EPAPER
Updated: March 08, 2024, 3:47 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
کئی صدیوں تک گلابی رنگ لڑکوں کیلئے مخصوص تھا مگر بیسویں صدی میں یہ ترتیب الٹ گئی اوریہ تسلیم کرلیا گیا کہ گلابی رنگ لڑکیوں کا ہے۔
گلابی رنگ شاید تمام لڑکیوں کا پسندیدہ نہ ہو اوردوسرے رنگ بھی ان کیلئے کشش رکھتے ہوں مگر دنیا بھر میں عموماً گلابی رنگ کو خواتین بالخصوص لڑکیوں سے منسوب کیا جاتا ہے اور ان کے ملبوسات اور عام استعمال کی اکثر اشیاء میں گلابی رنگ کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانوں پر آپ کو لڑکیوں کے ملبوسات میں گلابی رنگ واضح طورپر دکھائی دے گا۔ نوزائیدہ اور شیر خوار بچیوں کے زیادہ تر ملبوسات تو ہوتے ہی گلابی رنگ کے ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کے استعمال کی دوسری چیزیں، مثلاً ان کے اسکول بیگ، کاپیوں کے کور، پنسل، قلم اور اسٹیشنری کی اکثر چیزوں میں گلابی رنگ زیاد ہ نظر آئے گا۔مغربی ممالک کے اکثر گھروں میں لڑکیوں کے کمروں میں گلابی پینٹ کیا جاتا ہے اور اس کمرے کا فرنیچر اور روزمرہ ضرورت کی دوسری اشیاء بھی گلابی یا اس کے ملتے جلتے شیڈز کی ہوتی ہیں۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ لڑکیوں کیلئے گلابی رنگ کیوں مخصوص ہے؟
صدیوں تک نیلا رنگ لڑکیوں کیلئےخاص تھا
کئی سوسال تک نیلے کو لڑکیوں اور گلابی کو لڑکوں کا رنگ سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجوہات کافی دلچسپ ہیں۔
مغربی معاشرے میں اس کی کڑیاں قبل از مسیح کے دور سے ملتی ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت مریمؑ نیلالباس پہنتی تھی۔ ان سے عقیدت کے اظہار کیلئے عیسائی معاشروں میں لڑکیوں کو نیلا لباس پہنایا جاتاتھا۔ ماضی میں یہ تصور بھی عام تھا کہ چونکہ آسمان نیلا ہوتا ہے اس لئے یہ رنگ تقدس اور پاکیزگی کی علامت ہے۔ چنانچہ لوگ اپنی بچیوں کو نیلےلباس میں دیکھنا پسند کرتے تھے جبکہ ماضی میں گلابی رنگ کی کوئی اپنی علاحدہ حیثیت نہیں تھی اور اسے سرخ رنگ کے ایک شیڈ کے طورپر دیکھا جاتاتھا۔ چونکہ جنگوں میں مرد حصہ لیتے تھے اور اپنا خون بہاتےتھے جس کا اظہار وہ سرخ لباس پہن کر کرتے تھے۔ ماضی کی پینٹنگز میں اعلیٰ حکومتی عہدے داروں، فوجیوں اور معززین کے ملبوسات میں سرخ رنگ کی جھلک نمایاں طورپر دکھائی دیتی ہے۔
رنگوں کی یہ بحث کب ختم ہوئی؟
گلابی اور نیلے رنگ کی یہ بحث لگ بھگ چار عشرے تک چلی اور ۱۹۵۰ء کے قریب رنگوں کی مروجہ ترتیب الٹ گئی ۔ جس کے بعد یہ تسلیم کرلیا گیا کہ گلابی لڑکیوں اور نیلا لڑکوں کا رنگ ہے۔اس تبدیلی میں جرمن نازیوں نے غیر دانستہ طورپر اہم کردار ادا کیا اور ۱۹۵۰ء کے لگ بھگ ریڈی میڈ ملبوسات کی کمپنیوں نے لڑکیوں کے لباس ڈیزائن کرتے ہوئے گلابی رنگ کو ترجیح دینی شروع کردی۔
بچیوں کے استعمال کی چیزیں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی اس جانب راغب ہونے لگیں اور دھیرے دھیرے اس تصور کو تقویت ملنی شروع ہوئی ۔اس کے بعد کے برسوں میں گلابی رنگ نے تقربیاً دو ہزار سال سے مروج نیلے رنگ کو نکال کر دنیا بھر میں قبولیت اور مقبولیت کی سند حاصل کرلی۔