی قیف کے ذریعے بوتل میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہ جمع شدہ پانی ایک درجہ دار سلنڈر میں ڈال کر ناپ لیا جاتا ہے۔ درجہ دار سلنڈر اورقیف کے منہ میں ایک تناسب ہوتا ہے۔ اگر درجہ دار سلنڈر میں پانی دس انچ تک آئے تو کل بارش ایک انچ ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر بارش کا پانی نہ بخارات بنے، نہ زمین میں جذب ہو اور نہ کسی طرف بہے بلکہ ایک جگہ ٹھہرارہے تو اس کی گہرائی ایک انچ ہوگی۔ اس درجہ دار سلنڈر کے ذریعےایک بٹا ۱۰۰؍ انچ تک بارش ناپی جاسکتی ہے۔ یہ آلہ ہر تعلقہ یا تحصیل میں نصب ہوتا ہے۔ اس سے مقامی بارش کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
رین گیج کب بنایا گیا؟
 پہلی مرتبہ بارش کی پیمائش ۵۰۰؍ ق م میں قدیم یونانیوں نے کی تھی۔ ہندوستان کے لوگوں نے ۴۰۰؍ ق م میں بارش کی پیمائش کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ لوگ بارش کی پیمائش کس طرح کرتے تھے، یہ واضح نہیں ہے البتہ ۱۲۴۷ء میں ایک چینی ریاضی داں اور موجد کن جیو شاؤ نے بارش اور برفباری کی پیمائش کیلئے ’’تناشی بیسن‘‘ نامی ایک آلہ بنایا تھا۔ اس وقت چند ممالک نے اپنے اپنے علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیمائش کیلئے اس کا استعمال کیا تھا۔ ۱۴۴۱ء میں کوریا میں ’’چیوگوگی‘‘ نامی آلہ تیار کیا گیا تھا اور دنیا بھر میں بارش کی پیمائش کیلئے اسے معیار مقرر کیا گیا تھا۔ ۱۶۶۲ء میں کرسٹوفر ورین نے رابرٹ ہوکے کے ساتھ مل کر برطانیہ میں ایک نیا رین گیج بنایا جس میں ایک بالٹی بھی منسلک تھی۔ اسے ۱۶۹۵ء تک استعمال کیا گیا تھا۔۱۶۹۴ء میں برطانیہ کے ریاضی داں اور موجد رچرڈ ڈاؤن لی نےبارش کی منظم پیمائش کا ایک آلہ بنایا جسے بنانے میں انہیں ۱۵؍ سال (۱۶۷۷ء تا ۱۶۹۴ء) لگے تھے۔ اس کے بعد کئی مرتبہ اس قسم کے آلے بنائے گئے لیکن ۱۸۹۰ء میں بنائے گئے آلے کو قبول کرلیاگیا، اور آج جتنے بھی رین گیج بنائے جاتے ہیں وہ اسی تکنیک پر مبنی ہوتے ہیں ۔
رین گیج کی اقسام
 رین گیج کی ۳؍ اقسام ہیں : (۱) دی اسٹینڈرڈ گیج، (۲) ویئنگ گیج، اور(۳) ٹپنگ بکٹ گیج۔ ان تینوں میں سب سے زیادہ مشہور اسٹینڈرڈ گیج ہے جسے عرف عام میں ’’رین گیج‘‘ کہتے ہیں ۔
بارش کی پیمائش کیوں ضروری ہے؟
 بارش کا پانی ہم بہت سی ضرورتوں کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ نہ صرف پینے اور روزمرہ کے کاموں میں استعمال ہوتاہے بلکہ اس کے ذریعے توانائی بھی بنائی جاتی ہے۔ ہمیں تازہ پانی بارش کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ بارش کا پانی ڈیموں میں جمع ہونے کے علاوہ زمین میں جذب ہوکر دریاؤں ، ندیوں اور تالابوں میں بھی پہنچتا ہے، اور انسان انہی ذرائع سے تازہ پانی حاصل کرتے ہیں اس لئےبارش کی پیمائش ضروری ہوتی ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کتنی بارش ہوئی ہے اور ہمارے پاس استعمال کیلئے کتنا پانی موجود ہے۔
بارش کی پیمائش سینٹی میٹر یا ملی میٹر میں کیوں کی جاتی ہے؟
 بارش کی پیمائش کیلئے بنائے گئے آلے یعنی رین گیج میں پانی کی پیمائش سینٹی میٹر (سی ایم) یا ملی میٹر (ایم ایم) میں کی جاتی ہے۔ ابتداء ہی سے یہ حساب مقرر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش کو سینٹی میٹر یا ملی میٹر میں ناپا جاتا اسے فی گھنٹے کے حساب سے ناپا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے میں کتنی بارش ہوئی ہے۔
رین گیج کہاں لگایا جاتا ہے؟
 اگر رین گیج صحیح جگہ نہ لگایا جائےتو بارش کی پیمائش درست طریقے سے نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے زمین کی سطح سے کم از کم ۷۵؍ سینٹی میٹر بلندی پر لگایا جاتا ہے۔ اسے رکاوٹوں سے پاک کسی کھلی جگہ میں لگایا جاتا ہے۔ اگر آس پاس عمارتیں یا درخت ہیں تو رکاوٹ کی اونچائی سے دگنا بلندی پر اسے نصب کیا جاتا ہے۔ رین گیج بالکل سیدھا ہونا چاہئے۔ اگر اس میں معمولی سے بھی جھکاؤ ہوگا یا ہوا کے سبب اگر یہ سیدھا نہیں ہے تو بارش کو درست طریقے سے ناپنا ناممکن ہوگا۔
ویدر رڈار کیا ہے؟
 خیال رہے کہ رین گیج کے ذریعے کسی مخصوص علاقے میں ہونے والی بارش کی پیمائش کی جاتی ہے۔ تاہم، بارش کے متعلق وسیع پیمانے پر جاننے کیلئے، جیسے یہ بیک وقت کتنے شہروں اور علاقوں پر ہورہی ہے،بادل کون کون سے مقامات پر برسیں گے، کہاں پر زیادہ بارش ہوگی کہاں پر کم ہوگی، اور بادلوں کی حرکت جاننے کیلئے ویدر رڈار کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک گولے کی طرح ہوتا ہےجسے بلندی پر نصب کیا جاتا ہے۔ عام طور پر اس کیلئے شہر کے باہر کسی کھلی جگہ پر ایک علاحدہ ٹاور نصب کیا جاتا ہے۔ مگر اب جدید رڈار بھی بنائے جانے لگے ہیں جو ڈش ٹی وی اور ٹاٹا اسکائے کے اینٹینا کی طرح نظر آتے ہیں ۔ یہ بلندی پر نصب کیا جاتا ہے۔
بارش کا نقشہ 
 بارش کے نقشے سے مراد ہے نقشے پر ایسے مقامات کی نشاندہی کرنا جہاں جہاں بادل برسیں گے۔کسی مخصوص شہر پر چھانے والے بادل کتنی دیر برسیں گے، اس کے بعد کن مقامات کی جانب سفر کریں گے، پھر کہاں برسیں گے، کس علاقے میں کتنی دیر اور کتنی بارش ہوگی، ان تمام باتوں کا تخمینہ ویدر رڈار کے ذریعے لگایا جاتا ہے، اور پھر نقشے پر ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس ڈیٹا کو ہر سال استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ یہ تمام کام ماہرین موسمیات کرتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK