نماز جمعہ کے وقت مشتبہ خود کش بمبار نےامام بارگاہ کے داخلی دروازے پر خود کو بم سے اڑا لیا، سو سے زائد افرادزخمی۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 10:24 AM IST | Islamabad
نماز جمعہ کے وقت مشتبہ خود کش بمبار نےامام بارگاہ کے داخلی دروازے پر خود کو بم سے اڑا لیا، سو سے زائد افرادزخمی۔
ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں ۳۱؍ افراد جاں بحق اور۱۶۹؍ افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔ امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی آواز سن کر مسجد کے اندر بھگدڑ مچ گئی جبکہ کئی افراد زمین پر گر پڑے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ مسجد کے داخلی دروازے پر ہوا، جب مشتبہ خود کش بمبار کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکہ کرکے اڑا لیا۔ اس کے فوراً بعد لوگ جان بچانے کے لئے باہر کی طرف دوڑ پڑے۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی اور بیشتر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کا تعین تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔ پولیس اور سیکوریٹی اداروں نے مسجد اور اس کے اطراف کے علاقے کو سیل کر دیا، جبکہ شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اورفارنسک ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مصدقہ معلومات پر اعتماد کریں۔
اسلام آباد پولیس کےترجمان تقی جواد نے بتایا کہ اس دھماکے میں مرنے والوں میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے ایک کزن بھی شامل ہیں جبکہ ان کے چچا زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چودھری نے جمعہ کو ترلائی میں امام بارگاہ و جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انتظامیہ کے علم میں ایک بج کر۴۲؍ منٹ پر آیا۔ طلال چودھری نے بتایا کہ اس واقعے میں ۳۱؍ افراد کو موت ہوئی، جبکہ سو سے زائدزخمی ہیں۔ یہ ایک خودکش دھماکہ تھا۔ حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھالیکن اس کا افغانستان کتنی مرتبہ جانا ہوا؟ وہ تفصیلات آ چکی ہیں۔
آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتالوں کے عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تفتیش کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاکستانی فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈپارٹمنٹ فعال ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمی ۲۳؍ افراد کو پمز اور۱۱؍کو پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج معالجہ کی نگرانی کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے ترجمان مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔