EPAPER
Updated: October 14, 2022, 12:42 PM IST | Shahbaz Khan | Mumbai
طبیعیات، کیمیا، معاشیات اور طب میں نئی پیش رفت کرنے والے افراد کو اس باوقار انعام سے نوازا جاتا ہے، جانئے امسال اِن افراد نے مذکورہ شعبوں کیلئےکیا خدمات انجام دی ہیں
نوبیل انعام ۱۲۰؍ سال سے اکنامک سائنسز میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو تفویض کیا جارہا ہے۔ فی الحال یہ انعام فزکس، کیمسٹری، میڈیسن، اکنامکس، پیس اور ادب کے زمرے میں دیا جاتا ہے۔ اس باوقار اور مشہور انعام کے بانی الفریڈ نوبیل تھےجن کا تعلق سویڈن سے تھا۔ الفریڈ ایک سائنسداں تھے جنہوں نے متعدد ایجادات کی تھیں۔ وہ ۲۱؍ اکتوبر ۱۸۳۳ء کو اسٹاک ہوم (سویڈن) میں پیدا ہوئے تھے۔ چند برسوں بعد یہ خاندان سینٹ پیٹرس برگ، روس منتقل ہوگیا تھا۔ الفریڈ نے اسی ملک کے تعلیمی اداروں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ تاہم، انہیں کیمسٹری میں بہت دلچسپی تھی۔ لہٰذا اس میدان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے وہ امریکہ گئے۔ روس میں خاندانی کاروبار کے دیوالیہ ہونے کے بعد الفریڈ اپنے والد کے ہمراہ سویڈن واپس چلے گئے۔ یہاں انہوں نے ایک فیکٹری قائم کی اور پھر اپنے آپ کو علم کیمیا کیلئے وقف کردیا۔ الفریڈ نوبیل نے نوبیل انعام کی بنیاد ۱۸۹۵ء میں رکھی تھی۔ اس انعام کو کامیابی سے جاری رکھنے کیلئے انہوں نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ وقف کیا تھا۔ واضح رہے کہ الفریڈ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ نوبیل انعام کیلئے وقف دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حقداروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ ۱۹۶۸ء میں نوبیل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کیا گیا۔ امسال فزکس، کیمسٹری، طب اور معاشیات میں نوبیل انعام یافتگان نے گزشتہ سال اپنے اپنے شعبوں میں کیا نمایاں خدمات انجام دی ہیں،
فزکس(طبیعیات)
یہ انعام مشترکہ طور پر ۳؍ سائنسدانوں کو دیا گیا ہے۔ الین اسپیکٹ کا تعلق فرانس، جان ایف کلاؤزر کا تعلق امریکہ اور انٹون زیلنگر کا تعلق آسٹریا سے ہے۔ ان تینوں کو ’’کوانٹم ٹیکنالوجی اور انفارمیشن‘‘ پر تحقیق کیلئے دیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق سے ٹیلی کمیونی کیشن، انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد ملی ہے۔ ان کی تحقیقات سے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ ذرات اگرچہ ایک دوسرے سے الگ بھی ہوں، اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں اور ان کے درمیان روابط کو قائم رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیقات ہی کی وجہ سے کمپیوٹر، موبائل اور دیگر تکنیکی آلات اور سسٹمز میں جدت اور بہتری آئی۔ان تجربات نے پیمائش کے موجودہ طریقوں کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے اور دو ذرات کے مابین تعلق کو ثابت کیا ہے، چاہے وہ دو ذرات ایک دوسرے سے نوری سال کے فاصلے پر ہی کیوں نہ ہوں۔اسے کوانٹم اینٹنگلمنٹ کہتے ہیں جو کوانٹم انفارمیشن کی بنیاد ہے۔ اس سے کمپیوٹرز کی دنیا میں اتنے نئے دروازے کھل سکتے ہیں کہ جن کا فی الحال حساب لگانا بھی مشکل ہے۔
کیمیا (کیمسٹری)
امریکہ کے بیری شارپلیس اور کیرولین برٹوزی اور ڈنمارک کے مورٹن میل ڈل نے ’’کلک کیمسٹری‘‘ کے شعبے کی بنیاد رکھنے اور اس میں انقلابی جدت لانے پر نوبیل انعام حاصل کیا۔ کلک کیمسٹری، علم کیمیا کا وہ شعبہ ہے جس میں مالیکیولز کو ایک دوسرے کے ساتھ لیگو (Lego)کی طرح جوڑا جا سکتا ہے۔ان سائنسدانوں نے مالیکیولز کو جوڑنے کے اس عمل کو اس حد تک جدید بنا دیا ہے کہ وہ خلیوں کے اندر بھی ایک دوسرے سے جوڑے اور توڑے جا سکتے ہیں، یہ عمل کینسر کی ادویات اور کلینکل ٹرائل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ امسال نوبیل انعام زیادہ پیچیدہ کام کرنے والے ماہرین کو نہیں بلکہ قدرے آسان تجربات اور طریقہ کار دریافت کرنے والوں کو دیا گیا ہے۔
طب (میڈیسن)
طب کا نوبیل انعام سویڈن کے سائنسداں سوانتے پابو کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے سائبیریا کے ایک غار سے ملنے والی ۴۰؍ ہزار سال پرانی انگلی کی ہڈی سے جینیاتی مواد نکال کر انسانوں کی ابتدائی اور ناپید ہوجانے والی نسل نیئندر تھال کا مکمل جینوم ترتیب دیا۔ یہ کام ہمیں سمجھنے میں مدد دے گا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ناپید ہو جانے والی انسانی نسلوں کے برعکس ہم اب تک کیسے پھل پھول رہے ہیں۔سوانتے پابو نے انسانی ارتقا اور جینز کو سمجھنے اور پڑھنے کا طریقہ دریافت کیا تھا۔ نیئندر تھال کی ساخت بندروں سے زیادہ ملتی جلتی تھی۔ ان کے طریقوں نے جدید دور کے انسانوں جنہیں سائنسی طور پرہومو سیپیئنس کہا جاتا ہے اور پرانے دور کے انسانوں میں مماثلت کی تحقیقات کا بھی راستہ کھولا ہے۔
معاشیات (اکنامکس)
رواں برس کا نوبیل انعام برائے معاشیات، فیڈرل ریزور (امریکہ) کے سابق سربراہ بین برنانکے، ڈوگلس ڈائمنڈ اور فلپ ڈیبوگ کو دیا گیا ہے۔ تینوں ہی کا تعلق امریکہ سے ہے۔ یہ انعام انہیں مالیاتی بحرانوں میں بینکوں کے کردار پر تحقیق پر دیا گیا ہے۔ان کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کی عالمی وباء یا ۲۰۰۸ء میں عالمی کساد بازاری جیسے عالمی بحرانوں کی طرح کی صورتحال سے دنیا کے ممالک کیسے نبردآزما ہوسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح بینکوں کو ریگولیٹ کرکے ناکام ہونے والے قرض دہندگان کی نقد رقم کے ساتھ مدد کرکے شدید معاشی بحران روکا جا سکتا ہے۔چونکہ عالمی وبا کے نتیجے میں معاشی سست روی اور بدترین معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا بھر میں مرکزی بینکوں اور مالیاتی ریگولیٹرز نے جو اقدامات کئے ، ان میں سے بیشتر ان ماہرین کی تحقیق کی وجہ سے ممکن ہوئے۔ ان کی تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں نے ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں بینکوں کو بیل آؤٹ دیا جس پر شدید تنقید کی گئی اور عام صارفین متاثر ہوئے اور انہیں اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑا حالانکہ اس بحران کے اصل ذمہ دار بینک تھے جو محفوظ رہے تھے۔لیکن ان کی تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ اس دور میں مجموعی طور پر معاشرہ ہی کو فائدہ ہوا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کی بنیاد پر انتہائی کم شرح سود اور مرکزی بینک کے اثاثوں کی بڑے پیمانے پر خریداری کی پالیسی اب تبدیل کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کے کئی حصوں میں مہنگائی تقریباً نصف صدی میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔
نوبیل انعام ؛دلچسپ حقائق
امن کا پہلا نوبیل انعام ۱۹۰۱ء میں دیا گیا تھا۔
جان بارڈین واحد طبیعیات داں ہیں جنہیں فزکس میں دو مرتبہ نوبیل انعام دیا گیا ہے۔
میری کیوری واحد خاتون کیمیا داں ہیں جنہیں دو مرتبہ کیمسٹری میںنوبیل پرائز سے نوازا گیا ہے۔
اب تک صرف ۹؍ ہندوستانیوں کو نوبیل انعام ملا ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نوبیل انعام پانے والے (ادب کا) پہلے ہندوستانی تھے۔
امن کا نوبیل انعام اسٹاک ہوم میں نہیں بلکہ اوسلو میں دیا جاتا ہے۔دو انعام یافتگان نے اپنا نوبیل فروخت بھی کیا ہے۔
؍ ۱۲۰؍ سال (۱۹۰۲ء تا ۲۰۲۲ء) میں صرف ۶۱؍ خواتین ہی کو نوبیل انعام ملا ہے۔
مہاتما گاندھی نوبیل انعام کیلئے ۵؍ مرتبہ نامزد ہوئے تھے۔
نوبیل انعام پانے والے کو ایک میڈل، ایک ڈپلوما اور ۱ء۱؍ ملین امریکی ڈالر ملتے ہیں۔
لائنس پاؤلنگ ایسے سائنسداں ہیں جنہیں ۲؍ مرتبہ کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا لیکن دونوں ہی مرتبہ انہوں نے یہ انعام اکیلے جیتا تھا۔
جین پال سارترے وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے یہ باوقارایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا۔
ملالہ یوسف زئی نوبیل پانے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ جس وقت انہیں نوبیل انعام ملا تھا، اس وقت ان کی عمر ۱۷؍ سال تھی۔
سب سے زیادہ نوبیل انعام پانے والا خاندان میری کیوری کا ہے۔ انہیں دو مرتبہ کیمسٹری میں نوبیل ملا، ان کے شوہر پیئر کو ۱۹۰۳ء میں یہ انعام ملا تھا۔ ان کی بیٹی جولیٹ کیوری اور ان کے شوہر فریڈرک کو ۱۹۳۵ء میں جبکہ ان کے داماد ہنری رچرڈسن لبوزی کو نوبیل کا امن انعام ۱۹۶۵ء میں دیا گیا تھا۔