بہادری کا تمغہ

Updated: October 30, 2021, 2:01 PM IST | Saalak Jamil Brad

مرزا صاحب ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ ڈاکٹر نے انہیں سیر کرنے کی صلاح دی۔ اس پر عمل کرتے ہوئے وہ کھانا کھا کر گھر سے باہر نکل پڑے۔ سیر کرتے وقت انہیں ’چور... چور‘ کا شور سنایا دیا۔ مرزا صاحب نے چور کو پکڑنے کا عزم کر لیا مگر....

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

رات کے تقریباً ۹؍ بج رہے تھے پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں مرزا عنایت اللہ جنہیں لوگ صرف مرزا صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ بلیک ٹریک سوٹ پہنے ہوئے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔ ’’چچا جان! السلام علیکم....‘‘ ارشد نام کے ایک لڑکے نے مرزا جی کو سلام کیا۔ ’’میری گھڑی میں تو رات کے ۹؍ بج رہے ہیں۔‘‘ مرزا جی کو ٹریک سوٹ پہنے ہوئے دیکھ کر ارشد نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ’’ہاں برخور دار! گھڑی میرے پاس بھی ہے.... ارے بیوقوف! اگر رات کا کھانا کھانے کے بعد کچھ چہل قدمی کر لی جائے تو صحت اچھی رہتی ہے اور آدمی ایک دم فٹ رہتا ہے۔‘‘ مرزا جی نے محبّت بھرے غصے میں کہا۔ ’’چچا جان! تبھی تو آپ کی فٹنس لاجواب ہے۔‘‘ ارشد نے مرزا جی کے گودام جیسے پیٹ پر ہلکی سی چپت مار کر کہا۔ ’’ہوں....‘‘ ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور وہ گردن مارتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلے تھے کہ ایک اور آواز نے ان کے قدم روک دیئے۔
 ’’السلام علیکم.... چچا جان!‘‘ ایک نوجوان نے مرزا جی کو سلام کیا۔ ’’وعلیکم السلام....‘‘ مرزا جی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’چچا جان! کہیں ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ ہے؟‘‘ نوجوان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیا.... مَیں تمہیں شکل سے ڈاکو نظر آتا ہوں؟‘‘ مرزا جی مسخرانہ انداز میں اپنا جائزہ لیتے ہوئے بولے۔ ’’کسی کے منہ پر تھوڑی لکھا ہوتا ہے کہ وہ ڈاکو ہے ویسے بھی آپ نے کالا ٹریک سوٹ پہن رکھا ہے اور ماشاء اللہ آپ کی رنگت کا بھی جواب نہیں۔‘‘ نوجوان نے اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ مرزا جی نے اسے ترچھی نگاہوں سے گھورا اور بغیر جواب دیئے آگے بڑھ گئے۔ مرزا جی کے ان سے بڑے سات بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے پورے محلے میں کیا، پورے علاقے میں چچا جان کے نام سے مشہور ہوگئے تھے۔ ہر کوئی انہیں چچا جان کہہ کر پکارتا۔ بڑھتے ہوئے پیٹ اور وزن کی وجہ سے وہ اکثر بیمار رہتے تھے۔ آج صبح ہی ڈاکٹر نے ان کی دوائیاں بند کرتے ہوئے سیر کرنے کی صلاح دی تھی اور ساتھ ہی وارننگ بھی دی تھی کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ زیادہ دن جی نہ پائیں گے۔ بس پھر کیا تھا۔ مرزا جی رات کا کھانا کھاتے ہی سیر کے لئے نکل پڑے۔ انہوں نے شہر سے باہر ریلوے اسٹیشن تک جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اب مرزا جی سنسان بازاروں سے ہوتے ہوئے شہر سے باہر ریلوے روڈ پر پہنچ چکے تھے۔ یہ علاقہ کافی ویران تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف کھیت تھے یا پھر بڑی بڑی فیکٹریوں کی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی عمارتیں۔ وہاں پر لگی اکا دُکا اسٹریٹ لائٹیں اندھیرے کو ہٹانے کی ناکام کوششیں کر رہی تھیں۔ وہاں کا پُرسکون ماحول اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے مرزا جی کو راحت پہنچا رہے تھے۔ اسی دوران انہیں یہ آوازیں سنائی دیں، ’’چور! چور!.... پکڑو پکڑو.... چور چور.....!‘‘
 مرزا جی نے اندازہ لگایا کہ آوازیں اسٹیشن کی طرف سے آرہی ہیں۔ وہ کچھ قدم اور آگے بڑھے تو آوازیں اور زیادہ صاف سنائی دینے لگیں۔ اگلے ہی لمحے انہیں اپنے سامنے ایک آدمی بھاگتا ہوا آتا نظر آیا۔ جس نے اپنے ہاتھوں میں کوئی چیز اٹھائی ہوئی تھی۔ شاید وہ چور تھا۔ اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر کئی آدمی شور مچاتے ہوئے دوڑے آرہے تھے۔ اندھیرے کی وجہ سے مرزا جی کو چور کا چہرہ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چور کو پکڑنے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن اچانک چور دائیں طرف کو مڑ گیا۔ اس نے مرزا جی کو دیکھ لیا تھا۔ مرزا جی رک گئے اور سوچنے لگے کہ اب کیا کیا جائے؟ فوراً ان کے ذہن میں خیال کا ایک کوندا لپکا اور وہ چور کے پیچھے ہو لئے۔ وہاں پر اسٹریٹ لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے مرزا جی نے گہری نظر سے دیکھا کہ کھیت کے اردگرد باڑھ کے طور پر لوہے کی تار لگی ہوئی ہے۔ یہ دیکھتے ہی انہوں نے اپنے دوڑنے کی رفتار تیز کر دی تاکہ تار کے اوپر سے کھیت کے اندر کودا جاسکے۔ جیسے ہی وہ کھیت کے اندر کودے، سیدھے دھڑام سے کیچڑ میں جا گرے اور بری طرح کیچڑ سے لت پت ہوگئے۔ کھیت میں بوئی ہوئی فصل کو پانی دیا ہوا تھا۔ ’’نہیں مرزا.... اُٹھ.... اُٹھ مرزا.... تمہیں اس چور کو پکڑنا ہے.... اگر تم نے یہ کارنامہ انجام دے دیا تو بس! پھر تو تمہارے وارے نیارے ہیں.... سبھی اخباروں میں تمہارے فوٹو چھپیں گے۔ بڑے بڑے لیڈروں سے انعامات اور شاباشی ملے گی.... اور پھر پورے علاقے میں کیا پورے شہر میں تمہاری بہادروں کے ڈنکے بجیں گے... یہ وقت سوچنے کا نہیں... چل جلدی اُٹھ۔‘‘ وہ ایک نئے عزم و حوصلے سے اُٹھے اور کیچڑ بنی مٹی میں گرتے پڑتے دوڑنے لگے۔ چور کو بھی کیچڑ میں چلنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ اس لئے وہ مرزا جی سے زیادہ دور نہ جاسکا تھا۔ چند لمحوں بعد دوسرے لوگ بھی کھیت تک پہنچ چکے تھے۔ کھیت کے آخر میں ایک آٹھ فٹ اونچی دیوار تھی اور چور دیوار تک پہنچ چکا تھا۔ مرزا جی مشکل سے اس سے بیس قدم پیچھے تھے۔ چور کو چوری کا سامان لے کر دیوار پر چڑھنے میں مشکل پیش آرہی تھی اور مرزا جی کو قریب آتے ہوئے دیکھ کر اُسے ڈر بھی لگ رہا تھا۔ چند لمحوں کی کوشش کے بعد اس نے مرزا جی کو غصے بھری نگاہوں سے گھورا اور سامان پھینک کر دیوار پھلانگ کر دوسری طرف کود گیا۔ لیکن بدقسمتی مرزا جی آٹھ فٹ اونچی دیوار پر چڑھ نہ سکے۔ آخر چور کا پیچھا کرنے والے بھی وہاں تک پہنچ گئے۔ وہ مرزا جی کو دیوار پر چڑھنے کی مسلسل کوشش کرتا ہوا دیکھ کر چور سمجھ بیٹھے کیونکہ چوری کا سامان بھی قریب ہی پڑا تھا بس پھر کیا تھا۔ مرزا جی پر لاتوں گھونسوں اور لاٹھیوں کی برسات شروع ہوگئی۔ وہ چلّا رہے تھے ’’ارے مجھے بہادری کا تمغہ دو.... میری عزت کرو.... تم مجھے مار کیوں رہے ہوں؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK