آپ مصنوعی ذہانت سے واقف ہیں ، مگر اثرات؟

Updated: December 11, 2020, 5:40 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ایپل کی سیری ہو، گوگل کی گوگل اسسٹنٹ ہو، امیزون کی الیگزا ہو یا مائیکرو سافٹ کی کورٹانا، یہ تمام ہی اے آئی (آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت) اب انسانوں کی زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں ۔ انسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔بینک، دفاتر، ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹس حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں بھی اب مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا جارہا ہے۔ آج ہمارے اسمارٹ فون ، مصنوعی ذہانت کے سبب اتنے ذہین ہوگئے ہیں کہ وہ چند دنوں میں فون میں کی جانے والی ہماری سرگرمیوں اور ترجیحات کو سمجھ لیتےہیں اور انہی کے مطابق ہمیں مشورہ دیتے ہیں۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ چند برسوں میں تکنالوجی کے شعبے میں کئی اہم ایجادات اور دیافتیں ہوئی ہیں ۔انہی میں سے ایک مصنوعی ذہانت (آر ٹی فیشیل انٹیلی جنس یا اے آئی) ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک خود کار نظام ہے۔ خیال رہے کہ دنیا میں جتنی بھی ایجادات اور دریافتیں ہوئی ہیں ، ان میں سے بیشتر خودکار نظام ایجاد کرنے کے دوران ہوئی ہیں ۔اے آئی، کمپیوٹر سائنس کا ایک اہم شعبہ ہے جس میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ آج بہت سے کام اے آئی ہی کی مدد سے کئے جارہے ہیں ۔ اس نظام کو روبوٹس میں نصب کرکے اب انہیں مزید ایڈوانسڈ اور مؤثر بنایا جارہا ہے۔ ایک ایسی ہی روبوٹ ’’صوفیہ‘‘ ہے جس کے بارے میں آپ نے ضرور پڑھا ہوگا۔ صوفیہ، اے آئی اور روبوٹ کا شاہکار امتزاج ہے۔ 
 کیا آپ جانتے ہیں کہ آج دنیا کی متعدد کمپنیاں اے آئی کی مدد سے اپنے بہت سے کام ناجام دے رہی ہیں اور صارفین کیلئے بھی انہیں متعارف کروارہی ہیں ۔ ایسے ہی چند اے آئی، ایپل کی سیری، گوگل کی گوگل اسسٹنٹ، امیزون کی الیگزا اور مائیکرو سافٹ کی کورٹانا ہیں ۔ علاوہ ازیں ، بیشتر ایپ ایسے ہیں جن میں آپ اپنی آواز کی مدد سے شاپنگ وغیرہ کرسکتے ہیں یا کہیں جانے کیلئے بکنگ وغیرہ بھی کرسکتے ہیں ۔ 
مصنوعی ذہانت کیا ہے؟
 مصنوعی ذہانت سے مراد وہ سافٹ ویئر اور مشینیں ہیں جو انسانوں کی طرح سوچنے اور ان کے عمل کو نقل کرنے کیلئے بنائی گئی ہیں ۔ یہ اصطلاح ہر اس مشین پر لاگو ہوتی ہے جو انسان کے دماغ سے وابستہ خصلتوں جیسے سیکھنے اور مسئلہ حل کرنے کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 
 برسوں کی محنت کی بعد سائنسدانوں نے کمپیوٹروں اور مشینوں میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت پیدا کردی ہے جس سے وہ انسانوں کی طرح سوچنے اور عمل کرنے کے قابل بن گئی ہیں ۔
اے آئی کے انسانی زندگی پر اثرات
  موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو ایک انقلاب کہا جارہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہےکہ اس ٹیکنالوجی نے کمپیوٹر کو اس قابل بنا دیا ہے کہ اب وہ انسانوں سے بہتر انداز میں بیماریوں کی تشخیص یعنی تحقیق بھی کررہا ہے اور گاڑیاں خودکار طریقوں سے چلائی جارہی ہیں ۔ 
 آ ج ہمارے اسمارٹ فون اتنے ذہین ہوگئے ہیں کہ وہ اس پر تلاش کی جانے والی چیزوں ، شاپنگ کی لسٹ، ہمارے پسندیدہ ایپس اور دیگر ترجیحات کو چند دنوں میں یاد کرلیتے ہیں ، اور اس کے مطابق ہماری اسکرین پر اشتہارات نمودار ہوتے ہیں ۔
 گوگل ٹرانسلیٹ بھی اے آئی ہی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ یہ ابھی اتنا قابل اعتماد نہیں ہے لیکن اس میں تیزی سے تبدیلیاں کی جارہی ہیں ، اور وہ پہلے سے بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ کسی دوسرے ملک میں سیاحت کی غرض سے جانے پر یا کسی دوسری زبان بولنے والے شخص سے ہم گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے آسانی سے بات چیت کر سکیں گے۔ 
 اب روبوٹس میں بھی اے آئی نصب کیا جارہا ہے جس کی وجہ یہ ہےکہ آئندہ چند برسوں میں وہ یقیناً مشین ہوں گے لیکن انسانوں کی طرح سوچ سکیں گے اور انہی کی طرح کام کریں گے۔
 صحت کے شعبے میں بھی اے آئی کی مدد لی جارہی ہے۔ آج آپریشن کے دوران ڈاکٹر مشینوں کی بھی مدد لیتے ہیں ، مگر اب انہی مشینوں کو خودکار کیا جارہا ہے۔ امریکہ اور نیدرلینڈس کے چند اسپتالوں میں اے آئی تکنیک سے لیس روبوٹس نے چند چھوٹے آپریشن کامیابی سے کئے ہیں ۔اگر ایسا ممکن ہوگیا تو آپریشن کا خرچ کم کیا جاسکتا ہے۔
 ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کمپنیاں اے آئی کو اپنا لیں گی تو صرف امریکہ سے ۷۵؍ ملین ملازمین ختم ہوجائیں گی۔ تاہم، ۱۳۳؍ ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
 اپنے اسمارٹ فون کو ہدایت دے کر ہم اے آئی اسسٹنٹ سے اپنی شاپنگ لسٹ بنواسکتے ہیں نیز اس کے ذریعے آرڈردے کر ادائیگی کیلئے بھی کہہ سکتے ہیں ۔
 اسمارٹ فون میں موجود اے آئی ہماری موسیقی اور فلموں کی عادتوں کو سمجھ کر ہمیں اسی قسم کی موسیقی اور فلموں کے مشورے بھی دے رہا ہے۔
 اے آئی ایسے لوگوں کی بھی مدد کررہا ہے جو پڑھے لکھے نہیں ہیں ۔ اب انہیں صرف اپنے فون پر اے آئی اسسٹنٹ کو حکم دینا ہوتا ہے اور سارا کام اسسٹنٹ کر دیتی ہے، جیسے الارم سیٹ کرنا، کال کرنا، پیغام بھیجنا، انٹرنیٹ سرفنگ، ویڈیو تلاش کرنا وغیرہ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب انسان اُس زبان میں اسسٹنٹ کو ہدایت دے سکتا جو اسے صحیح طریقے سے آتی ہے۔
اے آئی کے متعلق چند حیرت انگیز حقائق
 روبوٹس کو اے آئی کی مدد سے پیشین گوئی کیلئے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے۔ 
مصنوعی ذہانت انسانی ہونٹوں کی حرکت کو انسانوں سے زیادہ بہتر طور پر پڑھ سکتی ہے۔ یہ بہتر طریقے سے مطالعہ کر سکتی ہے، قانونی معاہدوں کو بہتر طور پر لکھ سکتی ہے ، حتیٰ کہ یہ گیت بھی لکھ سکتی ہے۔
اے آئی اپنے طور پر ایک ذہین اورایڈوانس مشین بھی بناسکتا ہے۔ 
 اب لوگ مشینوں اور روبوٹس سے زیادہ جذباتی لگاؤ رکھنے کی وجہ سے دوسرے انسانوں سے کم بات چیت کر رہے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے اسمارٹ فونز ہیں ۔ 
مصنوعی ذہانت انسانوں کو حقائق سے دور کر سکتی ہے۔ موت، انسانی زندگی کی بڑی حقیقت ہے لیکن اب مصنوعی ذہانت نے ایک اور آپشن بھی فراہم کر دیا ہے یعنی مرنے والے لوگوں کی سیمولیشن اب مصنوعی ذہانت سے تیار کی جا رہی ہیں مگر اس میں ابھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔
بیشتر اے آئی، خاتون (یعنی خاتون کی آواز) ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ خاتون کی آواز مردوں اور خواتین دونوں ہی کیلئے پرکشش ہوتی ہے۔
مستقبل میں اے آئی سے بنائے گئے روبوٹس کو شہریت بھی دی جائے گی اور انسانوں ہی کی طرح ان کے پاسپورٹ بھی بنیں گے۔
جیف بیزوس کے مطابق آن لائن شاپنگ کے دوران ہر شخص چند ایسی مصنوعات ضرور خریدتا ہے جن کا مشورہ اسے اے آئی دیتا ہے، اوراس شخص کو اس تعلق سے معلوم بھی نہیں ہوتا۔
متعدد تحقیقات میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اے آئی انسانوں جتنا ذہین کبھی نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK