EPAPER
Updated: June 26, 2026, 6:14 PM IST | Mumbai
دریائے لوہیت جب پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہے تو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سرخ اور بھورے رنگ کی مٹی، معدنیات اور چٹانوں کے ذرات بہا لاتا ہے۔
دریائے لوہیت(Lohit River) ہندوستان کے شمال مشرقی خطے کا ایک اہم دریا ہے جو بعد میں دریائے برہم پتر کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ دریا تبت کے مشرقی علاقوں سے نکل کر ریاست اروناچل پردیش سے گزرتا ہوا آسام میں داخل ہوتا ہے۔ اسے ’’خون کا دریا‘‘ (River of Blood) بھی کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اسے ’’ ریور آف بلڈ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
لفظ ’’لوہیت‘‘ کا لغوی مفہوم
’’لوہیت‘‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’سرخ‘‘، ’’سرخی مائل‘‘ یا ’’خون کے رنگ جیسا‘‘ ہیں۔ سنسکرت میں ’’لوہت‘‘ یا ’’لوہیت‘‘ سرخ رنگ اور خون دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس دریا کا نام ہی اس کے سرخی مائل پانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بغض انگریزی مصنفین نے اسی مفہوم کو نمایاں کرنے کیلئے اسے ’’River of Blood‘‘ یعنی ’’خون کا دریا‘‘ لکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بیسٹ‘‘ کی بسوں میں مختلف قسم کے کوڈز ہوتے ہیں، کیوں؟
پانی کے سرخ نظر آنے کی سائنسی وجہ
دریائے لوہیت جب پہاڑی علاقوں سے گزرتا ہے تو اپنے ساتھ بڑی مقدار میں سرخ اور بھورے رنگ کی مٹی، معدنیات اور چٹانوں کے ذرات بہا لاتا ہے۔ ان ذرات میں آئرن آکسائیڈ (Iron Oxide) بھی شامل ہوتی ہے جو زنگ آلود لوہے کی طرح سرخ رنگ پیدا کرتی ہے۔ خاص طور پر برسات کے موسم میں پانی میں یہ ذرات زیادہ مقدار میں شامل ہو جاتے ہیں جس سے دریا کا رنگ بعض مقامات پر سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔ یہی قدرتی کیفیت اس دریا کے نام اور اس کی شہرت کا بنیادی سبب سمجھی جاتی ہے۔
ہندو ۭروایات اور اساطیری پس منظر
ہندو مذہبی روایات میں دریائے لوہیت کا تعلق بعض قدیم اساطیری واقعات سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق پرشورام نے اپنے گناہ کے کفارے اور روحانی تطہیر کیلئے اس دریا میں غسل کیا تھا۔ بعض مقامی داستانوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد دریا کا پانی خون کی طرح سرخ ہو گیا جس سے اس کی مذہبی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ یہ روایات عقیدت اور اساطیر کا حصہ ہیں لیکن مقامی ثقافت میں ان کا گہرا اثر پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آتش فشانی پتھر’پیومس‘ پانی پر تیرتا ہے، کیوں؟
تاریخی اور ثقافتی تاثر
شمال مشرقی ہندوستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بہنے والا یہ دریا اپنے تند و تیز بہاؤ کیلئے بھی مشہور ہے۔ ماضی میں سیلابوں اور شدید کٹاؤ کے باعث اس نے انسانی بستیوں کو نقصان پہنچایا، جس سے مقامی لوگوں کے ذہنوں میں اس کی ایک ہیبت ناک شبیہ بھی قائم ہوئی۔ سرخ مائل پانی اور طاقتور بہاؤ نے مل کر ’’خون کے دریا‘‘ کی تشبیہ کو مزید تقویت دی۔