• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیند آتے ہی اردگرد کی آوازیں کم سنائی دینے لگتی ہیں، کیوں؟

Updated: September 26, 2026, 9:49 PM IST | Mumbai

نیند کے ابتدائی مرحلے میں انسان اردگرد کی آوازیں کچھ حد تک محسوس کرتا ہے، لیکن گہری نیند میں دماغ بیرونی آوازوں پر کم ردِعمل دیتا ہے۔

The sounds do not cease the moment one falls asleep; rather, the brain begins to attach less importance to them. Image: INN
نیند آتے ہی آوازیں ختم نہیں ہوتیں، دماغ انہیں کم اہمیت دینے لگتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کا جسم اور دماغ دن بھر مختلف آوازوں، مناظر اور محرکات کو محسوس کرتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب رات کو ہم نیند کی آغوش میں جانے لگتے ہیں تو ہمارے اردگرد کی دنیا جیسے آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگتی ہےاورمعمولی آوازیں سنائی دینا کم ہوجاتی ہیں، کیوں ؟
کان کام کرنا بند نہیں کرتے
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نیند آتے ہی ہمارے کان کام کرنا بند کر دیتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ نیند کے دوران بھی آواز کی لہریں کان کے پردے تک پہنچتی ہیں اور سماعت کا نظام کام کرتا رہتا ہے۔ البتہ ان آوازوں کو دماغ جس انداز سے پروسیس اور شعوری طور پر محسوس کرتا ہے، وہ بدل جاتا ہے اسی لئے کبھی کبھی ہمیں نیند میں بھی کسی آواز کا احساس ہوتا ہے مگر ہم اس پر مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ 
دماغ غیر ضروری آوازوں کو نظراندازکرتا ہے
نیند کے ابتدائی مرحلے میں دماغ بیرونی محرکات، خصوصاً معمولی اور مسلسل آوازوں، کیلئے اپنی حساسیت کم کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پنکھا مسلسل ایک ہی رفتار سے چل رہا ہو تو کچھ دیر بعد اس کی آواز تقریباً محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دماغ اسے ایک غیر اہم اور مستقل محرک سمجھ کر اس پر کم توجہ دیتا ہے۔ نیند گہری ہونے کے ساتھ یہ عمل مزید نمایاں ہوجاتا ہے جس کے باعث اردگرد کی آوازیں شعوری آگاہی تک نہیں پہنچ پاتیں۔

یہ بھی پڑھئے: چاند ساتھ ساتھ چلتا محسوس ہوتا ہے، کیوں؟

دماغ کا ’’فلٹر‘‘ زیادہ مؤثر ہوجاتا ہے
نیند کے دوران دماغ مکمل طور پر بیرونی دنیا سے کٹ نہیں جاتا بلکہ ایک طرح کا حفاظتی نظام برقرار رکھتا ہے۔ ہمارا دماغ مختلف آوازوں میں فرق کرتا ہے اور ہر آواز کو یکساں اہمیت نہیں دیتا۔ عام، مانوس اور کم شدت والی آوازیں اکثر شعور کو بیدار نہیں کرتیں جبکہ اچانک، تیز یا غیر معمولی آواز دماغ کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گہری نیند میں بھی اچانک دروازہ زور سے بند ہونے، الارم بجنے یا کسی غیر معمولی آواز سے ہماری آنکھ کھل سکتی ہے۔ 
نیند کے مراحل اورسماعت کی حساسیت
نیند ایک ہی جیسی حالت نہیں ہوتی بلکہ اس کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ نیند کے ابتدائی مرحلے میں انسان اردگرد کی آوازیں کچھ حد تک محسوس کرتا ہے، لیکن گہری نیند میں دماغ بیرونی آوازوں پر کم ردِعمل دیتا ہے۔ 
پھر ہمارا نام سن کر آنکھ کیوں کھل جاتی ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوئے ہوئے انسان کا دماغ بعض معنی خیز آوازوں پر اب بھی خاص ردِعمل دے سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی نیند میں ہو اور قریب سے اس کا نام پکارا جائے تو اس کے بیدار ہونے کا امکان کسی معمولی پس منظر کے شور کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہوا کہ نیند میں دماغ مکمل طور پر بیرونی دنیا سے بے خبر نہیں ہوتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK