علامہ اقبال اور اُن کی شاعری سے آپ واقف ہیں مگر کتنا؟

Updated: November 05, 2021, 7:30 AM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

اگر آپ علامہ اقبال کی شاعری کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ لفظ ’خودی‘ کا استعمال بار بار ہوا ہے۔ اسی طرح لفظ ’شاہین‘ بھی کئی بار استعمال ہوا ہے۔ آئیے انہیں سمجھتے ہیں ۔

Javed Manzil
جاوید منزل۔

اُردو اسکولوں کا کوئی طالب علم ایسا نہیں ہوگا جو علامہ اقبال کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ طلبہ، علامہ اقبال کی نظمیں بچپن سے پڑھتے آئے ہیں مگر شاعر مشرق کو زیادہ تر طلبہ اُن چند نظموں ہی کے حوالے سے جانتے ہیں جو اُنہوں نے ابتدائی جماعتوں کے نصاب میں پڑھی ہیں مثلاً ایک مکڑا اور مکھی، پرندے کی فریاد، ایک پہاڑی اور گلہری، ہمالہ اور ترانہ ٔ ہندی (سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا)۔ جو لوگ اُردو سے بی اے یا ایم اے کرتے ہیں اُن کے نصاب میں تو اقبال موجود ہوتے ہیں مگر جو لوگ بی اے، ایم اے نہیں کرتے اُن کے مضامین بدلتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب اُن کے نصاب میں اُردو زباندانی کا مضمون نہیں رہ جاتا۔ اس طرح وہ اقبال کی دیگر بلند پایہ نظموں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اُنہوں نےبڑوں کیلئے لکھی ہیں مثلاً شکوہ، جواب شکوہ، روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے، دُعا (جو مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)، طلوع اسلام، ابلیس کی مجلس شوریٰ، ساقی نامہ اور دیگر۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ طلبہ کسی بھی شعبے میں داخلہ لیں ، اُنہیں اقبال سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھنا چاہئے اور ہفتے دس روز میں دو گھنٹے نکال کر اقبال کی کسی ایک نظم کو پڑھنے، مشکل الفاظ کے معنی کو سمجھنے اور پوری نظم کے مفہوم تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ 
اقبال نے اپنی شاعری میں جس لفظ کو بار بار برتا ہے وہ ہے ’’خودی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ خودی کیا ہے؟ آئیے اس کو سمجھتے ہوئے چلیں ۔
خودی کیا ہے؟
لغت میں خودی کا معنی ہے اپنا آپ، اپنی ذات، غرور، تکبر اور انانیت۔ مگر اقبال نے اس لفظ (خودی) کو خود شناسی، معرفت نفس اور عزت نفس کے معنیٰ میں استعمال کیا ہے چنانچہ بعض لغات میں یہ معنی بھی درج کئے گئے ہیں ۔ آسان زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ اقبال کے کلام میں لفظ خودی کا استعمال خودداری، غیرت مندی اور دوسروں کا سہارا لینے کے بجائے اپنی دُنیا آپ پیدا کرنے کے معنی میں ہوا ہے۔ اقبال کا نظریہ تھا کہ خودی انسان کی انفرادی زندگی کی اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے یعنی غیرت مندی اور خودداری کے ذریعہ انسان اپنی زندگی کو اس طرح بنا اور سنوار سکتا ہے کہ اسے اپنے آپ پر فخر ہو اور وہ دوسروں کی نظر میں بھی قدرومنزلت پائے۔ خودی نام ہے خود پر بھروسہ کرنے کا۔ خودی نام ہے خود اعتمادی کا۔ خودی نام ہے اپنی اصل قدروقیمت کو پہچاننے کا۔ خودی نام ہے اُس جدوجہد کاجس میں انسان دوسروں پر تکیہ کئے بغیر اپنی کوششوں سے کامیابی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ خودی دوسروں پر تکیہ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ خودی، خود پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ اقبال کا مشہور شعر ہے کہ:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اس کا مفہوم سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنے اندر اتنی خود اعتمادی، غیرت، خود داری اور مسلسل جدوجہد کا جذبہ پیدا کرے کہ وہ اللہ سے کامیابی کی دُعا کرے نہ کرے، ان خصوصیات کے پیش نظر رب العالمین خود اُس بندے سے پوچھے کہ بتا تو‘ کیا چاہتا ہے، تیری عرض کیا ہے اور تجھے کس طرح نوازا جائے۔ یہ منزل اُس وقت آئے گی جب بندے کی خودی اعلیٰ مقام پر پہنچے گی۔ 
 اقبال کو کامل یقین تھا کہ اس کرۂ ارض کا انسان فلسفۂ خودی پر عمل کرلے تو ایسی ایسی بلندیوں کو چھو ‘ سکتا ہے کہ جس کا اُس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ یہی فلسفہ تھا کہ اقبال نے احساس خودی کو بیدار کرنے کی کوشش کی اور ہر وہ شخص جو اُن کی شاعری پڑھ رہا ہے یا سن رہا ہے اُس تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی کہ اگر کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہو تو خودی کو اپنا زیور بنالو۔ اقبال کا کہنا تھا کہ اگر خودی موجود ہے تو انسان فقیری میں بھی شہنشاہی کرسکتا ہے اورگہرے سے گہرے دریا کو عبور کرسکتا ہے۔ ذیل میں اقبال کے چار مصرعے درج کئے جاتے ہیں ۔ بے شک انہیں سمجھنے کیلئے ان پر غور کرنا ہوگا مگر اس مضمون میں آپ نے جو کچھ بھی پڑھا اُس کی وجہ سے ممکن ہے کہ ان مصرعوں کا سمجھنا آسان ہوجائے:
خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی
نہیں ہے سنجروطغرل سے کم شکوہ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر
 ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان چار مصرعوں کے مشکل الفاظ کے معنی تلاش کریں اور پھر تمام مصرعوں کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اس سے اقبال کا ’’خودی‘‘ کتنا بااثر ہے اور اس سے کیا کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں ، اُنہیں سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ 
 اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ اقبال کا پیغام یا زندگی کا فلسفہ کیا ہے تو آپ بلا جھجک جواب دے سکتے ہیں کہ اقبال کا پیغام خودی ہے، اقبال کا فلسفہ خودی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر فلسفۂ خودی کو سمجھ لیا جائے تو اقبال کی شاعری کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا۔ 
اقبال کا ’شاہین‘ کیا ہے؟
 شاہین کا معنی کیا ہے آپ جانتے ہیں ۔ لغت میں درج ہے: ’’شاہین ایک سفید رنگ کا شکاری پرندہ ہے یا اعلیٰ قسم کا بلند پرواز ’باز‘ ہے۔ اقبال نے کوشش، جدوجہد اور زندگی میں حرکت اور عمل کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے ’شاہین‘ کو بطور مثال پیش کیا کہ جس طرح شاہین نامی پرندہ ہے کہ ہمیشہ محو پرواز رہتا ہے، کبھی آشیانہ نہیں بناتا، بالکل اسی طرح انسان کو بھی حرکت و عمل پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ یہ دو اشعار ذہن نشین کیجئے جن میں اقبال نے ’شاہین‘ کو حرکت و عمل کے سب سے بڑے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے:
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں میں 
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
پہلے شعر میں اقبال نے شاہین کی مثال دی کہ وہ مسلسل پرواز کرتا ہے اور ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان کی طرف مائل پرواز ہوجاتا ہے، اس لئے انسان کو کسی ایک آسمان (کامیابی) پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ ایک کے بعد دوسری کامیابی کی جانب بڑھنا چاہئے۔ دوسرے شعر میں بتایا کہ شاہین پرندوں کی دُنیا کا درویش ہے۔ دیگر پرندے اپنا آشیانہ بناتے ہیں مگر شاہین آشیانہ نہیں بناتا (آرام نہیں کرتا) کیونکہ وہ مسلسل حرکت میں رہنا پسند کرتا ہے۔ 
 اقبال نے خود اپنی ایک تحریر میں شاہین کو علامت کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ بتائی ہے:’’شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ، اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں:(۱)خوددار اور غیرت مند ہے کہ کسی اور کے ذریعہ مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ (۲) بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا۔ (۳) بلند پرواز ہے۔ (۴) خلوت پسند ہے، اور (۵)اس کی نگاہ بہت تیز ہے ۔ ‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ کیا پیغام دیا ہے۔ یہ حرکت و عمل کا پیغام ہے، خود انحصاری کا پیغام ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK