Inquilab Logo

یوپی ایس سی امتحان میں مسلم طلبہ کی نمایاں کامیابی کا پیغام :ستاروں سےآگے جہاں اور بھی ہیں

Updated: April 21, 2024, 4:18 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

سول سروسیز کے امتحان میں برسوں بعد مسلم طلبہ کو اچھی کامیابی ملی ہے، اس سے قبل ۲۰۱۶ء کے ۱۰۹۹؍ کامیاب امیدواروںمیں مسلم طلبہ کی تعداد ۵۲؍ تھی۔

There is no lack of talent among Muslim students, there is only a need to instill and nurture confidence in them. Photo: INN
مسلم طلبہ میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے، بس ضرورت ہے ان میں اعتماد پیدا کرنے اور اسے پروان چڑھانے کی۔ تصویر : آئی این این

گزشتہ دنوں یوپی ایس سی امتحان کے نتائج ظاہر ہوئے تو حبس زدہ ماحول میں ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کااحساس ہوا۔ ایسا لگا کہ اب ہمارے نوجوانوں نے بھی یہ عزم کرلیا ہے کہ ستاروں سے آگےجہاں اور بھی ہیں ۔ ایک طویل عرصے بعد سول سروسیز کے مشکل امتحان میں ۵۰؍ سے زائد مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی کامیابی کی شرح ۵؍ فیصد کے اوپر پہنچی ہے۔ یوپی ایس سی کی جانب سے جو نتائج ظاہر کئے جاتےہیں ، ان میں مذہبی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی، اسلئے صاف صاف پتہ نہیں چلتا کہ مسلم امیدواروں کی تعداد کتنی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سےالگ الگ فہرستیں وجود میں آئی ہیں جن میں ۵۰؍ تا ۵۳؍ نام شامل ہیں۔ کئی طلبہ کے نام ایسے ہیں جن سے ان کے مسلم ہونے، نہ ہونے کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم ان کی تعداد ۵۰؍ ہی مان کر چلیں تو مسلم طلبہ کی کامیابی کا تناسب کم و بیش ۵؍ فیصد تک پہنچتا ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۶ء میں ۱۰۹۹ء امیدواروں کاانتخاب ہوا تھا جن میں مسلم طلبہ کی تعداد۴ء۷۳؍ فیصد کے ساتھ ۵۲؍ تھی۔ اسی طرح ۲۰۱۹ءکے بیچ میں ۸۲۹؍امیدوار منتخب ہوئے تھے جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد ۵ء۳؍ فیصد کے ساتھ۴۴؍ تھی۔ اس کے بعد یا اس سے پہلے اس باوقارامتحان میں مسلمانوں کی کامیابی کی شرح ۳؍ سے۴؍ فیصد ہی کے درمیان رہی ہے۔ 
 ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلمانوں کو یاسیت کے غارمیں دھکیلنے کی پوری کوشش کی جارہی ہو، اس کیلئے طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہوں ، ’یوپی ایس سی جہاد‘ کی اصطلاح گھڑ کر ان کے حوصلے توڑے جارہے ہوں ، ایسے میں ۱۰۱۶؍ امیدواروں میں ۵۰؍ سے زائد مسلمانوں کی کامیابی، یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ کامیابی کی یہ شرح ملک میں ہماری مجموعی آبادی کی شرح سے بہت کم ہے، اس کے باوجود یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ اس امتحان میں ہمارے طلبہ کی کم تعداد کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اس امتحان میں شرکت ہی کم کرتے ہیں ۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اس کمیٹی کے ایک اہم رکن سید حامد سے اس موضوع پر راقم کی گفتگو ہوئی تھی۔ کمیٹی کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’اس کی رپورٹ سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو لیکن اتنا فائدہ تو ضرور ہوگا کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کا علم ہوجائے گا۔ اس صورت میں ہم اپنی ان کمزوریوں کو دورکرسکیں گے۔ ‘‘ دوران گفتگو انہوں نے یہ بات بھی کہی تھی کہ یوپی ایس سی کے امتحان میں گرچہ ہماری کامیابی کی شرح ۳؍ فیصد کے آس پاس ہی ہےلیکن اس کی وجہ ہمارے طلبہ میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اس امتحان میں ہماری شرکت کی شرح۳؍ فیصد سے بھی کم ہے اور امید ظاہر کی تھی کہ اب جبکہ اس بات کااندازہ ہوگیا ہے، ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنے طلبہ کو اس امتحان میں شرکت کیلئے آمادہ کریں اور اس کی تیاری کیلئے ان کی رہنمائی کریں ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اب اس سلسلے میں اچھی پیش رفت ہورہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: موجودہ حالات میں مسلمان انفرادی طور پر زکوٰۃ کے اجتماعی نظم کا حصہ کیسے بنیں؟

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ۱۳؍ لاکھ سے زائد طلبہ نے یوپی ایس سی کے امتحان میں شرکت کی تھی جن میں سے ۱۴؍ ہزار ۶۲۴؍ طلبہ ’مینس‘ کیلئے منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں انٹرویو کے بعد ۱۰۱۶؍امیدوار کامیاب قرار دیئے گئے۔ کامیاب مسلم امیدواروں میں ۱۶؍ لڑکیاں ہیں ۔ اہم بات ہے کہ ٹاپ۱۰۰؍ میں ۴؍ مسلم امیدواروں نے جگہ حاصل کی ہے اور یہ چاروں ہی قوم کی ہونہار بیٹیاں ہیں۔ ہمارے طلبہ کی اس کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری قوم میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے، بس ضرورت انہیں پروان چڑھانے کی ہے۔ اس مشکل ترین امتحان میں کامیاب ہونے والے بیشتر امیدواروں نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئےیہی بات کہی ہے کہ مایوسی کو انہوں نے کبھی اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ اس سے قبل نیٹ کے امتحان میں بھی ہمارے طلبہ نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ میڈیکل میں داخلہ پانے کے خواہش مندوں کیلئے ہونے والا انٹرنس امتحان (نیٹ) بھی ایک مشکل امتحان ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۱۰؍ فیصد سے زائد مسلم طلبہ میڈیکل کالج میں داخلے کے اہل قرار پائے تھے۔ 
 ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے طلبہ کو اس جانب راغب کریں ، انہیں وسائل فراہم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔ ہم اپنے طلبہ کو بتائیں کہ ایک یادو بار میں کامیاب نہیں ہوئے تو ہمت نہ ہار جائیں بلکہ جدوجہد جاری رکھیں کہ یہ امتحان جہد مسلسل ہی کا نام ہے۔ ہم اپنے طلبہ کو بتائیں کہ ہمارا تعلق ایک اقلیتی طبقے سے ہے اور کوئی بھی اقلیت اُس وقت تک سرخرو نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ اکثریتی فرقے سے سوا کام نہ کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کیا جے این یو کےسابق طلبہ لیڈر اِس بار لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کرکےتاریخ رقم کر پائیں گے؟

ٹاپ ٹین میں شامل طلبہ کی کامیابی کی مختصر روداد
آدتیہ سریواستو (رینک۔ ۱)
 یوپی ایس سی امتحان میں ٹاپ کرنے والے آدتیہ سریواستو آئی آئی ٹی کانپور سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویٹ ہیں ۔ بی ٹیک کے بعد انہوں نے ایم ٹیک بھی کیا ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے ۲۳۶؍ رینک کے ساتھ امتحان پاس کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں آئی پی ایس میں جگہ ملی تھی۔ بہتر رینک کیلئے انھوں نےایک بار پھرشرکت کی اور پہلا رینک حاصل کیا۔ 
انی میش پردھان(رینک۔ ۲)
  انی میش کا تعلق اودیشہ سے ہے۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، راورکیلا سے کمپیوٹر سائنس میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ مقام اپنی پہلی کوشش ہی میں حاصل کرلیا ہے۔ ان کی عمر ۲۴؍ سال ہے۔ 
 ڈی اننیا ریڈی (رینک۔ ۳)
 دہلی یونیورسٹی سے جغرافیہ میں گریجویٹ ہیں ۔ ۲۰۲۱ء میں گریجویشن کی تکمیل کے بعد انہوں نے حیدرآباد میں یو پی ایس سی امتحانات کی تیاری شروع کی تھی۔ اس طرح دو سال کی کوشش کے بعد انہوں نے امتحان دیا اور پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی۔ 
پی کے سدھارتھ رام کمار (رینک۔ ۴)
 کیرالا سے تعلق رکھنے والے سدھارتھ کیرالا یونیورسٹی سے وہ آرکیٹیکچر میں گریجویٹ ہیں ۔ یہ بھی گزشتہ سال کامیاب ہوئے تھے لیکن آئی پی ایس میں جگہ ملنے سے مطمئن نہیں تھے۔ 
روحانی سریش (رینک۔ ۵)
  گروگرام سے تعلق رکھنے والی روحانی بھی آئی پی ایس ہیں۔ انہوں نے یہ پوزیشن اپنی چھٹی کوشش میں حاصل کی ہے۔ ان کے والد سریش نے اس لگاتار کوشش کیلئے اپنی بیٹی کے حوصلوں کی تعریف کی ہے۔ روحانی دہلی یونیورسٹی کے سینٹ سٹیفن کالج سے اکنامکس میں گریجویٹ ہیں اوراندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی سے اکنامکس میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کی ہے۔ 
 سرشٹی ڈباس (رینک۔ ۶)
 دہلی کی رہنے والی سرشٹی نے پولیٹیکل سائنس میں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں ۔ وہ فی الحال ریزرو بینک آف انڈیا کے ممبئی دفتر میں ہیومن ریسورس آفیسر کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے سماجی انصاف اور اختیارات کی وزارت میں بھی کام کیا ہے۔ ان کے والد بھی دہلی پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھے۔ وہ اپنی پہلی کوشش میں ہی ٹاپ۱۰؍ میں جگہ بنا نے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 
 انمول راٹھور (رینک۔ ۷)
 جموں کشمیر کی رہنے والی انمول راٹھور نے گجرات کی نیشنل لاء یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ انہوں نے تیسری کوشش میں یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ فی الحال جموں کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے تحت آفیسر کے طور پر تربیت حاصل کر رہی ہے۔ 
آشیش کمار (رینک۔ ۸)
 آشیش کمار نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگپور سے دُہری ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ اپنی پانچویں کوشش میں یو پی ایس سی کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ وہ کھانا پکانے کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں ۔ 
نوشین (رینک۔ ۹)
 نوشین نے اپنی چوتھی کوشش میں یہ امتحان پاس کیا ہے۔ گورکھپور کی رہنے والی نوشین نے دہلی یونیورسٹی کے خالصہ کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ ان کے والد پرسار بھارتی میں ڈائریکٹر ہیں جبکہ والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ 
ایشوریم پرجاپتی (رینک۔ ۱۰)
 ایشوریم پرجاپتی نےنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اتراکھنڈ سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی ہے۔ پرجاپتی نے دوسری کوشش میں امتحان پاس کیا ہے۔ مہاراج گنج، اترپردیش کے رہنے والی ایشوریم پرجاپتی نے رانی لکشمی بائی سینئر سیکنڈری اسکول سے اسکول کی تعلیم مکمل کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK