• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان فیصلہ کن معرکہ

Updated: January 18, 2026, 11:28 AM IST | Indor

ہندوستان اپنی مضبوط گھریلو کارکردگی سے پُر اعتماد ہےکیونکہ گزشتہ۲۰؍ برسوں میں وہ اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کے خلاف کوئی بھی ون ڈے سیریز نہیں ہارا ہے۔

The pictures are from the Holkar Stadium in Indore where the Indian and New Zealand players practiced. Photo: INN
تصاویر اندور کے ہولکر اسٹیڈیم کی ہیں جہاں ہندوستان اورنیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے پریکٹس کی۔ تصویر: آئی این این

اندور کے ہولکر کرکٹ اسٹیڈیم میں اتوار کو ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے انٹرنیشنل میں تاریخ داؤ پر لگی ہوگی۔ ہندوستان کے دورۂ نیوزی لینڈ کے اس آخری مقابلے میں مہمان ٹیم تقریباً دو دہائیوں بعد ہندوستانی سرزمین پر ون ڈے سیریز جیتنے کی نایاب تاریخ رقم کرنے کی کوشش کرے گی۔ 
سیریز اس وقت ایک ایک سے برابر ہے جس کے باعث فیصلہ کن میچ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان اپنی مضبوط گھریلو کارکردگی سے اعتماد حاصل کرنا چاہے گاکیونکہ گزشتہ۲۰؍ برسوں میں وہ اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کے خلاف کوئی بھی ون ڈے سیریز نہیں ہاراہے جبکہ اندور میں اس کا ریکارڈ بھی شاندار ہے، اندور میں ہندوستان نے ۷؍ یکروزہ بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں جن میں سے وہ ایک بھی نہیں ہارا ہے۔ 
ہندوستانی ٹیم راج کوٹ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں سات وکٹوں کی شکست کے بعد اس مقابلے میں اترے گی۔ اس میچ میں کے ایل راہل کی ناٹ آؤٹ سنچری(۱۱۲) اور کپتان شبھ من گل کی شاندار نصف سنچری(۵۶)کے باوجود ہندوستان بلے بازی کے لئے سازگار وکٹ پر ۷؍ وکٹوں کے نقصان پر۲۸۴؍ رن ہی بنا سکا تھا۔ یہ اسکور ناکافی ثابت ہوا اور نیوزی لینڈ نے ۴۷ء۳؍ اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر ہدف بآسانی حاصل کر لیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: انڈر۱۹؍ورلڈ کپ: ہینل پٹیل کے ۵؍ شکار، ہندوستان نے امریکہ کو دبوچا

ڈیرل مچل نے شاندار ناٹ آؤٹ۱۳۱؍ رن بنا کر ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا اور ول ینگ (۸۷) کے ساتھ ۱۶۲؍ رن کی فیصلہ کن شراکت قائم کی۔ مچل اس سیریز میں نیوزی لینڈ کے نمایاں ترین کھلاڑی رہے ہیں اور اب تک۲۱۵؍ رن بنا چکے ہیں جبکہ ہندوستان کی جانب سے کے ایل راہل۱۴۱؍ رن کے ساتھ بلے بازی میں سب سے آگے ہیں۔ 
ہندوستان کی گیندبازی، خاص طور پر اسپن شعبہ، اہم لمحات میں رن دینے کے باعث تنقید کی زد میں ہے۔ کلدیپ یادو اور رویندر جڈیجا پر بہتر کارکردگی کا دباؤ ہوگا، جبکہ عرشدیپ سنگھ کی ممکنہ شمولیت محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کے ساتھ سوئنگ کا ایک اہم آپشن فراہم کر سکتی ہے۔ 
دوسری جانب نیوزی لینڈ پچھلے میچ میں اپنی منظم گیندبازی کارکردگی سے پرجوش ہے، جس کی قیادت کرسچن کلارک نے کی، جنہوں نے درمیانی اوورز میں تین اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اگرچہ آخری اوورز میں مہمان ٹیم نے کچھ زیادہ رن دیے، تاہم مجموعی کارکردگی نے انہیں ہندوستان کی سرزمین پر ایک یادگار سیریز جیتنے کا حقیقی موقع فراہم کیا ہے۔ 
ہولکر کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ بلے بازوں کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، جہاں چھوٹی باؤنڈریز ہیں اور ون ڈے میچوں میں پہلی اننگز کا اوسط اسکور۳۱۶؍ رن ہے۔ اگرچہ ماضی میں پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیموں کو کامیابی حاصل رہی ہے، تاہم حالیہ مقابلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدف کے تعاقب میں کھیلنے والی ٹیموں کو برتری ملی ہے جس کی وجہ سے ٹاس نہایت اہم ہو گیا ہے۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم سے توقع ہے کہ وہ پہلے گیندبازی کا فیصلہ کرے گی۔ موسمی حالات کرکٹ کے لیے موزوں رہنے کی توقع ہے۔ دن بھر دھوپ رہے گی، درجہ ٔ حرارت تقریباً۲۶؍ ڈگری سلسیس کے آس پاس ہوگا، نمی کم رہے گی اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ فیصلہ کن مقابلے سے قبل بہترین گھریلو ریکارڈ کی بنیاد پر ہندوستان کو مضبوط دعویدار قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں اس کی جیت کا امکان۷۸؍ فیصد بتایا جا رہا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کے امکانات۲۲؍ فیصد ہیں۔ ہندوستان کی فتح کی صورت میں میزبان ٹیم سیریز۱-۲؍سے اپنے نام کر لے گی، جب کہ نیوزی لینڈ تاریخ کا رخ موڑتے ہوئے ایک یادگار کامیابی درج کرنے کی امید رکھے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK